دنیا بھر میں مالیاتی منڈیاں اکثر کسی ملک کی معیشت کے اتار چڑھاؤ کی سب سے بڑی عکاس سمجھی جاتی ہیں۔ اسٹاک مارکیٹس کو عالمی سرمایہ کار اس لیے قریب سے دیکھتے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف کسی ریاست کی موجودہ معاشی حالت کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ مستقبل کے امکانات پر بھی روشنی ڈالتی ہیں۔
اس پس منظر میں پاکستان نے مالی سال 2024۔25 کے دوران ایک شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ ادارے بلوم برگ کے مطابق پاکستان نے ڈالر کے لحاظ سے دنیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی ایکویٹی مارکیٹ ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا ہے۔
پاکستان کی حیران کن کامیابی مالی سال 2025 میں پاکستان سٹاک ایکسچینج ہنڈرڈ انڈیکس نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ ڈالر کے لحاظ سے یہ انڈیکس 55.5 فیصد بڑھا جبکہ مقامی کرنسی یعنی پاکستانی روپے میں اس کا اضافہ 58.6 فیصد رہا۔ یہ اضافہ کسی ایک شعبے کی کارکردگی کا نتیجہ نہیں بلکہ مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد، حکومتی اصلاحات اور عالمی معاشی حالات کے تناظر میں پاکستان کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کا عکس ہے۔
یہ کارکردگی صرف پاکستان تک محدود کامیابی نہیں بلکہ خطے میں موجود دیگر بڑی معیشتوں بالخصوص بھارت اور چین کے مقابلے میں پاکستان کی واضح سبقت ہے۔ بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک پیچھے رہ گئے۔
پاکستان کے برعکس بھارت کی اسٹاک مارکیٹ بری طرح دباؤ کا شکار رہی۔ بھارتی سینسیکس انڈیکس پورے مالی سال میں صرف 3.2 فیصد بڑھ سکا جو پاکستان کی کارکردگی کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ امریکہ کی جانب سے بھارت پر تجارتی دباؤ میں اضافہ تھا۔ امریکی حکومت نے بھارتی برآمدات پر ٹیرف بڑھا دیے جس سے بھارتی ٹیکسٹائل، جیولری اور فیشن انڈسٹری کو بھاری نقصان پہنچا۔ یہی شعبے بھارت کی برآمدی معیشت کے بڑے ستون مانے جاتے ہیں۔
مزید برآں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھی بھارت سے منہ موڑ لیا جس سے وہاں کے مالیاتی ڈھانچے پر منفی اثر پڑا۔ موڈی اور بارکلیز جیسے عالمی مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ان حالات کے باعث بھارت کی جی ڈی پی میں 0.6 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
جولائی 2025 میں بھارت کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 27.35 ارب ڈالر تک جا پہنچا جو گزشتہ آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ اس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید متزلزل کر دیا جبکہ چین کی مارکیٹ بھی دباؤ میں رہی۔ اگرچہ وہاں کی حکومتی پالیسیاں سرمایہ کاروں کو سہارا دینے کی کوشش کرتی رہیں لیکن عالمی سست روی اور برآمدی مشکلات نے چینی اسٹاک مارکیٹ کی چمک مدھم کر دی۔ اس کے برعکس پاکستان نے خطے میں امید کی نئی کرن دکھائی۔
پاکستان کی مالیاتی کامیابی کو سمجھنے کے لیے امریکہ کی تجارتی پالیسیوں پر غور کرنا ضروری ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت کے خلاف سخت تجارتی اقدامات کیے ہیں۔ رواں برس 31 جولائی کو جب نئی تجارتی پابندیوں کا اعلان ہوا تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی۔ صرف ایک دن میں کے ایس ای ہنڈرڈ انڈیکس 1.3 فیصد یعنی تقریباً 1800 پوائنٹس بڑھ گیا۔ یہ اضافہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ سرمایہ کار اب پاکستان کو خطے میں سرمایہ کاری کے ایک محفوظ اور پُرکشش مقام کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ خاص طور پر توانائی کے شعبے میں امریکی سرمایہ کاری کی توقعات نے مارکیٹ میں نیا جوش پیدا کیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی اس کامیابی کے پیچھے سب سے اہم عنصر سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد ہے۔ حالیہ برسوں میں حکومت نے مالیاتی ڈھانچے میں کئی اصلاحات کی ہیں جن میں شفافیت کا اضافہ، کارپوریٹ سیکٹر میں آسانیاں اور عالمی معیار کے مطابق قواعد و ضوابط شامل ہیں۔ ان اقدامات نے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ علاوہ ازیں پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام نے بھی سرمایہ کاری کے رجحان کو بڑھایا۔
ماضی میں سیاسی بے یقینی اور سیکورٹی چیلنجز سرمایہ کاروں کے لیے بڑی رکاوٹ تھے مگر اب حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار کھل کر پاکستان کی مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔
جہاں پاکستان کے اسٹاک ایکس چینج نے نئی بلندیوں کو چھوا وہیں بھارت کو کئی محاذوں پر ناکامیوں کا سامنا رہا۔ امریکہ کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے باعث بھارت کی برآمدات خاص طور پر ٹیکسٹائل اور جیولری کے شعبے متاثر ہوئے۔ ان شعبوں میں عالمی مسابقتی برتری کھو دینے سے بھارت کی معیشت کو دھچکا لگا۔ اس کے برعکس پاکستان نے نہ صرف اپنی برآمدی صنعت کو بہتر بنایا بلکہ مقامی صنعتکاروں کو بھی سہولتیں فراہم کیں۔
توانائی بحران میں کمی اور حکومتی پالیسیوں کے تسلسل نے کاروباری طبقے کو اعتماد دیا کہ وہ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی اس شاندار کارکردگی نے عالمی اداروں کو بھی متوجہ کیا ہے۔ بلوم برگ کی رپورٹ نے پاکستان کو ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سرمایہ کاری کا مرکز قرار دیا ہے۔ اس بیان سے عالمی سرمایہ کاروں کو ایک مثبت اشارہ ملا ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان ان ممالک میں شامل ہو سکتا ہے جو سرمایہ کاری کے لیے سب سے زیادہ پُرکشش سمجھے جاتے ہیں۔
یہ حقیقت کہ پاکستان نے صرف ایک سال میں خطے کی بڑی معیشتوں کو پیچھے چھوڑ دیا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو پاکستان طویل المدتی بنیادوں پر بھی اس کامیابی کو قائم رکھ سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس کامیابی کو برقرار رکھ پائے گا؟ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت اصلاحات کو جاری رکھتی ہے، توانائی کے منصوبے وقت پر مکمل ہوتے ہیں اور سرمایہ کار دوست پالیسیاں برقرار رہتی ہیں تو پاکستان کا اسٹاک ایکس چینج آئندہ برسوں میں مزید بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
ڈاکٹر حمزہ خان نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، اور یورپ سے متعلق عصری مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور لندن، برطانیہ میں مقیم ہے۔
View all posts
