Nigah

قومی وقار کی قیمت: اسرائیل نواز پالیسی اور بھارتی خودمختاری کا زوال

[post-views]

8 اگست کو بھارتی سیاست میں ایک ایسا لمحہ آیا جس نے دہلی کی سفارتی کمزوری اور قومی وقار کی گرتی ہوئی ساکھ کو پوری دنیا کے سامنے عیاں کر دیا۔ کانگریس رہنما پریانکا گاندھی نے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو کھلے الفاظ میں نسل کشی قرار دیا۔ یہ بیان نہ صرف جرات مندانہ تھا بلکہ عالمی انسانی حقوق کے بیانیے کے ساتھ ہم آہنگ تھا۔ لیکن اس کے فوراً بعد بھارت میں تعینات اسرائیلی سفیر رووین آزار نے انتہائی غیر سفارتی اور توہین آمیز حملہ کرتے ہوئے پریانیکا گاندھی کے بیان کو شرمناک فریب کا مرتکب قرار دیا۔

یہ محض کسی بند کمرے میں دیا گیا نوٹ نہیں تھا بلکہ عوامی بیانیہ تھا جو بھارتی سرزمین پر ایک غیر ملکی سفارتکار نے جاری کیا۔ ایسی صورتحال میں خوددار ممالک کی حکومتیں اپنے قومی رہنماؤں کے دفاع میں کھڑی ہوتی ہیں جبکہ مودی حکومت نے اس معاملہ پر چپ سادھ لی ہے۔ ایک ایسی خاموشی جو بزدلی اور کمزوری کی علامت بن کر رہ گئی ہے۔

nigah baharat israel

ہر ملک میں سیاسی اختلافات فطری ہیں۔ لیکن جب کوئی غیر ملکی سفارتکار میزبان ملک کے سینئر سیاسی رہنما پر براہِ راست حملہ کرے تو یہ قومی وقار کے دائرے میں مداخلت کے مترادف ہوتا ہے۔ بھارت میں رووین آزار کے بیان نے یہ حقیقت کھول کر رکھ دی کہ مودی حکومت نہ تو داخلی اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ ہی بیرونی مداخلت کو روکنے کی سیاسی جرات۔

یہ خاموشی محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک بڑے رویے کی عکاس ہے۔ ایسا رویہ جہاں حکومت اپنے نظریاتی اتحادیوں کے خلاف جانے سے کتراتی ہے چاہے اس کی قیمت قومی خودداری ہی کیوں نہ ہو۔

مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت کی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ پہلے یہ پالیسی متوازن خودمختاری پر مبنی تھی جہاں مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو احتیاط اور برابری کی بنیاد پر آگے بڑھایا جاتا تھا۔ لیکن آج بھارت اسرائیل کے سامنے اس حد تک جھک چکا ہے کہ کسی غیر ملکی سفیر کی اتنی جرات ہو گئی ہے کہ وہ ایک سینئر اپوزیشن لیڈر کو سرِعام رسوا کرے۔

یہ وہی رجحان ہے جس کیلئے سفارتی زبان میں کلائنٹ اسٹیٹ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ جہاں خارجہ پالیسی اپنے قومی مفاد کے بجائے کسی بڑے اسٹریٹجک پارٹنر کی خوشنودی کے گرد گھومتی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے، اسلحے کی خریداری اور خفیہ انٹیلی جنس تعاون نے بھارت کو ایسے جال میں پھنسا دیا ہے جہاں قومی وقار چند ارب ڈالر کے سودوں پر قربان ہو رہا ہے۔

سفارتکاری کی دنیا میں ایک بنیادی اصول ہے کہ میزبان ملک کے سیاسی معاملات میں براہِ راست مداخلت سے گریز کیا جائے۔ لیکن آزار کے بے باک تبصرے نے اس روایت کو نہ صرف توڑا بلکہ بھارت میں سفارتی بے ادبی کا ایک نیا معیار قائم کر دیا۔

کانگریس اور شیو سینا سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے اسے حکومت کی اخلاقی اور سفارتی ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزارتِ خارجہ اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے وضاحت لے۔ حتیٰ کہ بعض رہنماؤں نے انہیں ناپسندیدہ شخص قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ لیکن دہلی کا ردعمل ایسا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ یہ ایسا رویہ ہے جو بھارت کی خودمختاری اور وقار پر سوالیہ نشان لگا گیا ہے۔

مودی حکومت کے دور میں بھارت اور اسرائیل کے تعلقات صرف اسلحے یا ٹیکنالوجی کے تبادلے تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ نظریاتی ہم آہنگی تک پہنچ گئے ہیں۔ ہندو قوم پرستی اور صیہونیت دونوں ہی اپنے اپنے معاشروں میں نسلی اکثریت کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے کشمیر میں اسرائیلی طرز کی بستیوں کا ماڈل اپنانا شروع کیا جس کا مقصد مقامی آبادی کا توازن بدلنا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ دفاعی سودے، مشترکہ انٹیلی جنس آپریشنز اور کارپوریٹ مفادات نے اس اتحاد کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ ایسے میں یہ توقع رکھنا کہ مودی حکومت اسرائیل کے کسی اقدام یا بیان کی مذمت کرے گی، ایک خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔

بھارت کا اسرائیل کی طرف مسلسل جھکاؤ نہ صرف مشرق وسطیٰ میں اس کے تعلقات کو متاثر کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی اخلاقی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب بھارت خود کو عدم وابستگی تحریک کا علمبردار کہلاتا تھا لیکن آج یہ صرف لین دین پر مبنی خارجہ پالیسی چلا رہا ہے۔

ایران پر اسرائیلی حملوں کی شنگھائی تعاون تنظیم کی مذمت میں شامل نہ ہونا اسی پالیسی کا واضح اشارہ ہے۔ یہ رویہ خطے کی حساسیت، انسانی حقوق اور عالمی انصاف کے اصولوں کو پس پشت ڈال کر محض اسٹریٹجک مفاد کے لیے چلایا جا رہا ہے۔

مودی حکومت کا داخلی طرزِ حکومت بھی اس خارجہ رویے سے جڑا ہوا ہے۔ جب ریاستی ادارے سیاسی مخالفین کو دبانے، میڈیا کی آزادی محدود کرنے اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوں تو ایسا ماحول بن جاتا ہے جہاں غیر ملکی سفارتکار خود کو محفوظ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی داخلی سیاست میں مداخلت کر سکتے ہیں۔

nigah india israel

یہ اندرونی جبر اور بیرونی بے عزتی کا خطرناک امتزاج ہے جو ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ عوامی سطح پر مخالفت کی گنجائش کم ہونے سے حکومت کے پاس بیرونی بے ادبی کا جواب دینے کی اخلاقی طاقت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

اسرائیلی سفیر کا یہ بیان صرف سفارتی بدتمیزی نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جس میں بھارت کی گرتی ہوئی خودمختاری، کمزور سفارتکاری اور داخلی آمرانہ رجحانات صاف دکھائی دیتے ہیں۔ یہ لمحہ مودی حکومت کے لیے امتحان تھا جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئی۔

اگر بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی اور داخلی طرزِ حکمرانی میں توازن پیدا نہ کیا تو یہ محض ایک واقعہ نہیں رہے گا بلکہ ایک رجحان بن جائے گا۔


اعلان دستبرداری: اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

Author

  • munir nigah

    ڈاکٹر محمد منیر ایک معروف اسکالر ہیں جنہیں تحقیق، اکیڈمک مینجمنٹ، اور مختلف معروف تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں میں تدریس کا 26 سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز (DSS) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔