جن دوستوں کا خیال ہے کہ ابراہیم معاہدے کی بحالی، فلسطین میں سیز فائر، ایران کے ساتھ جنگ بندی، اور پاکستان انڈیا کے درمیان امریکی کردار یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ سدھر گیا ہے یا دنیا میں امن آ رہا ہے، تو وہ بالکل غلط سمجھ رہے ہیں۔
یہ امن نہیں، یہ چین کے خلاف آخری اور فیصلہ کن جنگ کی تیاری ہے۔
امریکہ نے اپنی پوری حکمت عملی بدل دی ہے۔
پچھلے پینتیس سال سے جو دہشت گردی کی جنگ مسلمانوں کے خلاف چل رہی تھی، اب اسے بند کرنا پڑا ہے۔
کیونکہ اصل دشمن چین ہے اور اس کے لیے امریکہ کو اپنی تمام توجہ اور وسائل ایک جگہ مرکوز کرنے پڑے ہیں۔
یہ کوئی اخلاقی بیداری نہیں، یہ مجبوری ہے۔
امریکہ جنگ کیوں کرے گا؟
جو لوگ سمجھ نہیں پا رہے کہ امریکہ اور یورپ آخر چین سے جنگ کیوں چاہتے ہیں انہیں ان کی اقتصادی حقیقت دیکھنی چاہیے
یہ کوئی سیاسی کھیل نہیں، یہ امریکہ کیلئے معاشی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔
- سال 2000 میں امریکہ میں تقریباً چھ(6) ہزار ارب ڈالر گردش میں تھے، آج یہ تعداد چوبیس(24) ہزار ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے یعنی صرف چوبیس سالوں میں ڈالر کی مقدار چار گنا بڑھ گئی ہے۔
یہ کرنسی کی تباہی کی علامت ہے۔ - سال 2000 میں امریکہ کا قومی قرضہ پانچ(5) ہزار ارب ڈالر تھا، آج یہ چھتیس(36) ہزار ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکا ہے۔ یعنی صرف چوبیس سالوں میں قرضہ سات گنا بڑھ گیا ہے اور یہ قرضہ ہر سال بڑھتا جا رہا ہے۔
امریکہ جو ڈالر چھاپتا(منی سپلائی بڑھاتا) ہے، ان کا ستر(70) فیصد امریکہ سے باہر استعمال ہوتا ہے۔
یہ دنیا کے باقی ممالک کے لیے ایک انڈائیریکٹ ٹیکس ہے۔
یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہے جو پچھلے پچاس سال سے چل رہا ہے، لیکن اب یہ کھیل ختم ہونے والا ہے۔
برکس(BRICS) نے متبادل مالی نظام بنانا شروع کر دیا ہے۔
چین، روس، ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک اپنی کرنسیوں میں تجارت کر رہے ہیں۔
اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو امریکہ کی ساری طاقت ختم ہو جائے گی۔
امریکہ میں کوئی بڑی صنعت باقی نہیں رہی، سب کچھ چین منتقل ہو گیا ہے۔
چین ریورس انجینئرنگ سے سستی پروڈکشن کر لیتا ہے، تحقیق اور ترقی کا خرچ امریکہ اٹھاتا ہے۔
لیکن چین اب اپنی ایجادات بھی خود کرنے لگا ہے۔
مصنوعی ذہانت(AI), الیکٹرک گاڑیاں، سولر انرجی، اور کوانٹم کمپیوٹنگ میں چین آگے نکل چکا ہے
اور چین کے پاس پیداوار کی سہولتیں ہیں جو امریکہ کے پاس نہیں ہیں
لیکن امریکہ چین کی ایجادات کو کاپی نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے پاس صنعتی صلاحیت ہی نہیں۔
یورپ کا حال اور بھی برا ہے۔
یوکرین کی جنگ کی وجہ سے یورپ کو روسی گیس اور تیل چھوڑنا پڑا۔
اب وہ امریکہ سے مہنگا ایندھن خرید رہا ہے۔
جرمنی کی صنعتیں بند ہو رہی ہیں کیونکہ انہیں سستی انرجی نہیں مل رہی۔
فرانس میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔
برطانیہ کی معیشت مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔
امریکہ کا جو چھتیس(36) ہزار ارب ڈالر کا قرضہ ہے، اس کا ایک بڑا حصہ اس سال میچور ہو رہا ہے۔
لیکن امریکہ کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آئے گا؟
وہ صرف مزید ڈالر چھاپ سکتا ہے، لیکن اس سے مہنگائی اور بھی بڑھے گی۔
یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے پاس صرف ایک راستہ بچا ہے:
جنگ۔ جنگ۔ جنگ۔
جنگ کے ذریعے وہ اپنے مخالفین کو کمزور کر سکتا ہے، ان کے وسائل پر قبضہ کر سکتا ہے، اور اپنے قرضوں کو معاف کروا سکتا ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد بھی یہی ہوا تھا۔
لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ اتنا کمزور ہو چکا ہے۔ کسی بڑی طاقت کے ساتھ براہ راست جنگ بہت بڑا چیلنج ہو گا۔
لیکن بچنے کا دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔
پراکسی جنگوں کی کوشش کی گئی تھی۔ یوکرین میں روس کے خلاف، مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف، اور اب تائیوان کے ذریعے چین کے خلاف۔ یہ کوشش ناکام ہو چکی ہے۔
اب صرف چین کے ساتھ براہ راست جنگ کی صورت بچی ہے۔
اگر وہ بھی ناکام ہو گئی تو:
امریکی طاقت کا خاتمہ ہو جائے گا۔
اسرائیل کا ڈرامہ بھی ختم ہو جائے گا اور انڈیا بھی اپنی اوقات میں آ جائے گا۔
اور اگر یہ کامیاب ہو گئی تو دنیا میں تباہی مچ جائے گی۔
لیکن امریکہ کے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔
وہ جانتا ہے کہ اگر اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔
اسی لیے امریکہ اور یورپ جنگ کے لیے اتنے بے قرار ہیں۔
یہ ان کی بقاء کا مسئلہ ہے۔
گلوبل ساؤتھ چاہتا ہے کہ یہ جنگ نہ ہو کیونکہ اگر براہ راست جنگ نہ ہوئی تو امریکہ اقتصادی موت مر جائے گا جیسے سوویت یونین مرا تھا۔
قارئین محترم!
سب سے پہلے یہ سمجھیں کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ میں مختلف گروہ کام کرتے ہیں۔
اسرائیلی گروہ، انڈین گروہ، یورپی گروہ، اور چائنا ہاکس۔
اب جو گروہ اقتدار میں آیا ہے وہ کہتا ہے کہ باقی تمام محاذوں کو بند کر کے صرف چین پر توجہ دو۔
اسرائیلی اور انڈین گروہ کو چپ کروا دیا گیا ہے۔
انہیں کہا گیا ہے کہ اپنا پروپیگنڈا بند کرو، اپنی جنگیں روکو، اور چین کے خلاف ہمارا ساتھ دو۔
ٹرمپ اسی گروہ کی نمائندگی کرتا ہے جو کہتا ہے کہ چین کو کسی بھی طریقے سے روکنا ہے۔
اس لیے اتنی جلدی میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔
ایران پر ایک فیک حملہ کر کے یہ بتایا گیا کہ ہم نے ان کی نیوکلیئر تنصیبات ختم کر دیں۔
اب اسرائیل کے پاس کوئی بہانہ نہیں رہا۔ اسرائیل کو شٹ اپ کال دی گئی ہے کہ ابراہیم معاہدہ کرو اور چپ ہو جاؤ۔
فلسطینیوں کو لالی پاپ دیا جا رہا ہے۔
وقتی طور پر انہیں ریلیف دے کر یہ تاثر دیا جائے گا کہ سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے۔
لیکن یہ صرف اس لیے ہے کہ مسلمان ممالک چپ ہو جائیں اور چین کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیں یا کم از کم مخالفت نہ کریں۔
یہی حال پاکستان اور انڈیا کا ہے۔
امریکہ نے دونوں کو کہا ہے کہ اپنی لڑائی بند کرو اور امریکہ کا ساتھ دو۔
یاد رکھئے کہ یہ سب کچھ اقتصادی بحران کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
امریکہ کی معیشت کمزور ہو رہی ہے، ڈالر کی اجارہ داری ختم ہو رہی ہے، اور چین ہر میدان میں آگے نکل رہا ہے۔
امریکہ کے پاس وقت کم ہے اور وہ جانتا ہے کہ اگر اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یوکرین کی جنگ بھی ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
روس کو کہا جا رہا ہے کہ یوکرین کا کچھ حصہ لے لو اور چین کا ساتھ چھوڑ دو۔
یورپ کو کہا جا رہا ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات بحال کرو اور چین کے خلاف ہمارا ساتھ دو۔
لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمان ممالک کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ کوئی مستقل امن نہیں ہے۔
یہ صرف وقتی ترتیب ہے۔
جیسے ہی چین کا معاملہ نپٹے گا، یہ واپس مسلمانوں کی طرف آئیں گے۔ پہلے چین کو ختم کریں گے، پھر ایران کو، پھر پاکستان کو، پھر باقی مسلمان ممالک کو۔
یہ لوگ نیک نہیں ہو گئے۔ یہ کوئی اخلاقی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ صرف حکمت عملی کی تبدیلی ہے۔
جب آپ کے سامنے بڑا دشمن کھڑا ہو تو آپ چھوٹے دشمنوں سے صلح کر لیتے ہیں۔ لیکن یہ صلح عارضی ہوتی ہے۔
مسلمان ممالک کو اس جال میں نہیں پھنسنا چاہیے۔
انہیں سمجھنا چاہیے کہ چین کے ساتھ کھڑے رہنا ان کے مفاد میں ہے۔
کیونکہ اگر چین گر گیا تو پھر ان کی باری آئے گی۔ اور تب کوئی انہیں بچانے والا نہیں ہوگا۔
یہ ابراہیم معاہدہ، یہ فلسطینی ریلیف، یہ پاک بھارت امن، یہ سب چین کے خلاف جنگ کی تیاری کا حصہ ہے۔
جو اس کو سمجھ گیا وہ بچ جائے گا، جو نہیں سمجھا وہ بعد میں پچھتائے گا۔
اگر چین جیت گیا تو پھر مغربی سامراج مستقل طور پر نیک ہو جائیں گے۔
ان کو ہیومن رائیٹس دوبارہ سے یاد آ جائیں گے۔
پھر آپ ان کی نیکیاں چیک کیجئے گا۔
جب یہ پسپا ہوتے ہیں تو بیغیرتی کی آخری حد کراس کر جاتے ہیں۔
ساؤتھ افریقہ میں نسل پرست لیڈر نے افریقیوں کے پاؤں دھو کر معافی مانگی تھی۔
Author
-
ڈاکٹر حمزہ خان نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، اور یورپ سے متعلق عصری مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور لندن، برطانیہ میں مقیم ہے۔
View all posts