Nigah

شاہباز گل کا جھوٹا بیانیہ

[post-views]

پاکستان جیسے اہم ملک کی خارجہ پالیسی اور سفارتی تعلقات کو داخلی سیاسی پروپیگنڈے کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ خاص طور پر جب معاملہ خلیجی ممالک، ایران اور امریکہ جیسے حساس فریقوں سے متعلق ہو، تو ذمہ دارانہ گفتگو کی توقع کی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض سیاسی شخصیات اور ان کے حامی سفارتی معاملات کو بھی سنسنی، الزام تراشی اور گمراہ کن بیانیے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ شاہباز گل کا حالیہ طرزِ گفتگو بھی اسی افسوسناک رجحان کی ایک مثال ہے، جس میں انہوں نے معروف دانشور ولی نصر کے مؤقف کو غلط رنگ دے کر نہ صرف حقیقت کو مسخ کیا بلکہ پاکستان کے سفارتی وقار سے جڑے ایک نازک معاملے کو بھی سیاسی تماشہ بنانے کی کوشش کی۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ شاہباز گل نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ ولی نصر سے ایک ایسی بات منسوب کی جو انہوں نے کہی ہی نہیں۔ یہ دعویٰ کیا گیا کہ ولی نصر نے کہا تھا ایرانی وفد نے پاکستان آنے سے اس لیے انکار کیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یہ ایک جال ہے اور انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ یہ نہایت سنگین نوعیت کا الزام تھا کیونکہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ گویا پاکستان ایک قابلِ اعتماد سفارتی مقام نہیں رہا، یا یہ کہ یہاں کسی دوسرے ملک کے مفاد میں خفیہ چال کھیلی جا سکتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ولی نصر نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔

کرسچین امان پور کے ساتھ گفتگو میں ولی نصر کی بات بالکل مختلف تھی۔ انہوں نے یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ ایرانی قیادت ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتماد نہیں کرتی کیونکہ اس نے پہلے سے موجود جوہری معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔ یعنی بحث کا مرکز امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کے فقدان پر تھا، نہ کہ پاکستان کے بارے میں کسی سازشی یا توہین آمیز تصور پر۔ مگر شاہباز گل نے اسی بات کو توڑ مروڑ کر ایسا پیش کیا جیسے پاکستان کو کسی خفیہ منصوبے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہو۔ یہ محض غلطی نہیں، بلکہ ایک واضح تحریف ہے۔

سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر خارجہ امور میں اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو قومی مفاد کے خلاف جاتی ہے۔ پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات محض رسمی سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ ان میں معاشی تعاون، سرمایہ کاری، روزگار، ترسیلاتِ زر، دفاعی روابط اور علاقائی اعتماد جیسے بنیادی عناصر شامل ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی سیاستدان یا تبصرہ نگار بے بنیاد باتیں پھیلا کر یہ تاثر دے کہ پاکستان سفارتی اعتبار سے مشکوک کردار رکھتا ہے، تو اس کا نقصان صرف کسی حکومت یا جماعت کو نہیں بلکہ پورے ملک کو ہوتا ہے۔ اسی لیے ایسے بیانات کا محاسبہ ضروری ہے۔

اس واقعے میں سب سے نمایاں اور فیصلہ کن جواب ایران کی جانب سے سامنے آیا۔ جب ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے ایکس پوسٹ کے ذریعے واضح کیا کہ پاکستان آنے میں انہیں کبھی کوئی مسئلہ نہیں تھا، تو گویا جھوٹا بیانیہ زمین بوس ہو گیا۔ ایران نے صاف کہا کہ مسئلہ پاکستان نہیں تھا، بلکہ وہ امریکہ کی طرف سے بھیجی گئی تجاویز پر مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں تھے۔ اس وضاحت نے سارا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا۔ جو لوگ تالیاں بجا رہے تھے، انہیں معلوم ہو گیا کہ جس کہانی کو وہ سچ سمجھ کر پھیلا رہے تھے، وہ دراصل ایک سیاسی گھڑنت تھی۔ یہ لمحہ ان سب کے لیے شرمندگی کا باعث ہونا چاہیے تھا جو بغیر تحقیق کے اس دعوے کو سچ مان کر آگے بڑھا رہے تھے۔

یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ ہمارے سیاسی ماحول میں جھوٹ بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور سچ نسبتاً دیر سے اپنی جگہ بنا پاتا ہے۔ ایک کلپ، ایک ٹویٹ، یا ایک اشتعال انگیز جملہ لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ بعد میں آنے والی وضاحت یا تردید کو وہی توجہ نہیں ملتی۔ اسی خلا سے فائدہ اٹھا کر بعض عناصر سنسنی خیز اور گمراہ کن مواد کے ذریعے اپنا سیاسی اور مالی مفاد حاصل کرتے ہیں۔ یوٹیوب چینلز، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور خودساختہ تجزیہ نگار جھوٹ کو “اندر کی خبر” بنا کر پیش کرتے ہیں، اور عوام کے ایک حصے کو جذباتی ہیجان میں مبتلا رکھتے ہیں۔

یہ روش صرف سیاسی بددیانتی نہیں بلکہ فکری دیوالیہ پن کی علامت بھی ہے۔ جب دلیل کمزور ہو، تو جھوٹے حوالوں اور من گھڑت بیانیوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جب حقیقت ساتھ نہ دے، تو سنسنی کو ہتھیار بنایا جاتا ہے۔ جب قومی معاملات کو سمجھنے اور سمجھانے کی صلاحیت نہ ہو، تو سازشی کہانیاں گھڑ لی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات کو معمول کی سیاست کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی دانشور کی بات کو دانستہ غلط انداز میں پیش کیا جائے، اگر ایک حساس سفارتی معاملے کو جھوٹ پر کھڑا کیا جائے، اور اگر پھر اسی جھوٹ کو عوامی جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جائے، تو یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔

پاکستان کو اس وقت سنجیدہ، ذمہ دار اور حقیقت پر مبنی سیاسی گفتگو کی ضرورت ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں کروڑوں لوگوں کی امیدیں ریاستی استحکام، معاشی بحالی اور عالمی ساکھ سے وابستہ ہوں، وہاں جھوٹے بیانیوں کے ذریعے عوامی ذہن سازی ایک خطرناک کھیل ہے۔ سیاسی رہنماؤں، ان کے ترجمانوں اور حامیوں کو سمجھنا چاہیے کہ خارجہ پالیسی کوئی جلسہ گاہ کا نعرہ نہیں۔ یہ قومی اعتماد اور بین الاقوامی ساکھ کا معاملہ ہے، جس کے بارے میں بولتے ہوئے الفاظ بھی سوچ سمجھ کر چننے پڑتے ہیں۔

اس پورے واقعے سے ایک واضح سبق ملتا ہے: حقائق کو مسخ کر کے وقتی شور تو پیدا کیا جا سکتا ہے، مگر سچ آخرکار سامنے آ ہی جاتا ہے۔ ولی نصر کے نام پر گھڑی گئی بات ہو یا ایران کے مؤقف کو غلط رنگ دینے کی کوشش، دونوں بالآخر بے نقاب ہو گئیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام بھی ایسے دعووں کو اندھا دھند قبول کرنے کے بجائے ان کی جانچ کریں، اصل حوالہ دیکھیں، اور شور مچانے والوں سے ثبوت مانگیں۔ پاکستان کی عزت، اس کے سفارتی تعلقات، اور اس کی قومی سنجیدگی اس بات کی متقاضی ہے کہ جھوٹ کو سیاست کا جائز ہتھیار نہ بننے دیا جائے۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔