ایک حافظِ قرآن بچہ دنیا سے رخصت ہو گیا، سننے والوں کے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ اتنی کم عمر میں، جب زندگی کے دروازے ابھی ابھی کھلنے لگتے ہیں، خواب جڑ پکڑنے لگتے ہیں اور دل میں روشن مستقبل کی آس جگتی ہے، ایک ایسا حادثہ رونما ہوا جس نے سب کو افسردہ کر دیا۔ یہ بچہ کچے نوڈلز کھانے کا عادی تھا، اور وہی چھوٹی سی عادت اس کی جان لے گئی۔ اس کی موت نے ہر شخص کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہماری روزمرہ کی معمولی سی غفلت کس طرح بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔
نوڈلز عام طور پر بچوں کا پسندیدہ اسنیک ہے۔ پیکٹ کھولنا، اس پر مصالحہ چھڑکنا اور بغیر پکائے اسے چٹ کر جانا بہت سے بچوں کے لیے تفریح جیسا ہوتا ہے۔ والدین بھی اکثر ہنسی میں ٹال دیتے ہیں کہ بچہ ذرا سا نوڈلز ہی تو کھا رہا ہے، مگر یہ معمولی حرکت کسی بڑے سانحے میں بدل سکتی ہے، اس کا اندازہ شاید ہی کسی نے لگایا ہو۔ ماہرین صحت بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ کچے نوڈلز معدے کو نقصان پہنچاتے ہیں، نظامِ ہاضمہ کو بگاڑ دیتے ہیں اور بعض اوقات انفیکشن یا پیچیدگیوں کا باعث بنتے ہیں، لیکن ان باتوں کو عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی نظراندازی اس ننھے حافظ کی زندگی کا چراغ بجھا گئی۔
اس بچے کی موت صرف اس کے والدین کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے محلے کے لیے دل دہلا دینے والا سانحہ ہے۔ جو بچہ کم عمری میں قرآن مجید اپنے سینے میں محفوظ کر چکا تھا، جو سب کا لاڈلا اور مسجد کی رونق تھا، وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ محلے والے بتاتے ہیں کہ اس کی آواز میں ایک خاص سکون تھا، وہ سب سے پیار اور نرمی سے پیش آتا اور ہر شخص کے دل میں جگہ بنا لیتا تھا۔ اس کی اچانک جدائی نے نہ صرف والدین کو صدمے سے نڈھال کر دیا بلکہ پوری کمیونٹی کو غمزدہ کر دیا ہے۔
یہ سانحہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کے معمولات اور کھانے پینے کی عادات پر کتنا دھیان دیتے ہیں؟ آج کے دور میں جہاں پیکٹ فوڈ، جنک اسنیکس اور فاسٹ فوڈ ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، وہاں یہ والدین کے لیے مزید ذمہ داری کا لمحہ ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر وہ چیز جو بظاہر بچوں کو خوشی دیتی ہے، ضروری نہیں کہ ان کے جسم کے لیے بھی محفوظ ہو۔ ایک معمولی سی لاپرواہی اتنی بڑی قیمت وصول کر سکتی ہے کہ زندگی بھر کا غم ساتھ چھوڑ جائے۔
اس واقعے کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہمیں اپنی غفلت کو ختم کرنا ہوگا۔ اپنے گھروں میں بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ کون سی چیز نقصان دہ ہے اور کس چیز سے دور رہنا ہے۔ ہمیں خود بھی احتیاط برتنی ہوگی تاکہ بچے ہمارا عمل دیکھ کر سیکھیں۔ ڈاکٹرز بارہا کہتے ہیں کہ بچوں کو فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس اور پراسیسڈ اشیا سے دور رکھیں، کیونکہ یہ وقتی ذائقہ تو دیتی ہیں لیکن اندر ہی اندر جسم کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
اس 13 سالہ حافظ کی موت محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک سبق ہے، ایک وارننگ ہے کہ اگر ہم نے اب بھی اپنی عادات نہ بدلی تو جانے کتنے گھر اسی طرح اجڑ جائیں گے۔ یہ بچہ تو چلا گیا، مگر اپنے پیچھے سوچنے کے لیے بہت کچھ چھوڑ گیا ہے۔ اس کی معصوم مسکراہٹ اور قرآن کی تلاوت ہمیشہ یاد رہے گی، اور اس کا جانا ہمیں یہ یاد دلاتا رہے گا کہ اپنے بچوں کی صحت، زندگی اور مستقبل کی حفاظت ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔