چین کے دارالحکومت بیجنگ میں حالیہ سہ فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، جس میں پاکستان، افغانستان اور چین نے شرکت کی، نہ صرف سفارتی محاذ پر اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے بلکہ اسے خطے میں جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں ہونے والے فیصلے اور اعلانات بظاہر سادہ نظر آتے ہیں، لیکن ان کے اثرات دیرپا اور گہرے ہو سکتے ہیں، خصوصاً اگر ان پر عملی طور پر عملدرآمد کیا جائے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا شمار دنیا کے بڑے اسٹرٹیجک منصوبوں میں ہوتا ہے، جو چین کے "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” (BRI) کا مرکزی حصہ ہے۔ بیجنگ اجلاس میں اس منصوبے کو افغانستان تک توسیع دینے کی بات نہ صرف بار بار دہرائی گئی بلکہ اس پر اتفاقِ رائے بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر یہ اقدام حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو اس کے نتیجے میں افغانستان، جو دو دہائیوں سے خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کا شکار رہا ہے، اقتصادی بحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ افغانستان رقبے اور محل وقوع کے لحاظ سے وسطی ایشیاء، جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہے۔ ایسے میں اگر افغان سرزمین کو سی پیک جیسے منصوبے کا حصہ بنایا جاتا ہے تو یہ پورے خطے کے لیے ایک نئے اقتصادی نظام کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ افغانستان کی مقامی صنعت، معدنیات اور تجارت کو بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو گی۔
پاکستان کے لیے یہ اجلاس کئی حوالوں سے فائدہ مند رہا ہے۔ ایک طرف افغان وزیر خارجہ نے کھل کر یقین دہانی کرائی کہ کابل، پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لے گا، تو دوسری جانب چین نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق، کالعدم تنظیموں جیسے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی سرحد پار سرگرمیاں پاکستان کے لیے طویل عرصے سے درد سر بنی ہوئی ہیں۔ افغان حکومت اگر واقعی ان گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرتی ہے تو یہ پاکستان کی داخلی سیکیورٹی کے لیے ایک اہم کامیابی ہو گی۔
علاوہ ازیں، اگر افغانستان کو سی پیک میں شامل کیا جاتا ہے تو پاکستان کو وسطی ایشیائی منڈیوں تک براہ راست رسائی حاصل ہو جائے گی، جو معاشی ترقی کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔
ایک وقت تھا جب چین کو صرف اقتصادی طاقت سمجھا جاتا تھا، لیکن بیجنگ اجلاس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ چین اب سفارتی اور سکیورٹی میدان میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ افغانستان میں امریکہ کی پسپائی کے بعد جو خلاء پیدا ہوا، چین نہایت خاموشی اور مہارت سے اُسے پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین کے اس بڑھتے ہوئے کردار کو صرف علاقائی مفادات کے تناظر میں نہیں بلکہ عالمی اسٹرٹیجک تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
چینی وزیر خارجہ کے بیانات میں یہ بات نمایاں تھی کہ بیجنگ اب ایک ذمہ دار عالمی قوت کے طور پر سامنے آنا چاہتا ہے، جو نہ صرف سرمایہ کاری کرتا ہے بلکہ سیاسی استحکام اور امن قائم کرنے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔
بھارت کے لیے یہ پیش رفت یقیناً باعثِ تشویش ہو سکتی ہے۔ دہلی نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبے، تعلیمی ادارے، سڑکیں، اور حتیٰ کہ پارلیمان کی عمارت بھی شامل ہے۔ لیکن طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت کی وہاں موجودگی اور اثرورسوخ میں نمایاں کمی آئی ہے۔
پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانے، کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو لاجسٹک اور مالی مدد فراہم کرتے رہے ہیں۔ اب جب کہ کابل، اسلام آباد اور بیجنگ ایک نئے تعاون کی بنیاد رکھ رہے ہیں، بھارت کی پراکسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ بعض دفاعی ماہرین کے مطابق یہ اجلاس بھارت کی خطے میں اسٹریٹیجک ڈیپتھ کی پالیسی کے لیے ایک واضح دھچکا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، اس میں تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ علاقائی ترقی، انسداد دہشت گردی اور اقتصادی رابطہ کاری کے لیے باقاعدہ فریم ورک تشکیل دیں گے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل میں صرف سیاسی بیانات نہیں بلکہ عملی تعاون بھی متوقع ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق، اگر یہ سہ فریقی تعاون کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو یہ وسطی ایشیاء، خلیج اور جنوبی ایشیاء کے ممالک کو بھی ایک نئے تعاون کی طرف مائل کر سکتا ہے، جس کا مرکز چین، پاکستان اور افغانستان ہوں گے۔
اگرچہ اس سہ فریقی اجلاس میں مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے۔ اس پیشرفت کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ افغان حکومت کی داخلی پوزیشن، عالمی برادری کی جانب سے تسلیم نہ کیے جانے کا مسئلہ، طالبان کے اندرونی اختلافات، اور بعض انتہاپسند عناصر کی مزاحمت۔ یہ سب ایسے عوامل ہیں جو سی پیک کی توسیع اور خطے میں امن کے عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
بیجنگ اجلاس محض سفارتی ملاقات نہیں بلکہ ایک ایسے علاقائی اتحاد کی بنیاد ہو سکتا ہے جو جیو اکنامک اور جیو پولیٹیکل میدان میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ چین، پاکستان اور افغانستان کا اشتراک نہ صرف خطے میں امن و ترقی کا ذریعہ بنے گا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دے گا کہ ایشیا کے تین اہم ممالک انتہائی ذمہ داری سے مسائل کا ادراک بھی رکھتے ہیں اور ان مسائل کے حل کیلئے مثبت کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔ عالمی برادری کیلئے تینوں ممالک کا یہ پیغام ہے کہ ان کی کاوشیں خطے کو امن اور معاشی استحکام کا مرکز بنا سکتی ہیں ۔۔
Author
-
ڈاکٹر سید حمزہ حسیب شاہ ایک تنقیدی مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتے ہیں، خاص طور پر ایشیا اور جغرافیائی سیاست پر توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اردو میں اور علمی اور پالیسی مباحثوں میں فعال طور پر حصہ ڈالتا ہے۔View all posts