جنیوا میں 27 مارچ 2026 کو بلوچ نیشنل موومنٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ پروگرام میں محترمہ آنا لورینا ڈیلگاڈیلو پیریز کے ریمارکس ایک بار پھر اس مسئلے کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ بلوچستان کے بارے میں بین الاقوامی مباحثے میں اکثر مکمل تصویر پیش نہیں کی جاتی۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری یا غیر ارادی گمشدگیاں کے مینڈیٹ کا احترام کرتا ہے اور تمام خصوصی طریقۂ کار کے ساتھ تعمیری مکالمے کو اہمیت دیتا ہے۔ تاہم تعمیری مکالمے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ گفتگو حقائق، توازن اور تصدیق شدہ معلومات پر مبنی ہو۔ جب کسی حساس اور پیچیدہ صورتحال کو یک رخے بیانیے، غیر مصدقہ الزامات اور سیاسی طور پر متحرک دعوؤں کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے تو نہ صرف حقیقت مسخ ہوتی ہے بلکہ انسانی حقوق کے نام پر ایک خاص سیاسی ایجنڈا بھی تقویت پاتا ہے۔
بلوچستان پاکستان کا آئینی، تاریخی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حصہ ہے۔ اس حقیقت پر نہ اقوامِ متحدہ میں کوئی ابہام ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قانون میں۔ اس لیے بلوچستان کے حالات کو کسی ایسے زاویے سے پیش کرنا جس سے پاکستان کی خودمختاری یا علاقائی سالمیت پر سوال اٹھتا ہو، نہ صرف غلط ہے بلکہ بنیادی قانونی اصولوں سے بھی متصادم ہے۔ ہر خودمختار ریاست کی طرح پاکستان پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرے، امن عامہ برقرار رکھے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرے۔ بلوچستان میں ریاستی اقدامات کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے: یعنی داخلی قانون نافذ کرنے، انسدادِ دہشت گردی اور شہری سلامتی کے اقدامات کے طور پر، نہ کہ کسی من گھڑت استحصالی منصوبے کے طور پر۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بلوچستان پر بعض بین الاقوامی تبصروں میں دہشت گردی کے عنصر کو یا تو بہت کمزور انداز میں بیان کیا جاتا ہے یا تقریباً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان گزشتہ کئی برسوں سے منظم دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ جیسے گروہ عام شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں، سرکاری تنصیبات، ترقیاتی منصوبوں اور اقتصادی راہداری سے متعلق اہداف پر حملے کرتے رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف ریاستی اداروں کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ خوف، بدامنی اور عدم استحکام کو فروغ دینا بھی ہے۔ ایسے گروہوں کو محض “سیاسی مزاحمت” کے دائرے میں رکھ کر دیکھنا سنگین غلطی ہوگی۔ دہشت گردی کو اگر سیاسی شکایت کا نام دے دیا جائے تو پھر ہر پرتشدد گروہ اپنے لیے اخلاقی جواز تراش سکتا ہے، اور یہی وہ خطرناک راستہ ہے جس سے بین الاقوامی اداروں کو بچنا چاہیے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا: بعض تنظیمیں خود کو انسانی حقوق یا سیاسی نمائندگی کے پردے میں پیش کرتی ہیں، مگر ان کی زبان، ترجیحات اور عوامی مہمات کالعدم مسلح گروہوں کے بیانیے سے غیر معمولی مشابہت رکھتی ہیں۔ پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس بات پر سوال اٹھائے کہ آخر کیوں بعض پلیٹ فارمز پر دہشت گرد گروہوں سے وابستہ یا ہمدردی رکھنے والے حلقوں کے بیانیے کو بغیر ضروری چھان بین کے جگہ دی جاتی ہے۔ جب مسلح شدت پسندوں کو “شہید” کہا جائے، ریاستی کارروائیوں کے ہر پہلو کو بلا ثبوت “جبر” قرار دیا جائے، اور ہر لاپتا فرد کے دعوے کو خودکار طور پر ریاستی جرم کے طور پر پیش کیا جائے، تو یہ انسانی حقوق کی غیر جانب دار وکالت نہیں رہتی بلکہ ایک سیاسی مہم بن جاتی ہے۔
لاپتا افراد کا مسئلہ یقیناً حساس ہے اور اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ متاثرہ خاندانوں کے سوالات جائز ہیں، ان کے دکھ حقیقی ہیں، اور ریاست پر لازم ہے کہ ہر قابلِ اعتبار معاملے کی چھان بین کرے۔ لیکن اتنا ہی اہم یہ بھی ہے کہ ہر رپورٹ شدہ گمشدگی کو ازخود “جبری گمشدگی” قرار نہ دیا جائے۔ بعض معاملات میں افراد دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہو جاتے ہیں، بعض روپوش ہوتے ہیں، بعض قانونی حراست میں ہوتے ہیں، اور بعض کیسز میں بنیادی معلومات ہی نامکمل یا متضاد ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ایک بااختیار کمیشن قائم کر رکھا ہے جو ان معاملات کو قانونی طریقۂ کار، شہادتوں اور عدالتی نگرانی کے تحت دیکھتا ہے۔ یہ کہنا کہ پورا مسئلہ صرف ایک منظم ریاستی پالیسی کا نتیجہ ہے، ایک ایسی سادہ کاری ہے جو زمینی حقیقت کی پیچیدگی کو چھپا دیتی ہے۔
اسی طرح یہ تاثر بھی درست نہیں کہ پاکستان صرف سیکیورٹی کے زاویے سے بلوچستان کو دیکھ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں بحالی، ڈی ریڈیکلائزیشن، تعلیم، ہنر مندی اور سماجی بحالی کے اقدامات پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ نوجوانوں کو شدت پسند بیانیوں سے واپس لا کر معاشرے کا فعال حصہ بنایا جا سکے۔ اگر ان اقدامات میں خامیاں ہیں تو ان پر تنقید ہونی چاہیے، مگر انہیں یکسر نظر انداز کر دینا دیانت دارانہ رویہ نہیں۔ کسی بھی ریاست کی پالیسی کو اس کی مجموعی سمت، ادارہ جاتی اصلاحات اور قانونی دائرۂ کار کے ساتھ پرکھا جانا چاہیے، نہ کہ صرف مخالف سیاسی حلقوں کے بیانات کی بنیاد پر۔
مسئلے کا اصل تقاضا یہ ہے کہ انسانی حقوق اور انسدادِ دہشت گردی کو ایک دوسرے کی ضد کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ ایک ذمہ دار ریاست دونوں اہداف کو ساتھ لے کر چلتی ہے: شہری آزادیوں کا تحفظ بھی، اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی بھی۔ پاکستان سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ شفافیت میں اضافہ کرے، عدالتی نگرانی مضبوط بنائے، شکایات کے ازالے کے طریقۂ کار کو مؤثر کرے اور جہاں کہیں زیادتی ثابت ہو وہاں احتساب یقینی بنائے۔ مگر بین الاقوامی حلقوں سے بھی یہ توقع ہونی چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے متاثرین، شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں، حملوں میں مارے جانے والے مزدوروں اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے والے عام بلوچ شہریوں کی آواز کو نظرانداز نہ کریں۔
جنیوا جیسے فورمز پر اگر بلوچستان کے بارے میں صرف ایک ہی کہانی سنائی جائے، اور وہ بھی ایسی کہانی جس میں ریاست ہمیشہ ملزم اور شدت پسند ہمیشہ مظلوم دکھائی دیں، تو اس سے نہ انصاف کو فائدہ پہنچتا ہے اور نہ امن کو۔ اس طرح کے یک طرفہ بیانیے مسئلے کے حل میں مدد نہیں دیتے بلکہ تقسیم کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف یہی ہے کہ جائز سوالات ضرور اٹھائے جائیں، مگر ان کی بنیاد تصدیق شدہ شواہد، قانونی اصولوں اور مکمل تناظر پر ہونی چاہیے۔ پروپیگنڈا خواہ ریاستی ہو یا علیحدگی پسند، دونوں نقصان دہ ہیں۔ بلوچستان کے عوام کو نعروں، سیاسی تھیٹر اور بیرونی پلیٹ فارمز پر یک طرفہ تقریروں سے زیادہ ضرورت امن، ترقی، آئینی حقوق اور سچائی پر مبنی مکالمے کی ہے۔
آخرکار، بلوچستان کے مسئلے کا پائیدار حل نہ جذباتی نعروں میں ہے، نہ بین الاقوامی فورمز پر یک رخی تقاریر میں، اور نہ ہی دہشت گردی کے حقائق کو پسِ پشت ڈالنے میں۔ راستہ وہی ہے جو قانون، شفافیت، سیاسی شمولیت، ترقی اور دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل عزم سے ہو کر گزرتا ہے۔ پاکستان کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہنا چاہیے، مگر عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کے طریقۂ کار پر بھی لازم ہے کہ وہ کسی ایسے بیانیے کا حصہ نہ بنیں جو پیچیدہ حقیقت کو سادہ سیاسی مہم میں تبدیل کر دے۔ بلوچستان کو ہمدردی سے زیادہ دیانت دارانہ فہم کی ضرورت ہے، اور دیانت دارانہ فہم ہمیشہ مکمل تصویر سے شروع ہوتی ہے۔
Author
-
View all postsانیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل: