Nigah

بھارت کا سفارتی دھوکہ برکس میں اتحادی، امریکہ میں وفادار

Modi and Netanyahu nigah pk
[post-views]

 

بین الاقوامی سیاست کے شطرنج پر بھارت کی چالیں اکثر بیک وقت کئی سمتوں میں چلتی دکھائی دیتی ہیں۔ نئی دہلی، جو برکس (BRICS) کے بانی ارکان میں شامل ہے، اب اس پلیٹ فارم کی اسٹریٹجک سمت کے ساتھ تضادات کا شکار نظر آتا ہے۔ برکس کے باقی ارکان برازیل، روس، چین اور جنوبی افریقہ دنیا میں امریکی یکطرفہ بالادستی کو چیلنج کرنے کی پالیسی پر متفق نظر آتے ہیں لیکن بھارت کی روش مختلف ہے۔ وہ برکس میں بھی موجود رہنا چاہتا ہے اور امریکہ کی خوشنودی بھی چاہتا ہے۔
بھارت کے امریکہ کے ساتھ دفاعی، معاشی اور سیاسی تعلقات گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان حالیہ اسٹریٹجک معاہدے، دفاعی شراکت داری اور انڈو پیسیفک اسٹریٹیجی میں قریبی ہم آہنگی، برکس کے اصولوں سے متصادم نظر آتی ہے۔

برکس جہاں مغربی بالادستی کے خلاف ایک متبادل نظام بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جیسے کہ ڈی ڈالرائزیشن (امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنا) یا برکس بینک کے ذریعے متبادل مالیاتی نظام کی تشکیل۔ وہیں بھارت کھل کر امریکی مالیاتی نظام اور ڈالر کی بالادستی کی حمایت کرتا نظر آتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے کالم نگار الیکس ٹریولی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ان میں سے ایک برکس دوسروں جیسا نہیں ہے۔۔ یہ براہ راست بھارت کی پالیسیوں پر تنقید ہے۔ ٹریولی کے مطابق بھارت کا مغرب کی طرف بڑھتا جھکاؤ اسے برکس کے باقی اراکین سے الگ کرتا ہے اور بلاک کے اندر اس کی وابستگی پر شکوک پیدا کرتا ہے۔
بھارت کی خارجہ پالیسی یہ ہے کہ وہ بیک وقت دو متحارب عالمی اتحادوں کا حصہ ہے
کواڈ (QUAD)۔۔امریکا، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت پر مشتمل اتحاد، جس کا مقصد انڈو پیسیفک میں چین کی ابھرتی طاقت کا توڑ ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور BRICS۔۔چین کی قیادت والے وہ اتحاد جو امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔
یہ تضاد برکس کے اندر بھارت کے کردار پر سوالیہ نشان اٹھاتا ہے ۔

چین اور بھارت کے درمیان سرحدی جھڑپوں اور سی پیک پر اختلافات نے برکس میں دراڑ ڈال دی ہے۔ بھارت چین پر عدم اعتماد کرتا ہے جب کہ برکس کا مرکزی محور ہی چین کی معیشت اور قیادت ہے۔

بھارت کی جانب سے برکس میں کسی بھی اجتماعی مغرب مخالف مؤقف سے گریز، خصوصاً ڈالر مخالف مہمات اور نئے مالیاتی اداروں کی تشکیل سے دوری، اس کے الگ ایجنڈے کو ظاہر کرتی ہے۔
مودی حکومت نے امریکی غصے سے بچنے کے لیے برکس کے کئی فیصلوں سے فاصلہ اختیار کیا ہے۔ بھارت نے ڈی ڈالرائزیشن کی حمایت سے انکار کیا، روس کے خلاف پابندیوں پر براہ راست تنقید سے گریز کیا اور امریکی مصنوعات پر محصولات میں نرمی کی۔
بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارت، دفاع، خلائی تحقیق اور ٹیکنالوجی میں گہری شراکت داری کو بہترین قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ بیانیہ برکس میں بھارت کی ساکھ پر اثر انداز ہو رہا ہے، جہاں باقی ممالک امریکہ پر تنقید کر رہے ہیں۔
بھارت میں حزب اختلاف، خصوصاً کانگریس پارٹی، مودی حکومت کو بارہا تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے کہ وہ امریکہ کی خوشنودی کے بدلے بھارت کی خودمختاری اور علاقائی کردار کو قربان کر رہی ہے۔
کانگریس کا دعویٰ ہے کہ بھارت نے ٹرمپ دور میں ٹیرف غنڈہ گردی کے سامنے جھک کر برکس میں اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ کیا اور اب مودی حکومت امریکہ کے اشاروں پر چل رہی ہے۔
بھارت برکس میں مشترکہ مفادات یعنی گلوبل ساوتھ کی نمائندگی، قرضوں میں ریلیف اور پائیدار ترقی جیسے ایجنڈوں سے زیادہ دلچسپی تجارتی فوائد، امریکی ڈالر تک رسائی اور مغربی مارکیٹس میں دکھاتا ہے۔
یہ رویہ لین دین پر مبنی ہے۔ یعنی جہاں فائدہ ہو، وہاں ساتھ۔۔اور جہاں فائدہ نہ ہو، وہاں لاتعلقی۔ یہی رویہ بھارت کو ہم خیال ساتھی کے بجائے موقع پرست ساتھی کے طور پر پیش کرتا ہے۔
بھارت کے کردار پر کئی عالمی ماہرین نے تنبیہ کی ہے۔ برازیل کے ماہر معاشیات اور برکس بینک کے سابق نائب صدر پروفیسر پاؤلو نوگیرا بٹسٹا جونیئر نے بھارت کو برکس کے اتحاد کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے اور یہاں تک کہا کہ بھارت برکس کے اندر "ٹروجن ہارس” ہے۔

ان کے مطابق بھارت کا متضاد کردار، امریکہ کے ساتھ گہری وابستگی اور برکس ایجنڈے سے مسلسل انحراف بلاک کے لیے نقصان دہ ہے۔
کچھ مبصرین اسے سفارتی حکمت عملی قرار دیتے ہیں ۔ یعنی بھارت دونوں طرف رہ کر زیادہ فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن یہ پالیسی کتنی دیر چلے گی؟ ایک طرف مغرب کی قیادت میں عسکری اتحادوں کا حصہ اور دوسری طرف مغرب مخالف گروپ کا دعویدار۔ یہ تضاد آخر کب تک چھپے گا؟
بھارت کا برکس اور امریکہ کے درمیان توازن کا کھیل آخر کار اسے عالمی سفارت کاری میں ناقابل اعتماد اتحادی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اگر بھارت برکس کے اندر محض رکنیت برقرار رکھ کر امریکہ کے مفادات کی حفاظت کرتا رہے گا تو باقی اراکین کا اعتماد ختم ہوتا جائے گا۔
سوال یہ نہیں کہ بھارت کہاں کھڑا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کب تک وہ دونوں طرف کھڑا رہ سکے گا؟

اعلان دستبرداری: اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

Author

  • ڈاکٹر مزمل خان

    مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔