ہر سال 22 مارچ کو عالمی یوم آب ہمیں ایک سادہ مگر بنیادی سچ یاد دلاتا ہے، پانی صرف قدرتی وسیلہ نہیں، زندگی کا حق ہے۔ اقوام متحدہ اس دن کو اسی لیے مناتی ہے کہ دنیا یہ نہ بھولے کہ محفوظ پانی اور صفائی تک رسائی انسانی وقار، صحت، برابری اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ 2026 کے عالمی مباحثے میں بھی یہی نکتہ نمایاں ہے کہ جب پانی گھر کے قریب، محفوظ اور قابل اعتماد ہو تو خاندان زیادہ محفوظ ہوتے ہیں، بچوں کی تعلیم بہتر ہوتی ہے، اور معاشرے زیادہ مضبوط بنتے ہیں۔ یہی اصول جنوبی ایشیا میں کہیں زیادہ گہرا معنی رکھتا ہے، کیونکہ یہاں دریا صرف جغرافیہ نہیں بناتے، ریاستوں کی معیشت، خوراک، توانائی اور سماجی استحکام بھی انہی کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔
اسی تناظر میں معاہدۂ سندھ طاس کی اہمیت محض سفارتی نہیں، تہذیبی اور انسانی بھی ہے۔ 1960 میں طے پانے والا یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے استعمال کے لیے ایک ایسا قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ بنا جس نے دہائیوں کی سیاسی کشیدگی کے باوجود ایک بنیادی نظم قائم رکھا۔ ورلڈ بینک، جو اس معاہدے کا دستخط کنندہ بھی ہے، اسے دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی انتظامی بندوبستوں میں شمار کرتا ہے، کیونکہ اس نے تنازعات کے باوجود آبپاشی اور پن بجلی کی منصوبہ بندی کے لیے ایک قابل عمل فریم ورک مہیا کیا۔ ایسے معاہدے کاغذی نہیں ہوتے، یہ وقت کے ساتھ عوامی تحفظ کی دیوار بن جاتے ہیں۔ جب جنگی ماحول میں بھی دریا بہتے رہیں اور نہریں چلتی رہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قانون نے سیاست کے شعلوں کے بیچ بھی کچھ نہ کچھ انسانیت بچا کر رکھی۔
اسی لیے بھارت کا اپریل 2025 میں یہ اعلان کہ معاہدۂ سندھ طاس کو فوری اثر سے معطل حالت میں رکھا جائے گا، محض ایک سخت سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک خطرناک نظیر ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے سرکاری بیان میں صاف کہا گیا کہ یہ معاہدہ فوری طور پر ابیئنس میں رکھا جائے گا۔ اس ایک قدم نے پورے خطے میں یہ سوال کھڑا کر دیا کہ کیا ایک بالا دستی رکھنے والی ریاست کسی مشترک دریا کے قانونی بندوبست کو یک طرفہ سیاسی فیصلے سے غیر مؤثر بنا سکتی ہے۔ اگر اس سوال کا جواب ہاں میں دیا گیا تو پھر تنازع صرف دو ریاستوں کے درمیان نہیں رہے گا، اس کا بوجھ نیچے رہنے والی آبادیوں، کسانوں، شہروں، اور غریب خاندانوں پر پڑے گا، جو نہ مذاکرات کی میز پر ہوتے ہیں اور نہ جنگی بیانات میں ان کا ذکر آتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ خاص طور پر اس لیے سنگین ہے کہ دریائے سندھ کا نظام اس کی زرعی زندگی کی شہ رگ ہے۔ ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے زرعی ادارے کے مواد میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کی غذائی سلامتی اور معیشت کے مختلف شعبوں کے لیے سندھ طاس آبپاشی نظام مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ آبپاشی پاکستان کی زرعی پیداوار کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور کئی مطالعات یہ بھی بتاتی ہیں کہ قابل کاشت زمین اور زرعی پیداوار کا بہت بڑا حصہ اسی پر منحصر ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہاں پانی صرف فصل اگانے کے لیے نہیں، پورے دیہی سماج کے چلنے کے لیے درکار ہے۔ نہروں کے شیڈول، بیج بونے کے اوقات، پانی کی تقسیم، اور فصل کی امید، سب کچھ اسی یقین پر قائم ہے کہ دریا کے بہاؤ کا ایک تسلسل موجود رہے گا۔ اگر یہی یقین ٹوٹ جائے تو نقصان صرف کھیت میں نہیں ہوتا، منڈی میں بھی ہوتا ہے، گھر میں بھی، اور قومی معیشت میں بھی۔
یہاں انسانی سلامتی کا مفہوم پوری شدت سے سامنے آتا ہے۔ پانی کی غیر یقینی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کسی نہر میں بہاؤ کم یا زیادہ ہو گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسان اگلی فصل کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پائے گا، مزدور کو کام کم ملے گا، خوراک کی قیمت بڑھے گی، اور غریب گھرانے سب سے پہلے اپنے کھانے کے معیار پر سمجھوتہ کریں گے۔ جب آبپاشی کمزور ہوتی ہے تو فصلوں کی پیداوار اور تنوع دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ پھر یہی بحران گھریلو سطح پر غذائی کمی، قرض، بے یقینی، اور سماجی دباؤ میں بدل جاتا ہے۔ جو لوگ پانی کے تنازعے کو صرف خارجہ پالیسی کا مسئلہ سمجھتے ہیں، وہ دراصل اس کی انسانی قیمت کو سمجھ ہی نہیں رہے۔ ایک معاہدے کی کمزوری لاکھوں گھروں کی تھالی، بچوں کی غذا، اور دیہی معیشت کے اعتماد کو کمزور کر سکتی ہے۔
پانی کا سوال صرف خوراک تک محدود نہیں رہتا، یہ صحت اور شہری زندگی تک پھیل جاتا ہے۔ محفوظ اور قابل اعتماد پانی پینے، صفائی، سینی ٹیشن، اسکولوں، ہسپتالوں اور روزمرہ صحت عامہ کی بنیادی شرط ہے۔ اقوام متحدہ مسلسل یہ یاد دلاتی ہے کہ محفوظ پانی اور سینی ٹیشن کی کمی بیماریوں، عدم مساوات، اور انسانی کمزوری کو بڑھاتی ہے۔ اس لیے جب کسی مشترکہ دریا کے بارے میں سیاسی غیر یقینی پیدا کی جاتی ہے تو اس کا مفہوم صرف اتنا نہیں ہوتا کہ ریاستی تعلقات خراب ہوئے ہیں، بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ عام آدمی کی صحت اور وقار کو غیر یقینی کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ پانی کا نظم بگڑنے لگے تو سب سے پہلے شور ایوانوں میں نہیں، بستیوں میں سنائی دیتا ہے۔
اس ساری بحث کو آج کے موسمی حالات سے الگ کر کے دیکھنا حقیقت سے فرار ہوگا۔ عالمی موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ایشیا عالمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دو گنا رفتار سے گرم ہو رہا ہے، گلیشیئر پگھلاؤ تیز ہو رہا ہے، اور سیلاب اور خشک سالی زندگیوں اور معیشتوں دونوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ گلیشیئر کے بارے میں تازہ عالمی انتباہات یہ بھی بتاتے ہیں کہ برفانی ذخائر کا تیزی سے کم ہونا طویل مدتی آبی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ ایسے وقت میں آبی تعاون کو کمزور کرنا محض غلطی نہیں، دور اندیشی کی کھلی نفی ہے۔ جب موسم غیر متوقع ہو، بارشیں بے ترتیب ہوں، اور سیلاب اور خشک سالی دونوں بڑھ رہے ہوں، تو دریا کے بارے میں اعتماد، معلومات کی شراکت، اور معاہداتی پابندی پہلے سے زیادہ ضروری ہو جاتی ہے۔
قانونی سطح پر بھی یہ معاملہ معمولی نہیں۔ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 26 میں اصول واضح ہے کہ ہر نافذ العمل معاہدہ فریقین پر لازم ہوتا ہے اور اسے نیک نیتی سے پورا کیا جانا چاہیے۔ یہی اصول بین الاقوامی معاہداتی نظام کی بنیاد ہے۔ اگر ریاستیں جب چاہیں مشترکہ دریا سے متعلق پابند معاہدوں کو سیاسی دباؤ کے آلے میں بدل دیں تو پھر قانون کی اصل روح ہی مجروح ہو جاتی ہے۔ پاکستان جیسے نچلے کنارے پر واقع ملک کے لیے معاہدے کی پابندی طاقت کے مقابلے میں ایک قانونی ڈھال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاہدۂ سندھ طاس کا دفاع دراصل صرف پانی کا دفاع نہیں، بلکہ اصول، انصاف، اور ایک ایسی عالمی ترتیب کا دفاع ہے جس میں طاقت کے بجائے قانون کو فوقیت ملنی چاہیے۔
عالمی یوم آب ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا دنیا واقعی پانی کو حق سمجھتی ہے، یا صرف نعرہ۔ اگر پانی حق ہے تو پھر اس کے بہاؤ کو سیاسی داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا۔ اگر پائیدار ترقی واقعی عالمی وعدہ ہے تو پھر ایسے معاہدوں کو کمزور کرنا قبول نہیں ہونا چاہیے جو کروڑوں انسانوں کی خوراک، روزگار، صحت اور سماجی استحکام کی ضمانت بنتے ہیں۔ پاکستان کے لیے معاہدۂ سندھ طاس صرف ایک سفارتی دستاویز نہیں، روزمرہ بقا کا معاہدہ ہے۔ اس کی پاسداری دراصل کسان کے اعتماد، شہری کے پانی، بچے کی غذا، اور پورے معاشرے کے مستقبل کی پاسداری ہے۔ پانی کو ہتھیار بنانے کی سیاست شاید وقتی شور پیدا کر دے، مگر تاریخ آخرکار انہی اصولوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے جو زندگی کو بچاتے ہیں، اسے بندک نہیں بناتے۔
Author
-
View all posts
ظہیرال خان ایک مضبوط تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے ساتھ، وہ بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔