Nigah

پاکستان میں فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی

[post-views]

 

پاکستان کی فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کا اختتام بظاہر ایک بڑی خبر ہے، مگر اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت نے کتنے ڈالر اکٹھے کیے، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس عمل سے عام صارف کی زندگی واقعی بدلے گی۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے تقریباً 597.2 میگا ہرٹز اسپیکٹرم چھ بینڈز میں پیش کیا، جن میں سے 480 میگا ہرٹز فروخت ہوا اور مجموعی آمدن 507 ملین ڈالر رہی۔ جاز نے 190 میگا ہرٹز، یوفون نے 180 میگا ہرٹز اور زونگ نے 110 میگا ہرٹز حاصل کیا۔ یہ اعداد و شمار خود بتاتے ہیں کہ ملک نے بالآخر ایک ایسے مرحلے میں قدم رکھا ہے جس کا انتظار برسوں سے ہو رہا تھا۔

میری رائے میں اس نیلامی کی سب سے بڑی خوبی محض مالیاتی کامیابی نہیں، بلکہ اس کا ادارہ جاتی تاثر ہے۔ پی ٹی اے نے بین الاقوامی مشیر NERA کے ساتھ مل کر الیکٹرانک آکشن سسٹم کے ذریعے یہ عمل مکمل کیا، نتائج ہر مرحلے پر ظاہر کیے گئے، اور پورے عمل کو شفافیت کے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں پالیسی اور عملدرآمد کے درمیان اکثر فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے، شفاف طریقہ کار خود ایک مثبت اشارہ ہے۔ سرمایہ کار، آپریٹر اور صارف تینوں یہی دیکھتے ہیں کہ قواعد واضح ہوں اور میدان برابر ہو۔

تاہم صرف شفاف نیلامی کافی نہیں ہوتی۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اسپیکٹرم کی تقسیم آپریٹروں کو کس درجے کی تکنیکی صلاحیت دیتی ہے۔ جاز نے کم، درمیانی اور بلند نوعیت کے بینڈز میں نسبتاً متوازن پورٹ فولیو حاصل کیا، جس سے اسے کوریج اور کیپیسٹی دونوں میں برتری مل سکتی ہے۔ یوفون نے 3500 میگا ہرٹز بینڈ میں 120 میگا ہرٹز کا بڑا حصہ لیا، جو شہری علاقوں میں تیز رفتار فائیو جی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ زونگ نے 2600 اور 3500 میگا ہرٹز پر توجہ دے کر ایک نسبتاً مرکوز حکمت عملی اپنائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب مقابلہ صرف اشتہار بازی کا نہیں رہے گا، بلکہ اصل آزمائش نیٹ ورک ڈیزائن، سائٹ اپ گریڈ، فائبرائزیشن اور صارف کے حقیقی تجربے میں ہوگی۔

یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان کا ٹیلی کام بازار پہلے ہی بہت بڑا ہو چکا ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق ملک میں 200 ملین سے زیادہ ٹیلی کام سبسکرائبرز اور 150 ملین سے زیادہ براڈبینڈ کنکشن موجود ہیں، جبکہ کوریج 92 فیصد سے اوپر جا چکی ہے۔ ایسی صورت میں اسپیکٹرم کی توسیع کوئی عیش نہیں، بلکہ ضرورت ہے۔ جب اتنے بڑے پیمانے پر ڈیٹا استعمال ہو رہا ہو تو پرانا ڈھانچہ جلد یا بدیر سانس پھولنے لگتا ہے۔ فائیو جی اسی دباؤ کو کم کرنے کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے محض بڑے شہروں کی نمائش تک محدود نہ رکھا جائے۔

لیکن یہاں ایک احتیاط بہت ضروری ہے۔ حکومت اور متعلقہ حکام کی جانب سے یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ فائیو جی سروسز کا آغاز 2026 کے وسط کے آس پاس بڑے شہروں سے مرحلہ وار ہو سکتا ہے، ابتدا اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں سے متوقع ہے۔ یہ منصوبہ معقول ہے، کیونکہ ہر ملک فائیو جی کو پہلے زیادہ آبادی اور زیادہ استعمال والے مراکز میں لاتا ہے۔ مگر اگر یہ مرحلہ بہت طویل ہو گیا تو وہی پرانی شکایت جنم لے گی کہ پاکستان میں نئی ٹیکنالوجی پہلے اشرافی شہری جزائر تک پہنچتی ہے، عوامی پاکستان تک نہیں۔ اس لیے مرحلہ وار آغاز قابل قبول ہے، مگر اس کے ساتھ واضح قومی روڈ میپ بھی لازمی ہونا چاہیے۔

میری نظر میں اس نیلامی کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ صرف فائیو جی کے بارے میں نہیں۔ 2600 میگا ہرٹز اور دیگر بینڈز میں نئی گنجائش 4G کے معیار کو بھی بہتر بنا سکتی ہے۔ پاکستان کے عام صارف کے لیے آج بھی اصل مسئلہ کئی جگہوں پر کال ڈراپ، کمزور سگنل، غیر مستقل ڈیٹا رفتار اور نیٹ ورک ازدحام ہے۔ اگر فائیو جی کے نام پر صرف چند پوش علاقوں میں شاندار رفتار دکھا دی گئی لیکن 4G کا عمومی تجربہ کمزور ہی رہا، تو یہ منصوبہ سیاسی طور پر نمایاں مگر سماجی طور پر محدود ثابت ہوگا۔ کامیابی تب ہوگی جب عام آدمی یہ محسوس کرے کہ موبائل انٹرنیٹ واقعی بہتر ہوا ہے۔

اقتصادی اعتبار سے بھی اس پیش رفت کی اہمیت کم نہیں۔ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، کلاؤڈ سروسز، مصنوعی ذہانت، آن لائن کاروبار، ریموٹ ورک، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور برآمدی آئی ٹی خدمات کو بہتر نیٹ ورک ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی اے خود اپنے بیان میں کہہ چکا ہے کہ یہ نیلامی ڈیجیٹل معیشت کو تیز کرے گی اور ملک کو اگلی نسل کی موبائل سروسز کے لیے تیار کرے گی۔ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں، مگر ایک شرط کے ساتھ، نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ مقامی ڈیجیٹل ایکو سسٹم بھی مضبوط کیا جائے۔ اگر صرف رفتار بڑھی لیکن مقامی ایپس، ڈیٹا سینٹرز، سائبر سکیورٹی اور کاروباری ضابطے کمزور رہے، تو مکمل فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔

یہاں ریاست کے لیے سب سے بڑا امتحان آمدن نہیں بلکہ عملدرآمد ہے۔ 507 ملین ڈالر سرکاری خزانے کے لیے اچھی خبر ہے، مگر اس رقم سے زیادہ اہم وہ سرمایہ کاری ہے جو آئندہ نیٹ ورک، ٹاورز، فائبر بیک ہال، توانائی، آلات اور سروس معیار میں لگے گی۔ پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیوں پر ٹیکس، درآمدی لاگت، بجلی کے مسائل اور ریگولیٹری پیچیدگیاں پہلے ہی دباؤ بڑھاتی ہیں۔ اگر ان رکاوٹوں کو کم نہ کیا گیا تو اسپیکٹرم خریدنے والی کمپنیاں کاغذ پر طاقت ور اور زمین پر محتاط رہیں گی۔ فائیو جی کا فائدہ صرف لائسنس سے نہیں نکلتا، اس کے لیے دوستانہ کاروباری ماحول بھی چاہیے۔

اسی لیے میں اس نیلامی کو خوش آئند تو سمجھتا ہوں، مگر غیر مشروط کامیابی نہیں کہوں گا۔ یہ پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ موقع ہے۔ ایک طرف ملک کے پاس بڑا صارف بازار، بڑھتا ہوا براڈبینڈ استعمال اور ڈیجیٹل معیشت کی واضح ضرورت موجود ہے، دوسری طرف اعتماد کا بحران، بنیادی ڈھانچے کی کمی اور شہری و دیہی فرق جیسے مسائل بھی سامنے ہیں۔ اگر پالیسی ساز اس مرحلے کو صرف کامیاب تقریب سمجھ کر آگے بڑھ گئے تو چند برس بعد ہم پھر رفتار، معیار اور رسائی کی انہی شکایات پر کھڑے ہوں گے۔

آخر میں میرا واضح مؤقف یہ ہے کہ پاکستان نے فائیو جی کی سمت درست قدم اٹھایا ہے، اور یہ قدم دیر سے سہی مگر ضروری تھا۔ اب اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اسلام آباد، لاہور، کراچی یا دیگر بڑے مراکز سے نکل کر یہ ٹیکنالوجی صنعتی زونز، تعلیمی اداروں، چھوٹے شہروں، شاہراہوں اور کم خدمت یافتہ علاقوں تک پہنچے۔ فائیو جی کی اصل قدر صرف تیز ویڈیو یا کم لیٹنسی نہیں، بلکہ وہ معاشی اور سماجی تبدیلی ہے جو بہتر کنیکٹیویٹی سے پیدا ہوتی ہے۔ نیلامی مکمل ہو چکی ہے، اب امتحان شروع ہوا ہے۔

Author

  • ڈاکٹر اکرام احمد

    اکرام احمد یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویٹ ہیں۔ باتھ یونیورسٹی میں، جہاں ان کی تحقیق تنازعات کے حل، عالمی حکمرانی، بین الاقوامی سلامتی پر مرکوز ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی پس منظر اور عالمی امور میں گہری دلچسپی کے ساتھ، اکرام نے مختلف تعلیمی فورمز اور پالیسی مباحثوں میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کا کام بین الاقوامی تعلقات کی حرکیات اور عصری جغرافیائی سیاسی مسائل پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔