اسلامی اخلاقیات کی روح اگر کسی ایک لفظ میں سمائی ہوئی نظر آتی ہے تو وہ لفظ "وسطیت” ہے۔ وسطیت کا مطلب محض نرمی یا میانہ روی نہیں، بلکہ ایسا متوازن طرز فکر ہے جو انسان کو حق اور فرض، اختیار اور جواب دہی، آزادی اور نظم، سب کے درمیان درست نسبت قائم کرنا سکھاتا ہے۔ میری رائے میں آج پاکستان جیسے معاشرے کو سب سے زیادہ اسی اخلاقی توازن کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں اکثر مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ لوگ انصاف کا نام نہیں جانتے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انصاف کو اپنے مفاد کے مطابق سمجھتے ہیں۔ کوئی صرف اپنے حقوق کی بات کرتا ہے اور ذمہ داری بھول جاتا ہے، کوئی ذمہ داری کے نام پر دوسروں کے حقوق دبا دیتا ہے۔ اسلام دونوں رویوں کو رد کرتا ہے۔ قرآن کا واضح اصول ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔ یہی وہ بنیاد ہے جو ایک مہذب، پائیدار اور بااعتماد معاشرہ کھڑا کرتی ہے۔
وسطیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ فرد کی عزت بھی محفوظ رہے اور جماعت کا نظم بھی قائم رہے۔ اگر انسان صرف اپنی آزادی کو اصل سمجھے تو معاشرہ خود غرضی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگر صرف اجتماعی مفاد کے نام پر فرد کو کچل دیا جائے تو ظلم جنم لیتا ہے۔ اسلامی اخلاقیات اس کشمکش کا حل توازن میں پیش کرتی ہیں۔ ایک مسلمان کو اپنے حقوق مانگنے کا حق ہے، لیکن اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے پڑوسی، اس کے اہل خانہ، اس کے ساتھی شہری، بلکہ ریاست کے بھی اس پر کچھ حقوق ہیں۔ اسی طرح ریاست کو قانون نافذ کرنے کا حق ہے، مگر اس کے ساتھ عدل، شفافیت اور غیر جانب داری کی ذمہ داری بھی لازم ہے۔ میرے نزدیک وسطیت کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ یہ کسی ایک فریق کو مطلق طاقت نہیں دیتی، بلکہ ہر طاقت کے ساتھ ایک اخلاقی قید جوڑ دیتی ہے۔
پاکستان میں انتہا پسندی صرف مذہبی شکل میں نہیں آتی، یہ سماجی، سیاسی اور معاشی رویوں میں بھی نظر آتی ہے۔ کہیں حقوق کے نام پر بدزبانی اور انتشار ہے، کہیں نظم کے نام پر جبر اور خاموشی مسلط کی جاتی ہے۔ کہیں مذہب کو سختی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، کہیں اعتدال کے نام پر اصول ہی بے معنی بنا دیے جاتے ہیں۔ وسطیت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان زندہ راستہ ہے۔ یہ نہ بے حسی ہے، نہ کمزوری، نہ مصلحت پرستی۔ بلکہ یہ اصولی اعتدال ہے، جس میں حق بات بھی کہی جاتی ہے اور اس کے طریقے میں بھی انصاف رکھا جاتا ہے۔ اگر انصاف میں وسطیت نہ ہو تو قانون محض سختی بن جاتا ہے۔ اور اگر وسطیت میں انصاف نہ ہو تو اعتدال محض سستی اور سمجھوتا بن کر رہ جاتا ہے۔ اس لیے اسلامی اخلاقیات میں دونوں کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔
قرآن کی ہدایت، خاص طور پر سورۃ النساء، آیت 58، ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انصاف ایک روحانی فریضہ بھی ہے اور سماجی ذمہ داری بھی۔ امانت صرف مال یا منصب نہیں، بلکہ اختیار، علم، رائے، ووٹ، فیصلہ اور اثر و رسوخ بھی امانت ہیں۔ جب کوئی جج، استاد، والدین، عالم، صحافی، افسر یا سیاست دان اپنے دائرے میں فیصلے کرتا ہے تو وہ صرف ایک انتظامی کام نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ امانت ادا کر رہا ہوتا ہے۔ میری رائے میں پاکستان کے بہت سے بحران اسی وقت بڑھتے ہیں جب امانت کا تصور کمزور ہو جاتا ہے۔ منصب خدمت کے بجائے غلبے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ حق تلفی کو چالاکی سمجھا جاتا ہے۔ سفارش اور جانبداری انصاف پر حاوی ہو جاتی ہیں۔ وسطیت کا اصول اس بگاڑ کو روک سکتا ہے، کیونکہ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ ہر حق کے ساتھ ایک فرض اور ہر اختیار کے ساتھ ایک حساب بھی جڑا ہوا ہے۔
معاشی میدان میں بھی وسطیت اور انصاف کا تعلق بہت گہرا ہے۔ اسلام نجی ملکیت کو مانتا ہے، تجارت کو جائز قرار دیتا ہے، محنت کے اجر کو حق سمجھتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ ذخیرہ اندوزی، استحصال، دھوکا، سودی ظلم اور کمزور کی حق تلفی کو رد کرتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں چند ہاتھوں میں دولت جمع ہوتی جائے اور اکثریت محرومی کا شکار رہے، وہاں امن اور ہم آہنگی قائم نہیں رہ سکتی۔ اسی طرح اگر محنت، قابلیت اور دیانت کی قدر نہ ہو تو لوگ قانون اور اخلاق دونوں سے بدظن ہو جاتے ہیں۔ وسطیت کا تقاضا یہ ہے کہ معاشی پالیسی میں ترقی بھی ہو اور انصاف بھی، منافع بھی ہو اور سماجی ذمہ داری بھی، ریاستی نگرانی بھی ہو اور ناجائز مداخلت نہ ہو۔ پاکستان میں اگر اقتصادی فیصلے اسی اخلاقی توازن کے ساتھ کیے جائیں تو استحصال، محرومی اور شکایت کے کئی دروازے بند ہو سکتے ہیں۔
سیاسی اور ریاستی سطح پر وسطیت کا مطلب یہ ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو، ادارے طاقت کے تابع نہ ہوں، اور شہریوں کو اپنی آواز رکھنے کا حق بھی ملے اور قومی نظم کو نقصان پہنچانے کی اجازت بھی نہ ہو۔ ایک معتدل اسلامی اخلاقی نظام کسی خاص گروہ، زبان، مسلک یا طبقے کو فوقیت نہیں دیتا۔ وہ انصاف کو شخصیت یا وابستگی سے آزاد کر کے اصول سے جوڑتا ہے۔ پاکستان میں یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں سب سے زیادہ سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ جب قانون کمزور کے لیے سخت اور طاقت ور کے لیے نرم ہو تو ریاست کے اخلاقی جواز پر سوال اٹھتے ہیں۔ جب اختلاف کو دشمنی سمجھا جائے تو معاشرہ تقسیم ہوتا ہے۔ اور جب آزادی کو لاقانونیت بنا دیا جائے تو اجتماعی اعتماد ٹوٹتا ہے۔ وسطیت ان سب خرابیوں کا اخلاقی علاج ہے، کیونکہ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ انصاف صرف سزا دینے کا نام نہیں، بلکہ حق دار کو حق دینا، کمزور کو تحفظ دینا، اور اختلاف کو مہذب حدود میں سننا بھی انصاف کا حصہ ہے۔
سماجی زندگی میں بھی یہ اصول نہایت اہم ہے۔ خاندان، محلہ، درس گاہ، مسجد، بازار، میڈیا، ہر جگہ انسانوں کا باہمی رویہ ہی معاشرے کی اصل سمت بناتا ہے۔ اگر لوگ اپنے فرض پہچانیں تو بہت سے تنازعات پیدا ہی نہ ہوں۔ والدین اگر اولاد کے حقوق سمجھیں اور اولاد والدین کی عزت و خدمت کو ذمہ داری مانے، اساتذہ اگر علم کو امانت جانیں اور طلبہ سیکھنے کو سنجیدہ فریضہ سمجھیں، مذہبی قیادت اگر حکمت اور عدل کے ساتھ رہنمائی کرے اور عوام بھی تحقیق اور تحمل اختیار کریں، تو معاشرتی درجہ حرارت خود بخود کم ہو سکتا ہے۔ وسطیت یہی عملی اخلاق ہے۔ یہ محض کتابی تصور نہیں، بلکہ روزمرہ کے فیصلوں میں انصاف کو زندہ رکھنے کا طریقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اجتماعی ہم آہنگی اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب لوگ اپنے تعلقات میں اعتدال، سچائی اور انصاف کو اپناتے ہیں۔
آخر میں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں وسطیت اور انصاف کو محض مذہبی نعرہ نہیں بلکہ قومی اخلاقی منصوبہ بنانا ہوگا۔ ہمیں ایسی تربیت، ایسی قانون سازی، ایسی قیادت اور ایسا سماجی ماحول درکار ہے جہاں حقوق کا مطالبہ بھی ذمہ داری کے شعور کے ساتھ ہو۔ اسلام کا مطلوب معاشرہ وہ نہیں جہاں صرف قانون موجود ہو، بلکہ وہ ہے جہاں قانون کے پیچھے اخلاق بھی زندہ ہو۔ وسطیت انصاف کو زندگی کے قریب لاتی ہے، اسے محض عدالت یا کتاب تک محدود نہیں رہنے دیتی۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ نہ حق سے تجاوز ہو، نہ فرض سے فرار۔ میری نظر میں یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو انتہا، محرومی، جانبداری اور بداعتمادی سے نکال کر ایک زیادہ منصفانہ، متوازن اور پائیدار معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔ جب حقوق اور ذمہ داریاں ایک ساتھ سمجھی جائیں، تب ہی انصاف واقعی زندہ ہوتا ہے۔
Author
-
View all posts
ڈاکٹر حمزہ خان نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، اور یورپ سے متعلق عصری مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور لندن، برطانیہ میں مقیم ہے۔