Nigah

سی پیک کی تازہ جہتیں: صنعتی ہم آہنگی اور خطے کا استحکام

CPEC Nigah PK
[post-views]

چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) ایک تذویراتی شراکت داری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جو محض سڑکوں اور توانائی کے منصوبوں سے آگے بڑھ کر صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، پیشہ ورانہ تربیت، علاقائی رابطہ کاری اور محفوظ سرمایہ کاری کے ماحول پر محیط ہو گئی ہے۔ اس راہداری کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کا مرکز تصور کیا جاتا ہے اور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے اسے مزید وسعت اور گہرائی دی جارہی ہے۔

پاکستانی اور چینی وزرائے خارجہ نے تیانجن میں ایس سی او وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران سی پیک سے وابستگی کی دوبارہ تصدیق کی۔ یہ اعلانات نہ صرف سفارتی علامتیں ہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط سیاسی ہم آہنگی کا ثبوت بھی ہیں۔ دونوں ممالک نے معاشی لچک، علاقائی روابط اور مشترکہ مفادات کو فروغ دینے میں سی پیک کو مرکزی ستون قرار دیا۔

پاکستان چائنا جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایک پُل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جو پاکستانی نجی شعبے اور چینی سرمایہ کاروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ حالیہ تجویز کے مطابق، عوامی اداروں میں "چائنا ڈیسک” کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ سرخ فیتے کا خاتمہ کیا جا سکے، منصوبوں کی منظوری تیز ہو اور چینی کاروباری تقاضوں کے مطابق طریقہ کار ہم آہنگ کیا جا سکے۔

یہ ڈیسک نہ صرف فاسٹ ٹریک سرمایہ کاری کی راہ ہموار کریں گے بلکہ حکومتی سطح پر بیوروکریسی کے روایتی مسائل کو کم کرنے میں بھی معاون ہوں گے۔

پاکستان چائنا جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ماحول دوست صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے ماحول دوست ٹیکنالوجی کی منتقلی پر زور دے رہا ہے۔ زرعی پراسیسنگ، قابل تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیاں اور انجینئرنگ کے شعبے میں متعدد مشترکہ منصوبے زیر تکمیل ہیں۔

اس کے علاوہ صنعتی اختراعی حب اور پائلٹ زونز کی منصوبہ بندی جاری ہے جو مقامی ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیں گے اور مقامی صنعت کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کریں گے۔

سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت پیشہ ورانہ تربیت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ چین اور پاکستان نے مصنوعی ذہانت، تعمیرات، زراعت اور مہمان نوازی کے شعبوں میں باہمی تربیتی پروگرام شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کے وفد کے حالیہ دورہ چین کے دوران اسمارٹ مینو فیکچرنگ، ای-کامرس اور ہائی-اسکلڈ ورک فورس کی تیاری کے لیے متعدد معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں دستخط ہوئیں۔

ایک نیا تربیتی مرکز نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ کے لیے تیار کرے گا جو سعودی عرب، عمان اور دیگر ممالک میں پاکستانی ورکرز کی قدر میں اضافہ کرے گا۔

چین کی سول انجینئرنگ کنسٹرکشن کارپوریشن نے قراقرم ہائی وے پر پانچویں سرنگ کی کھدائی مکمل کر لی ہے۔ 1,242 میٹر طویل ڈوگہ سرنگ داسو ڈیم کے باعث متبادل راستہ فراہم کرے گی، جو شمالی علاقہ جات میں تجارتی تسلسل کو برقرار رکھے گی۔

ادھر گوادر میں 1.2 ایم جی ڈی صلاحیت کا ڈیسالینیشن پلانٹ تکمیل کے قریب ہے۔ جو مقامی آبادی کے لیے پینے کے پانی کی قلت دور کرے گا۔ یہ منصوبہ نہ صرف انسانی بہبود کا پہلو رکھتا ہے بلکہ گوادر کی بندرگاہی صلاحیتوں کو بھی مستحکم بناتا ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے حال ہی میں سی پیک کے 81ویں جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ جس میں توانائی، انفراسٹرکچر اور خصوصی اقتصادی زونز کا جائزہ لیا گیا۔ ان زونز میں رشکئی، دھابیجی، علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اور بوستان SEZ شامل ہیں، جہاں صنعتوں کو ٹیکس میں چھوٹ، زمین کی فراہمی اور بنیادی سہولیات دستیاب کی جا رہی ہیں۔

ان SEZs کے فعال ہونے سے ملکی برآمدات میں اضافہ، درآمدی انحصار میں کمی اور روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

بلوچستان میں چاغی کے قریب ایک کاپر اسملٹنگ پلانٹ کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف معدنی وسائل کو مقامی طور پر پروسیس کرے گا بلکہ ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات کو بھی فروغ دے گا۔ اس سے بلوچستان میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ اور مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھلیں گے۔

سی پیک منصوبوں کے تحفظ کے لیے سکیورٹی اقدامات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ آر پی او ڈیرہ اسماعیل خان نے حال ہی میں روٹ کا معائنہ کیا اور مشترکہ گشت، ہنگامی ردعمل اور نگرانی کے اقدامات کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔

انسداد دہشت گردی فورس، فرنٹیئر کور اور خصوصی پروٹیکشن یونٹس سی پیک کے روٹس اور سائٹس کی حفاظت پر مامور ہیں۔ سکیورٹی کی اس بہتر صورتحال سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور منصوبوں پر کام کی رفتار تیز ہوئی ہے۔

سی پیک کی ترقی کو بین الاقوامی حلقوں میں بھی سراہا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور متعدد غیر ملکی تجزیہ کار اس منصوبے کو علاقائی معاشی ترقی کے لیے ماڈل قرار دے چکے ہیں۔ گوادر پورٹ کو وسط ایشیائی ریاستوں، افغانستان اور خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے متبادل راہداری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سی پیک اب ایک سادہ انفراسٹرکچر منصوبہ نہیں رہا بلکہ یہ پاکستان کی معاشی خود انحصاری، صنعتی بحالی، پیشہ ورانہ تربیت اور علاقائی رابطہ کاری کا جامع فریم ورک بن چکا ہے۔ پاکستان اور چین کی قیادت اس بات پر متفق ہے کہ یہ شراکت داری صرف منصوبوں پر مشتمل نہیں بلکہ عوامی ترقی، پائیداری اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر استوار ہے۔

سی پیک ۔ جہاں سڑکیں صرف راستے نہیں، بلکہ ترقی، تعلیم، روزگار اور عالمی دوستی کے زینے ہیں۔


اعلان دستبرداری: اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

Author

  • ڈاکٹر سید حمزہ حسیب شاہ ایک تنقیدی مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتے ہیں، خاص طور پر ایشیا اور جغرافیائی سیاست پر توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اردو میں اور علمی اور پالیسی مباحثوں میں فعال طور پر حصہ ڈالتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔