کراچی کے علاقے لیاری میں عمارت گرنے کے افسوسناک واقعے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ شکایت مقامی حکومت کے محکمے کی جانب سے درج کرائی گئی ہے، جس میں واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق، مقدمے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے سینئر افسران کو نامزد کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ 4 جولائی کو بغدادی کے علاقے میں پیش آیا، جس کے نتیجے میں 27 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور 11 افراد زخمی ہوئے۔
نگاہ (Nigah.pk) کی نظر میں، یہ واقعہ ناقص تعمیراتی نگرانی اور بدانتظامی کا مظہر ہے، جس پر فوری اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے۔
ادھر صوبائی وزیر اطلاعات، شرجیل میمن نے دو روز قبل اعلان کیا تھا کہ کراچی میں موجود 51 انتہائی خستہ حال عمارتوں میں سے 11 کو فوری طور پر خالی کروا لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ متاثرہ خاندانوں کو عارضی رہائش دی جا رہی ہے، تاہم حکومت ہر پرانی عمارت کے رہائشیوں کو مستقل رہائش فراہم کرنے سے قاصر ہے۔
حکومت سندھ نے اس المناک واقعے کی تحقیق کے لیے پانچ رکنی کمیشن تشکیل دیا ہے، جس کی سربراہی کمشنر کراچی کر رہے ہیں۔ کمیشن عمارت کے گرنے کی وجوہات، متعلقہ اداروں کی غفلت اور آئندہ کے لیے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لے گا۔
Nigah کے تجزیے کے مطابق، وقت کا تقاضا ہے کہ پرانی اور خطرناک عمارتوں کی نشاندہی اور انخلا کے عمل کو تیز کیا جائے، تاکہ مزید انسانی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔
Author
-
View all posts
محمد سلیم برطانیہ میں مقیم مصنف اور محقق ہیں جن کی اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ایک مضبوط علمی بنیاد ہے۔ اس کا کام طاقت اور حکمت عملی کی پیچیدگیوں کو تلاش کرتا ہے۔ وہ جغرافیائی سیاست، علاقائی معاملات، اور آج کی دنیا کو تشکیل دینے والے نظریات کے لیے ایک باریک عینک لاتا ہے۔