Nigah

کون امن کا خواہاں، کون انتشار کا بیوپاری؟

PTM
[post-views]

وطن عزیز کے قبائلی علاقے کی تاریخ آزمائشوں، بہادری اور قربانیوں سے عبارت ہے۔ قیام امن کیلئے قبائلی علاقوں کے باسیوں نے نہ صرف اپنے عزیز و اقارب گنوائے بلکہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ تاہم ایسے وقت میں جب ملک قومی یکجہتی اور اتحاد و اتفاق کی جانب بڑھ رہا ہے کچھ مخصوص عناصر جھوٹ اور پراپیگنڈے کے ذریعے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان عناصر میں سب سے اہم نام پشتون تحفظ موومنٹ کا ہے جس کا بیانیہ تو عوامی مسائل و مشکلات پر مبنی ہے تاہم پس پردہ اس تنظیم کا مقصد ریاستی اداروں کو بدنام کرنا اور دہشت گردوں کو بالواسطہ تحفظ فراہم کرنا ہے۔

چند روز قبل قبائلی ضلع اورکزئی کے علاقے سترا سم میں پیش آنے والے واقعہ کو پی ٹی ایم نے اپنی روایت کے مطابق غلط انداز میں بیان کیا۔ پی ٹی ایم سے وابستہ عمر پشتین اس جھوٹی کہانی کو پھیلانے والوں میں پیش پیش تھا۔

اس واقعہ کو من گھڑت انداز میں یوں بیان کیا گیا کہ مقامی لوگوں نے کچھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جن سے بندوقیں اور راکٹ لانچر بھی برآمد کئے گئے اور بعد ازاں مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کے اہلکار ان مسلح افراد کو چھڑا لے گئے۔ مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز نے ان افراد کو ہمارے لوگ قرار دیا۔ اسی طرح ایک واقعہ جنوبی وزیرستان میں وانا سے جوڑا گیا اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے حوالے سے بھی غلط دعوے کئے گئے۔ منظور پشتین اور اس کی تنظیم میں شامل لوگوں نے اس پروپیگنڈے کو سوشل میڈیا پر پھیلایا تاکہ سکیورٹی فورسز کے خلاف نفرت پیدا کی جاسکے۔

ان واقعات کی اصل حقیقت اس سے بالکل برعکس تھی۔ اورکزئی میں گرفتار ہونے والے تحریک طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد تھے جو علاقے میں پولیس، عوام اور سکیورٹی اداروں پر متعدد حملوں میں ملوث تھے جنہیں سکیورٹی فورسز نے انسداد دہشت گردی اقدامات کے تحت حراست میں لیا تھا۔ لیکن پی ٹی ایم نے اس واقعہ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور واقعہ کو یہ رنگ دینے کی کوشش کی کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کو بچا رہی ہیں۔

nigah Ali amin Gandapur

اسی طرح وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا بیان بھی مسخ کر کے پیش کیا گیا حالانکہ علی امین گنڈاپور نے اپنے بیان کی وضاحت بھی کی اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی حمایت کی اور فورسز کی قربانیوں کا اعتراف بھی کیا۔

پی ٹی ایم بظاہر عوامی مسائل پر آواز اٹھاتی ہے لیکن اپنی اصل پالیسی کے تحت ریاستی اداروں پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ دہشت گردوں کو مظلوم اور سکیورٹی فورسز کو ظالم بنا کر پیش کرنا اس تنظیم کا اصل ایجنڈا ہے۔ وانا اور اورکزئی کے واقعات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

ان جھوٹے بیانیوں کے ذریعے پی ٹی ایم فوج اور ریاستی اداروں پر عوامی عدم اعتماد اور دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنے جیسے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔

یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وطن عزیز کے قبائلی عوام دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ سکولوں، مساجد اور بازاروں میں حملے اور خودکش دھماکے اس ٹی ٹی پی اور فتنہ الخوارج نے کروائے جنہیں آج پی ٹی ایم سہارا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ جبکہ دوسری جانب فوج اور پولیس کے جوان ہیں جو ان علاقوں کو محفوظ بنانے کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ میں سکیورٹی فورسز کے ہزاروں افسران اور اہلکاروں نے قبائلی علاقوں اور ملک بھر میں قیام امن کیلئے اپنی جانیں قربان کیں۔ یقینا ان قربانیوں کو پس پشت ڈال کر اور دہشت گردوں کو ہیرو بنا کر پیش کرنا کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں ہے۔

پی ٹی ایم کی جانب سے حقائق مسخ کرکے پیش کرنا صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات انتہائی دور رس نتائج کے حامل ہیں۔ اس انداز کے پراپیگنڈے عوام کو ریاستی اداروں سے بدظن اور نوجوانوں کو گمراہ کر کے ان کے ذہنوں میں کنفیوژن پیدا کرتے ہیں۔ دوسری جانب دہشت گردوں کو اپنی مضبوط پشت پناہی کا تاثر بھی ملتا ہے جبکہ دشمن ممالک وطن عزیز کے اندرونی مسائل کو ہوا دے کر فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔

افواج پاکستان اور قبائلی عوام کے مابین قربانیوں اور اعتماد کا رشتہ قائم ہے۔ اسی عوام نے دہشت گردی کے خلاف پاک افواج کے شانہ بشانہ جنگ لڑی اور پاک فوج سے بھرپور تعاون کرتے ہوئے اپنے گھر بار چھوڑے اور آئی ڈی پیز کی زندگی اختیار کی۔ جھوٹے پروپیگنڈے اس قدر مضبوط رشتے نہیں توڑ سکتے۔ وطن عزیز اور قبائلی اضلاع کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ حقیقت میں کون ان کا تحفظ کرنے والا ہے۔

ان حالات میں عوام، میڈیا اور باشعور طبقہ کی ذمہ داری ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کا جھوٹ بے نقاب کیا جائے۔ اس پروپیگنڈے کا تدارک اور قلع قمع نہ ہوا تو آئندہ نسلوں کے ذہن پراگندہ ہوجائیں گے۔ لہٰذا ہمارا فرض ہے کہ سچائی کو سمجھیں اور پہچانیں اور ایسے عناصر کو مسترد کردیں جو قومی سلامتی کو داو پر لگا کر بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے ریاست مخالف بیانیہ سے وقتی اور عارضی طور پر کنفیوژن تو پیدا ہو سکتی ہے لیکن تاریخ اور حقائق ہمیشہ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ریاست اور عوام ایک دوسرے کے شانہ بشانہ ہیں اور ان کا لازوال رشتہ ہمیشہ قائم رہے گا۔

اعلان دستبرداری: اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

Author

  • ڈاکٹر ظہیرال خان

    ظہیرال خان ایک مضبوط تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے ساتھ، وہ بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔