مقبوضہ کشمیر کے جنوبی ضلع کلگام کے بالائی اکہال علاقہ میں بھارتی فوجی آپریشن ناکام ہو گیا۔ کشمیری مزاحمت کاروں کے ساتھ کئی روز تک جاری رہنے والے اس آپریشن میں بھارتی فورسز کو شدید جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اور کشمیری مزاحمت کار بھارتی فوجیوں کا محاصرہ توڑتے ہوئے قریبی جنگل کی طرف نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری مزاحمت کاروں نے بھارتی فوج کے کئی دنوں پر مشتمل اس آپریشن میں 9 بھارتی فوجیوں کو ہلاک اور ایک کرنل سمیت 14 فوجیوں کو زخمی کیا۔ آپریشن کی ناکامی کے بعد انڈین فورسز خالی ہاتھ واپس لوٹ گئیں۔ اطلاعات کے مطابق آپریشن کے دوران بھارتی فوجی پانچ روز تک بھوکے رہے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ فوجی زندہ رہنے کے لیے مٹی کھانے پر مجبور ہو گئے۔
بھارت گزشتہ پون صدی سے کشمیر پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کے لیے کشمیری عوام پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے لیکن کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جستجو ختم نہ ہو سکی۔ 1989 میں شروع ہونے والی آزادی کی تحریک میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں، لاکھوں زخمی اور بے گھر ہو چکے جبکہ قابض فوج نے کشمیریوں کو اپنے ہی وطن میں مہاجر بنا ڈالا ہے۔
بھارتی فوج کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عروج پر ہیں۔ خواتین کی عصمت دری، چادر اور چار دیواری کی پامالی روزمرہ کا معمول ہے۔ نوجوانوں کے اغوا اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات عام ہیں۔ بھارت نے 8 لاکھ فوجی تعینات کر کے وادی کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا ہے۔ جب عالمی برادری بھارت سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق رائے دہی دینے کا مطالبہ کرتی ہے تو بھارت ان کی تحریک آزادی کو دہشتگردی سے جوڑنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ حقیقت میں یہ تحریک انڈیا کے غیر قانونی قبضے اور سنگین مظالم کا ردعمل ہے۔
2019 میں بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا۔ بھارتی آئین کا یہ آرٹیکل واضح کرتا تھا کہ ریاست کشمیر کو ہندوستانی قوانین کے اطلاق پر متفق ہونا لازمی ہے سوائے مواصلات، دفاع اور خارجہ امور کے۔ مرکزی حکومت کسی اور شعبے میں مداخلت نہیں کر سکتی تھی۔
کلگام کا یہ آپریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر میں مسلح مزاحمت آج بھی قائم ہے۔ یہ محاصرہ و تلاشی آپریشن (CASO) دہائیوں میں سب سے طویل لڑائی قرار پایا ہے جس میں گیارہ دنوں کے دوران مزاحمت کاروں نے 9 فوجیوں کو ہلاک کیا جبکہ ہیلی کاپٹر اور ڈرونز بھی ناکارہ ہو گئے۔
بھارتی فوج اور نیم فوجی دستے ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں میں ملوث ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس کے مطابق گرفتار افراد کو اکثر سیکیورٹی رسک قرار دے کر قتل کر دیا جاتا ہے اور ان کی ہلاکتوں کو جعلی انکاؤنٹر کلنگ دکھایا جاتا ہے۔
اسی طرح چھتی سنگھ پورہ میں بھارتی فوج اور پولیس نے پانچ بے گناہ دیہاتیوں کو دہشتگرد قرار دے کر قتل کیا جو بعد میں بے قصور ثابت ہوئے۔ 23 فروری 2006 کو ہندواڑہ میں کرکٹ کھیلنے والے چار بچوں کو گولی مار کر شہید کیا گیا جن میں ایک آٹھ سالہ بچہ بھی شامل تھا۔ جولائی 2005 میں کپواڑہ میں تین نو عمر لڑکوں کو وارننگ کے بغیر گولیوں سے بھون ڈالا گیا اور بعد میں کہا گیا کہ یہ غلطی تھی۔
ان مظالم کے باوجود کشمیری عوام کے دلوں سے جذبۂ آزادی ختم نہیں کیا جا سکا۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق وادی کے 60 فیصد بچے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
بھارت کا یہ پروپیگنڈا کہ کشمیری تحریک کو باہر سے مدد ملتی ہے، کلگام آپریشن کی ناکامی سے بے نقاب ہو گیا ہے کیونکہ یہ ایک مقامی تحریک ہے جسے عوامی حمایت حاصل ہے۔
آخر میں یہ حقیقت واضح ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد تب تک جاری رہے گی جب تک انہیں ان کا حق خود ارادیت یعنی ریفرنڈم کے ذریعے انصاف نہیں ملتا۔
اعلان دستبرداری: اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
ڈاکٹر عظیم گل نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں فیکلٹی ہیں۔
View all posts
