تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں تقریباً ہر شعبے کی ضروریات تبدیل ہو رہی ہیں اور ان تبدیلیوں کے اثرات سب سے زیادہ زرعی شعبے پر پڑ رہے ہیں۔ ایک جانب آبادی میں تیزی سے اضافہ کے ساتھ خوراک کی ضروریات بڑھ رہی ہیں تو دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، ماحولیاتی مسائل اور مٹی کی زرخیزی میں کمی جیسے مسائل درپیش ہیں۔ تبدیل ہوتے ہوئے ان حالات میں بائیو ہیلتھی زراعت امید کی کرن کے طور پر متعارف ہوئی ہے۔ یہ زراعت کا ایسا طریقہ ہے جو ماحول دوست ہے اور اس سے کسانوں کی آمدن بڑھانے کے ساتھ ساتھ غذا کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ دیگر شعبوں کی طرح چین بھی اب بائیو ہیلتھی زراعت پاکستان میں متعارف کرا رہا ہے جو انتہائی خوش آئند امر ہے۔ دونوں ممالک اس زراعت کے شعبے میں بھی تعاون کر رہے ہیں اور ترقی کی نئی راہوں پر بڑھ رہے ہیں۔
چند روز قبل چین کے ایک وفد نے فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی اور ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے کا دورہ کیا۔ دونوں ممالک کے ماہرین نے مشترکہ زرعی تحقیقاتی لیبارٹری اور بائیو ہیلتھی ایگریکلچر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیمونسٹریشن پارک قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ اقدام صرف علامتی معاہدے تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے مابین تعاون کی اعلیٰ مثال ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کی حامل چین کی زرعی ٹیکنالوجی کو پاکستان منتقل کرنا ہے تاکہ زمیندار اور کسان طبقہ بہتر انداز سے فصل اگا سکے اور ساتھ ہی پاکستان کو غذائی تحفظ کیلئے اقدامات میں مدد مل سکے۔
بائیو ہیلتھی زراعت کاشت کاری کا ایسا جدید طریقہ ہے جو زمین کی قدرتی زرخیزی برقرار رکھتا ہے اور غیر ضروری کھادوں اور کیمیائی ادویات کا انتہائی کم استعمال یقینی بناتا ہے۔ یوں ماحول کا تحفظ، زمین کی صحت اور فصلوں کا معیار بہتر سے بہتر کیا جا سکتا ہے۔ یہ زراعت کسانوں کو مہنگے کیمیکلز سے بچاتی ہے، طویل عرصے تک زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے اور ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں میں صحت مند خوراک کی بڑھتی ہوئی ضروریات بھی پورا کرتی ہے۔
پاکستان میں کسان روایتی طریقوں کے ذریعے زراعت کرتے ہیں جبکہ بائیو ہیلتھی زراعت انہیں نئی سمت فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کی معیشت کا بہت زیادہ انحصار زراعت پر ہے۔ زرعی ملک کہلانے کے باوجود یہاں کے کسان بہت سی مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ چونکہ ہمارے ملک میں آبپاشی کا روایتی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جس میں بہت سا پانی ضائع بھی ہو جاتا ہے اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والی غیر متوقع بارشیں اور درجہ حرارت میں اضافہ سے بھی فصلوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ کیمیکلز کے استعمال سے زمین کی زرخیزی میں کمی آئی ہے اور زمین کی اس کمزوری نے پیداوار کو متاثر کیا ہے۔ اسی طرح چونکہ ہمارے کسانوں کے پاس جدید ٹیکنالوجی کے حامل آلات بھی نہیں ہیں، یہ بھی ایک وجہ ہے کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق پیداوار بڑھانا ممکن نہیں ہو رہا۔ ان تمام مسائل کے پیش نظر چین کی زرعی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی پاکستان کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں کے دوران چین کے زرعی شعبے نے تیزی سے ترقی کی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور بائیو ہیلتھی زراعت کی بدولت چین دنیا کی بڑی زرعی طاقت کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ چین نے ڈرون ٹیکنالوجی اور سمارٹ فارمنگ کا استعمال کر کے فصلوں کی نگرانی بہتر بنائی ہے جبکہ قدرتی طریقہ کار بائیو فرٹیلائزر سے فصلوں کا معیار بھی بہتر کیا ہے۔ اسی طرح مارکیٹنگ کے جدید طریقہ کار اور برآمدات کا نظام بہتر بنانے سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کیا گیا ہے۔
چین کے ان تجربات سے پاکستان استفادہ حاصل کرے تو اس کی زرعی معیشت مضبوط کی جا سکتی ہے۔ ساہیوال اور فیصل آباد میں قائم ڈیمونسٹریشن فارم اسی تعاون کا عملی ثبوت ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان زرعی شعبے میں تعاون کی بڑی مثال تل کی پیداوار اور برآمدات ہیں۔ تل کی پاکستانی برآمدات میں 2025 کی پہلی ششماہی کے دوران 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان چین کو تل فراہم کرنے والا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے۔
ساہیوال میں تل کی کاشت کیلئے ڈیمونسٹریشن فارم نے کسانوں کو کاشت کاری کے طریقے سکھائے ہیں جس سے پیداوار کا معیار بہتر ہوا ہے اور عالمی منڈیوں تک رسائی بھی ممکن ہو سکی ہے۔ پاکستان اور چین کی یہ شراکت داری کسانوں کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کر رہی ہے۔ جدید بیج کے استعمال اور بائیو ٹیکنالوجی کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیمیائی کھادوں اور زہر آلود سپریز پر انحصار کم ہوا ہے اور اخراجات میں واضح کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ چین کی بڑی منڈی پاکستانی کسانوں کے عالمی منڈیوں تک رسائی کے راستے فراہم کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیمونسٹریشن پارکس اور تحقیقی مراکز روزگار کے مواقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستان اور چین کی لازوال دوستی اور شراکت داری زراعت کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ بائیو ہیلتھی زراعت کی ترقی ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ کسانوں کی زندگیاں خوشحال بنانے کا ذریعہ ہے۔ فیصل آباد اور ساہیوال میں شروع کئے گئے منصوبے اس بات کی دلیل ہیں کہ درست حکمتِ عملی اور اچھی نیت کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں اور تل کی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ اسی تعاون کی کامیابی ہے۔ پاکستان کو بھی چاہئے کہ اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا کر زمینداروں و کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرے تاکہ مستقبل میں ہمارا زرعی شعبہ معیشت کا مضبوط ستون بن سکے۔ وہ وقت دور نہیں جب بائیو ہیلتھی زراعت اختیار کر کے پاکستان عنقریب غذائی خود کفالت کی منزل حاصل کر لے گا۔
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔
View all posts
