ملائیشیا میں حکومت کے ایک حالیہ اعلان نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ جو مسلمان جمعے کی نماز ادا نہیں کریں گے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس اعلان کے بعد معاشرے میں رائے دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ کچھ لوگ اسے مذہب کی اجتماعی روح کو مضبوط بنانے کا مثبت قدم سمجھ رہے ہیں، جبکہ دوسروں کا خیال ہے کہ یہ اقدام ذاتی آزادیوں میں غیر ضروری مداخلت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ اب صرف مقامی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی گفتگو کا موضوع بن گیا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں جمعہ محض ایک نماز نہیں بلکہ مسلمانوں کی وحدت اور اجتماعی شعور کی علامت ہے۔ اس دن پوری کمیونٹی ایک جگہ جمع ہو کر نہ صرف عبادت کرتی ہے بلکہ اپنے مسائل پر بھی بات کرتی ہے اور آپس میں تعلقات مضبوط بناتی ہے۔ اسی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے ملائیشیا کی حکومت نے اسے ایک ایسا فریضہ قرار دیا ہے جس سے غفلت صرف ایک شخص کا نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتی ہے۔
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عبادت کو سزا کے خوف کے ساتھ ادا کرانا درست ہے؟ کیا یہ انسان کے ایمان اور نیت کی اصل روح سے متصادم نہیں؟ دنیا بھر میں مذہبی آزادی کو بنیادی حق سمجھا جاتا ہے، اور اگر کوئی شخص محض سزا سے بچنے کے لیے نماز پڑھنے لگے تو اس کے عمل میں اخلاص باقی نہیں رہتا۔ عبادت کی اصل قدر تب ہی ہے جب وہ دل سے اور اپنی مرضی سے کی جائے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی یہ معاملہ توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ کچھ حلقے کہتے ہیں کہ یہ اقدام مسلم معاشرے میں نظم و ضبط قائم رکھنے کا ذریعہ ہے، جبکہ دوسروں کے مطابق یہ انفرادی آزادیوں پر غیر ضروری قدغن ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے تحت ہر شخص کو اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے یا نہ کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ ایسے میں ملائیشیا کا یہ فیصلہ اس اصول سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ہے کہ ایک مسلم اکثریتی ملک اپنی مذہبی شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے کچھ اقدامات ضروری سمجھتا ہے۔
ملائیشیا کی حکومت کے نزدیک یہ صرف ایک قانونی پابندی نہیں بلکہ ایک طرح کا پیغام بھی ہے کہ لوگ اپنی مذہبی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیں۔ ان کا ماننا ہے کہ تیزی سے بدلتی دنیا اور جدید طرزِ زندگی کے دباؤ نے نوجوان نسل کو مذہبی فرائض سے غافل کر دیا ہے۔ اگر ابھی اقدامات نہ کیے گئے تو رفتہ رفتہ معاشرتی یکجہتی اور اسلامی شناخت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ معاملہ ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے کہ ریاست اور مذہب کا تعلق کہاں تک ہونا چاہیے؟ کیا حکومت کے پاس یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ شہریوں کو عبادت پر مجبور کرے، یا پھر یہ فیصلہ ہر فرد کی ذاتی ذمہ داری پر چھوڑ دینا چاہیے؟ حقیقت یہ ہے کہ جمعہ اسلام کا ایک بنیادی ستون ہے اور اس سے غفلت فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
ملائیشیا کے لیے یہ ایک کڑا امتحان ہے۔ اگر حکومت صرف سزا پر زور دیتی ہے تو یہ سماجی تقسیم کو بڑھا سکتا ہے، لیکن اگر ساتھ ہی مذہبی تعلیم اور شعور کو بھی فروغ دیا جائے تو یہ معاشرہ مثبت سمت میں جا سکتا ہے۔ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ روایت اور آزادی کے درمیان ایسا توازن قائم کیا جائے جو نہ صرف معاشرے کو متحد رکھے بلکہ فرد کی روحانی آزادی کو بھی محفوظ کرے۔