Nigah

سوشل میڈیا، افواہیں اور پاکستان کا قومی بیانیہ

[post-views]

آج کا دور صرف معلومات کی تیز ترسیل کا دور نہیں بلکہ تاثر، جذبات اور ردِعمل کی فوری تشکیل کا بھی زمانہ ہے۔ ایک موبائل فون، چند سوشل میڈیا ایپس اور چند سیکنڈ میں پھیلنے والی پوسٹس نے رائے عامہ کو پہلے سے کہیں زیادہ حساس اور غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب خطے میں ایران اسرائیل کشیدگی یا پاکستان افغانستان تعلقات میں تناؤ جیسی خبریں گردش کرتی ہیں تو ان کا اثر صرف سفارتی یا عسکری میدان تک محدود نہیں رہتا، بلکہ گھروں، گلیوں، تعلیمی اداروں اور عوامی ذہن تک پہنچ جاتا ہے۔ اس نئے ماحول میں سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا طاقتور ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس طاقت کا استعمال کون، کیسے اور کس مقصد کے لیے کر رہا ہے۔ اگر ذمہ داری ختم ہو جائے تو یہی پلیٹ فارمز معلومات کے بجائے اشتعال، شعور کے بجائے افواہ، اور اتحاد کے بجائے انتشار کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

پاکستان جیسے حساس جغرافیائی اور سیاسی ماحول رکھنے والے ملک میں غیر ذمہ دارانہ آن لائن رویہ محض ایک اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ بھی ہے۔ جب کوئی شہری ایران یا افغانستان سے متعلق غیر مصدقہ ویڈیوز، پرانی تصاویر، جھوٹے دعوے یا جذباتی تبصرے شیئر کرتا ہے تو وہ بظاہر ایک معمولی عمل محسوس ہوتا ہے، مگر اس کے اثرات بہت دور تک جاتے ہیں۔ ایک غلط خبر عوامی خوف میں اضافہ کر سکتی ہے، اشتعال انگیزی کو ہوا دے سکتی ہے، فرقہ وارانہ شکوک پیدا کر سکتی ہے اور ریاستی اداروں پر غیر ضروری دباؤ ڈال سکتی ہے۔ قومی یکجہتی کمزور ہو تو بیرونی کشیدگی اندرونی بے چینی میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک شیئر، ایک فارورڈ اور ایک تبصرہ محض ڈیجیٹل سرگرمی نہیں رہتا بلکہ سماجی ذمہ داری یا غیر ذمہ داری کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

انتہاپسند عناصر اس حقیقت کو عام شہریوں سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جدید دور میں ہر شخص کا موبائل اس کے ذہن تک رسائی کا دروازہ ہے۔ اسی لیے شدت پسند اور تخریبی حلقے سوشل میڈیا کو منظم انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ وہ مذہبی، فرقہ وارانہ، نسلی یا قومیتی جذبات کو بھڑکانے والی زبان اپناتے ہیں، آدھا سچ اور آدھا جھوٹ ملا کر ایسا بیانیہ تشکیل دیتے ہیں جس سے غصہ بڑھتا ہے، اعتماد ٹوٹتا ہے اور احتجاجی یا تصادمی فضا جنم لیتی ہے۔ بعض اوقات یہ عناصر بیرونی تنازعات کو اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے پاکستان کے اندر فوری ردِعمل لازم ہو، حالانکہ حقیقت زیادہ پیچیدہ اور سفارتی نوعیت کی ہوتی ہے۔ ان کا مقصد مسئلے کو سمجھانا نہیں بلکہ معاشرے کو تقسیم کرنا ہوتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ریاست اور عوام کے درمیان بدگمانی بڑھے، اداروں کی ساکھ متاثر ہو اور ملک داخلی طور پر کمزور دکھائی دے۔

یہی وجہ ہے کہ ذمہ دار آن لائن رویہ محض شخصی احتیاط نہیں بلکہ اجتماعی دفاع ہے۔ جب شہری کسی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرتے ہیں، ماخذ دیکھتے ہیں، تاریخ چیک کرتے ہیں اور جذباتی ہیجان سے بچتے ہیں تو وہ دراصل افواہ کے راستے میں بند باندھ رہے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ایران، افغانستان، سرحدی کشیدگی، مذہبی معاملات یا سلامتی سے متعلق مواد کے معاملے میں احتیاط ناگزیر ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر ویڈیو تازہ نہیں ہوتی، ہر دعویٰ درست نہیں ہوتا اور ہر نعرہ قومی مفاد کے مطابق نہیں ہوتا۔ بعض پوسٹس کا مقصد صرف لوگوں کو غصے میں لانا ہوتا ہے تاکہ وہ بغیر سوچے سمجھے ایک مخصوص بیانیے کا حصہ بن جائیں۔ ایسے میں خاموشی کبھی کمزوری نہیں ہوتی، بلکہ کئی مرتبہ دانشمندی ہوتی ہے۔ ہر بات پر فوری ردِعمل دینا شعور کی نہیں، بے قابو ماحول کی علامت ہے۔

قومی بیانیے کی ضرورت بھی اسی پس منظر میں زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ قومی بیانیے سے مراد کوئی یک رخا یا جبری سوچ نہیں، بلکہ ایک ایسی اجتماعی فہم ہے جو یہ طے کرے کہ اختلاف کے باوجود ملک کے استحکام، امن اور ادارہ جاتی نظم کو مقدم رکھا جائے گا۔ پاکستان کو اس وقت ایسے ڈیجیٹل ماحول کی ضرورت ہے جہاں جذبات کے بجائے ذمہ داری، اشتعال کے بجائے تحمل اور تقسیم کے بجائے اتحاد کو فروغ ملے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، سفارتی توازن قائم رکھنے اور امن کے حق میں مؤثر کردار ادا کرے تو ہمیں اپنے آن لائن رویوں کو بھی اسی مقصد کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ ریاستی ادارے جب کسی بحران کو سنبھال رہے ہوں تو اندرونِ ملک افواہوں کا طوفان ان کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ کر دیتا ہے۔ قومی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ ہم اداروں کو اضافی داخلی دباؤ میں مبتلا کرنے کے بجائے ان کے لیے فضا کو نسبتاً پرسکون رکھیں۔

یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر حب الوطنی صرف نعرے لگانے سے ثابت نہیں ہوتی۔ اصل حب الوطنی یہ ہے کہ آدمی ملک کے مفاد کو اپنی فوری جذباتی تسکین پر ترجیح دے۔ اگر کوئی پوسٹ لوگوں کو آپس میں لڑا رہی ہے، فرقہ واریت بڑھا رہی ہے، ریاستی ڈھانچے کے خلاف نفرت پیدا کر رہی ہے یا حساس حالات میں سڑکوں پر تصادم کی راہ ہموار کر رہی ہے تو اسے پھیلانا کسی طور قومی خدمت نہیں۔ تعمیری آن لائن گفتگو وہ ہے جو معلوماتی ہو، شائستہ ہو، تصدیق شدہ ہو اور بحران کو مزید بھڑکانے کے بجائے سمجھ بوجھ پیدا کرے۔ ایسے رویے سے نہ صرف داخلی امن مضبوط ہوتا ہے بلکہ دنیا کے سامنے پاکستان کی ساکھ بھی بہتر ہوتی ہے کہ یہ ایک سنجیدہ، ذمہ دار اور بالغ قوم ہے جو مشکل علاقائی حالات میں بھی جذباتی انتشار کا شکار نہیں ہوتی۔

آخرکار، ڈیجیٹل دنیا میں قومی سلامتی کی پہلی صف میں صرف ادارے نہیں بلکہ عام شہری بھی کھڑے ہیں۔ آج ہر صارف ایک غیر رسمی ناشر، مبصر اور اثرانداز بن چکا ہے۔ اسی لیے اس کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے فون کو انتشار کا ہتھیار بنائیں گے یا استحکام کا وسیلہ۔ اگر ہم نے سوشل میڈیا کو جذباتی جنگ کا میدان بننے دیا تو انتہاپسند عناصر کامیاب ہوں گے؛ لیکن اگر ہم نے اسے صبر، تحقیق، وحدت اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا تو یہی پلیٹ فارم قومی یکجہتی کا مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان کو صرف سرحدوں پر ہی نہیں، اسکرینوں پر بھی اتحاد درکار ہے۔ ایک ذمہ دار آن لائن برادری ہی وہ قوت ہے جو پروپیگنڈا، اشتعال اور تقسیم کے مقابلے میں ملک کے اندرونی امن، قومی اعتماد اور عالمی اعتبار کو مضبوط بنا سکتی ہے۔

Author

  • ڈاکٹر محمد سلیم

    محمد سلیم برطانیہ میں مقیم مصنف اور محقق ہیں جن کی اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ایک مضبوط علمی بنیاد ہے۔ اس کا کام طاقت اور حکمت عملی کی پیچیدگیوں کو تلاش کرتا ہے۔ وہ جغرافیائی سیاست، علاقائی معاملات، اور آج کی دنیا کو تشکیل دینے والے نظریات کے لیے ایک باریک عینک لاتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔