Nigah

فتنہ الخوارج کے سہولت کار اور افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز

فتنہ الخوارج nigah
[post-views]

گزشتہ دنوں میر علی، شمالی وزیرستان میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے ایک بار پھر نہ صرف پاک فوج کے بہادر جوانوں کو شہید کیا بلکہ متعدد مقامی افراد بھی زخمی ہوئے۔

لیکن اس سانحے میں سب سے تشویشناک پہلو "مقامی سہولت کاری” کا ہونا ہے، اور یہ پہلو اب بار بار مختلف حادثات کے بعد سامنے آ رہا ہے۔

اس حادثے کو لے کر کچھ چبھتے ہوئے سوالات ہیں:

  • 800 کلو بارود سے بھری گاڑی کس ورکشاپ میں تیار ہوئی؟
  • وہ گاڑی رات بھر کس گھر میں تھی اور صبح 7 بجے سڑک پر کیسے پہنچی؟
  • اس سے پہلے بھی متعدد بار فتنہ خوارج اسی علاقے کی مسجدوں، بازار اور گھروں سے سیکیورٹی فورسز پر کیوں اور کیسے حملے کرتے رہے ہیں؟
  • کیا یہ سب مقامی سہولت کاری کے بغیر ممکن ہے؟

واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسز کے پاس میر علی میں واضح انٹیلیجنس شواہد موجود ہیں کہ کئی گھروں میں دہشتگردوں نے پناہ لی ہوئی ہے۔ وہ عورتوں اور بچوں کو انسانی ڈھال بنا کر سیکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں اور پھر انہی گھروں میں واپس چھپ جاتے ہیں۔

کیونکہ فتنہ خوارج کو معلوم ہے کہ فوجی عورتوں اور بچوں پر فائرنگ نہیں کرتے۔

جب فوج فتنہ خوارج پر فائرنگ کرتی ہے
تو شور مچتا ہے کہ: "ہمارے گھروں پر فائرنگ ہو گئی!
مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اسی گھر سے پہلے گولی چلائی گئی تھی۔

اسی گھر سے دہشتگرد نکلے تھے، اور وہیں دوبارہ چھپے بیٹھے ہیں۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔

کچھ عرصہ قبل وادی تیراہ، علاقہ میدان، ملک دین خیل اور نختر ادیراہ میں بھی ایسا ہی منظر دیکھا گیا۔

فتنہ الخوارج نے مقامی گھروں کی آڑ لے کر چیک پوسٹ پر حملہ کیا،
جس کے شواہد ویڈیو فوٹیج میں موجود ہیں۔

جب سیکیورٹی فورسز کہتے ہیں:
"گھروں کو خالی کریں، یہاں دہشتگرد چھپے ہیں
تو انکار کر دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے:
"یہ ظلم ہے!

مگر ظلم اصل میں کون کر رہا ہے؟

  • کیا یہ ظلم نہیں کہ دشمنانِ وطن کو اپنے گھروں میں پناہ دی جائے؟
  • کیا یہ ظلم نہیں کہ عورتوں اور بچوں کو دہشتگردی کے لیے استعمال کیا جائے؟
  • کیا یہ ظلم نہیں کہ امن کے دشمنوں کے لیے معاشرہ خاموش تماشائی بنا رہے؟

یاد رکھیں:
فتنہ الخوارج نے ہماری سرزمین، ہمارے امن، اور ہمارے بچوں کا مستقبل چھین لیا ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام کے نام پر فساد پھیلا رہے ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ:
ہر وہ شخص جو دہشتگردوں کو سہولت دیتا ہے، اس کی کھل کر مخالفت کی جائے۔
چاہے وہ ہمارے اندر سے ہی کیوں نہ ہو۔

یہ صرف فوج کی جنگ نہیں،
یہ ہر محب وطن پاکستانی کی جنگ ہے۔


قارئینِ کرام!

دوسری طرف افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان ایک بار پھر دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔

داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشتگرد گروہ افغانستان میں منظم ہو رہے ہیں۔

اس حوالے سے امریکی امور خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین بل ہائزنگا نے حقائق پیش کر دیئے۔

بل ہائزنگا کے مطابق:

"طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے جنوبی اور وسطی ایشیا میں دہشت گردی کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ گئے۔"

  • افغان طالبان دوحہ معاہدے کے مطابق دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہیں دینے کے وعدے پر قائم نہ رہ سکے۔
  • طالبان حکومت میں داعش خراسان اور فتنہ الخوارج جیسی تنظیموں کی دہشتگردانہ کارروائیاں سرگرم ہیں۔
  • طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد 2024ء میں پاکستان کو اپنی تاریخ کے بدترین دہشتگردانہ حملوں کا سامنا رہا۔
  • افغان طالبان کی سہولت کاری میں ہونے والی دہشتگردی کے باعث معصوم پاکستانی اور سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے۔
  • طالبان کے زیرِ اقتدار، بی ایل اے اور فتنہ الخوارج جیسے گروہ پاکستان میں بدامنی کو ہوا دے رہے ہیں۔
  • خطے میں عسکریت پسندی کا خطرہ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے شدید حد تک بڑھ گیا۔
  • طالبان حکومت کی دہشتگردی کے خلاف غیر سنجیدہ حکمتِ عملی پورے جنوبی اور وسطی ایشیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔

بل ہائزنگا کے شواہد تصدیق کرتے ہیں کہ افغان طالبان کی ناکامیوں کے باعث افغانستان دہشتگردی کے پھیلاؤ کا مرکز بن گیا ہے۔


قارئینِ محترم!

گزشتہ دنوں مارخور کی اطلاع پر پاک فوج کا کامیاب آپریشن ہوا۔

خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی کہ خوارج کا ایک گروہ افغانستان سے شوال کے علاقے حسن خیل کے راستے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاک فوج کے جوانوں نے فوراً علاقے میں پہنچ کر دفاعی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے مضبوط پوزیشن اختیار کر لی۔
جیسے ہی خوارج نے سرحدی باڑ کاٹ کر پاکستانی حدود میں قدم رکھنے کی کوشش کی، جوانوں نے بروقت اور بھرپور کارروائی کی۔

اطلاعات کے مطابق تقریباً 30 خوارج جہنم واصل کئے گئے جبکہ کچھ کو زندہ پکڑ لیا گیا ہے۔
کلیئرنس آپریشن سے اب علاقہ خوارج سے صاف کر دیا گیا ہے۔


پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ:

"افغانستان کی طالبان حکومت دوحہ معاہدے پر عملدرآمد کرے،
کابل نے وعدوں کا احترام نہ کیا تو دنیا اس کا محاسبہ اس کے دوستوں کے کردار سے کرے گی۔
"

اس موقع پر بلاول بھٹو نے مودی سرکار کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا:

"دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے، دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
بھارت الزام تراشی کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی کوششوں کا حصہ بنے۔
بھارتی قیادت خطے کے امن کے لیے مذاکرات کی میز پر آئے۔
"

Author

  • munir nigah

    ڈاکٹر محمد منیر ایک معروف اسکالر ہیں جنہیں تحقیق، اکیڈمک مینجمنٹ، اور مختلف معروف تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں میں تدریس کا 26 سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز (DSS) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔