پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کے لیے یقیناً ایک مشکل خبر ہے۔ مہنگائی کے دباؤ میں یہ فیصلہ فوری طور پر غیر مقبول دکھائی دیتا ہے، کیونکہ ایندھن مہنگا ہو تو ٹرانسپورٹ، خوراک، صنعت اور روزمرہ زندگی سب متاثر ہوتے ہیں۔ لیکن ریاستی فیصلے ہمیشہ صرف آج کی راحت کو دیکھ کر نہیں کیے جا سکتے۔ بعض اوقات حکومت کو ایسا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے جو وقتی طور پر تکلیف دہ ہو، مگر مستقبل میں بڑے بحران سے بچا لے۔ پاکستان کا حالیہ فیصلہ بھی اسی نوعیت کا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو تو مقامی قیمتوں کو حقیقت کے قریب رکھنا مالی نظم و ضبط کا حصہ بنتا ہے، نہ کہ صرف ایک انتظامی کارروائی۔
اس فیصلے کی اصل اہمیت اس وقت سمجھ آتی ہے جب ہم سری لنکا کے تجربے کو سامنے رکھتے ہیں۔ 2022 میں سری لنکا نے ایک ایسی معاشی تباہی دیکھی جس نے پورے خطے کو چونکا دیا۔ وہاں غیر حقیقت پسندانہ سبسڈیز، کمزور مالی نظم، ٹیکس میں نرمی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر مسلسل دباؤ نے مل کر معیشت کو دیوار سے لگا دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ درآمدات رک گئیں، ایندھن نایاب ہو گیا، لمبی قطاریں لگیں، بجلی کے بحران نے شدت اختیار کی، اور مہنگائی تقریباً 70 فیصد کے قریب پہنچ گئی۔ سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ زرمبادلہ کے ذخائر گھٹتے گھٹتے صرف 50 ملین ڈالر تک رہ گئے۔ یہ محض ایک معاشی مسئلہ نہیں تھا، یہ ریاستی ناکامی کا منظر تھا۔
پاکستان کی معیشت کی ساخت کو دیکھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایندھن پر بڑے پیمانے کی سبسڈی کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔ ملک اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 80 سے 85 فیصد درآمد کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو تو اس کا براہ راست اثر پاکستان کے درآمدی بل پر پڑتا ہے۔ اگر حکومت ایسے وقت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر کم رکھے، تو فرق قومی خزانے سے ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہ فرق بظاہر عوامی ریلیف لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسا بوجھ ہوتا ہے جو بجٹ خسارہ بڑھاتا ہے، مالیاتی نظام کو کمزور کرتا ہے، اور آخرکار زرمبادلہ کے ذخائر کو تیزی سے چاٹ جاتا ہے۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ عوام کو ریلیف کیوں نہیں دیا گیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ریلیف کس قیمت پر دیا جائے۔ اگر آج حکومت چند ہفتوں یا چند مہینوں کے لیے سستا پٹرول دے دے، مگر اس کے بدلے ملک کے ذخائر خطرناک حد تک گر جائیں، تو کل نہ پٹرول بچے گا نہ ریلیف۔ اس وقت پاکستان کے پاس 16.3 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں، اور ان ذخائر کی حفاظت صرف ایک تکنیکی مالیاتی ہدف نہیں بلکہ قومی بقا کا معاملہ ہے۔ یہی ذخائر درآمدات کے لیے ڈھال بنتے ہیں، کرنسی پر اعتماد برقرار رکھتے ہیں، اور بیرونی ادائیگیوں کا نظام چلانے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کو بچانا سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری ہے۔
سستے ایندھن کی سیاست ہمیشہ دلکش لگتی ہے، کیونکہ اس کا فوری فائدہ نظر آتا ہے۔ حکومتیں اکثر عوامی غصہ کم کرنے کے لیے یہ راستہ اختیار کرتی ہیں۔ مگر اس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ پالیسی حقیقت کے بجائے تاثر پر چلتی ہے۔ جب عالمی قیمت زیادہ ہو اور مقامی قیمت مصنوعی طور پر کم رکھی جائے، تو حکومت دراصل معاشی سچائی کو چھپا رہی ہوتی ہے۔ یہ چھپاؤ زیادہ دیر نہیں چلتا۔ کسی نہ کسی مرحلے پر ادائیگی کرنی پڑتی ہے، اور تب قیمت صرف پٹرول کی نہیں بڑھتی بلکہ پوری معیشت ادا کرتی ہے۔ کرنسی کمزور ہوتی ہے، درآمدات متاثر ہوتی ہیں، قرض کا دباؤ بڑھتا ہے اور پھر وہی عوام زیادہ شدید مہنگائی اور قلت کا سامنا کرتے ہیں۔
پاکستان نے اس بار جو راستہ اختیار کیا، وہ عوامی جذبات کے لحاظ سے آسان نہیں تھا، مگر معاشی سمجھ بوجھ کے لحاظ سے درست دکھائی دیتا ہے۔ یہ اقدام دراصل اس اصول کو مانتا ہے کہ توانائی کی قیمتیں معیشت کے حساب سے طے ہونی چاہئیں، سیاسی خواہش کے مطابق نہیں۔ اگر حکومت عالمی قیمت بڑھنے کے باوجود مقامی قیمتیں نہ بڑھاتی، تو اسے بھاری سبسڈی دینی پڑتی۔ ماہرین معاشیات مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ ایسی سبسڈیز مالی خسارے کو بڑھاتی ہیں، قرض لینے کی ضرورت بڑھاتی ہیں، اور بیرونی ادائیگیوں کا توازن خراب کرتی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں پہلے ہی مالی گنجائش محدود ہے، ایسی غلطی بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔
اس فیصلے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے ملک میں پالیسی کی سنجیدگی کا اشارہ جاتا ہے۔ سرمایہ کار، قرض دہندہ ادارے اور بین الاقوامی مالیاتی شراکت دار صرف نعروں کو نہیں دیکھتے، وہ یہ دیکھتے ہیں کہ حکومت مشکل وقت میں کون سا راستہ چنتی ہے۔ اگر ایک ریاست بار بار حقیقت سے فرار اختیار کرے، تو اس کی مالی ساکھ کمزور ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر حکومت غیر مقبول مگر ذمہ دارانہ فیصلے کرتی ہے، تو یہ پیغام جاتا ہے کہ ملک بحران سے سیکھ رہا ہے اور نظم و ضبط کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ تاثر خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ معاشی استحکام صرف اندرونی معاملہ نہیں، بیرونی اعتماد سے بھی جڑا ہوتا ہے۔
البتہ یہ بھی درست ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا بوجھ صرف عوام پر ڈال کر حکومت بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ اگر ایندھن مہنگا کیا جا رہا ہے تو اس کے ساتھ کم آمدنی والے طبقوں کے لیے ہدفی ریلیف، ٹرانسپورٹ نظام میں بہتری، بجلی اور گیس کے شعبے میں اصلاحات، اور توانائی کے متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔ مالی نظم و ضبط کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست سماجی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائے۔ اصل دانش مندی یہ ہے کہ عمومی اور اندھی سبسڈی کے بجائے ہدفی مدد دی جائے، تاکہ قومی خزانہ بھی محفوظ رہے اور کمزور طبقے بھی ٹوٹنے نہ پائیں۔ یہی فرق ذمہ دار معاشی پالیسی اور محض سختی میں ہوتا ہے۔
آخر میں بات بہت سادہ ہے۔ مصنوعی طور پر سستا ایندھن وقتی سکون دے سکتا ہے، مگر اگر اس کے نتیجے میں ذخائر ختم ہو جائیں، درآمدات رک جائیں اور معیشت عدم استحکام کا شکار ہو جائے، تو وہ سکون دھوکا ثابت ہوتا ہے۔ سری لنکا نے اس دھوکے کی قیمت پوری قوم کے ساتھ ادا کی۔ پاکستان نے کم از کم اس مرحلے پر یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ اسی راستے پر نہیں جانا چاہتا۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے تکلیف دہ ضرور ہے، مگر اگر یہ قدم 16.3 ارب ڈالر کے ذخائر کو بچاتا ہے، مالی خسارے کو قابو میں رکھتا ہے اور ملک کو بڑے بحران سے دور رکھتا ہے، تو یہ ایک کڑوی مگر ضروری دوا ہے۔ معیشتیں جذبات سے نہیں، حقیقت سے چلتی ہیں۔
Author
-
View all postsڈاکٹر سید حمزہ حسیب شاہ ایک تنقیدی مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتے ہیں، خاص طور پر ایشیا اور جغرافیائی سیاست پر توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اردو میں اور علمی اور پالیسی مباحثوں میں فعال طور پر حصہ ڈالتا ہے۔