پاکستان میں معروف شخصیت اور روحانی علوم کے ماہر ساحر لودھی ہمیشہ سے اپنی غیر معمولی سرگرمیوں اور منفرد طریقہ کار کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ حال ہی میں ان کے بارے میں ایک نیا سوال پیدا ہوا ہے: وہ رات کے سنسان وقت یعنی 2 بجے سے 4 بجے کے درمیان قبرستان کیوں جاتے ہیں؟ یہ خبر سوشل میڈیا اور صارفین کے درمیان کافی چرچا کا موضوع بن گئی ہے۔
رات کے اس وقت قبرستان جانے کی وجوہات
ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اس وقت قبرستان میں جانا کچھ روحانی اور سائنسی وجوہات کی بنا پر مفید سمجھا جاتا ہے:
خاموش ماحول: رات کے اوقات میں قبرستان میں سکوت اور خاموشی ہوتی ہے، جس سے روحانی اور مراقبتی سرگرمیوں پر مکمل توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔
طاقت اور توانائی: کچھ روحانی ماہرین کا ماننا ہے کہ رات کے اس مخصوص وقت میں زمین اور ماحول میں منفرد توانائی موجود ہوتی ہے جو روحانی مشقوں کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔
توجہ اور ارتکاز: قبرستان کے پرسکون ماحول میں ذہنی ارتکاز اور توجہ بڑھتی ہے، جو روحانی علوم اور مراقبہ کے لیے ضروری ہے۔
ساحر لودھی کا موقف
ساحر لودھی نے خود کہا ہے کہ وہ اس وقت قبرستان اس لیے جاتے ہیں تاکہ وہ خاموشی اور تنہائی میں روحانی مشقیں کر سکیں اور لوگوں کی رہنمائی کے لیے اپنے علم کو بڑھا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمی خطرناک یا خوفناک نہیں بلکہ روحانی ارتقاء اور ذاتی سکون کے لیے ایک مثبت عمل ہے۔
پنجاب میں خواتین کا سب سے بڑا ایونٹ ‘پنک گیمز’ کرانے کا فیصلہ
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس موضوع پر مختلف رائے دی ہیں۔ کچھ لوگ ان کی روحانی صلاحیتوں کو سراہتے ہیں اور انہیں ہمت اور علم کا نمونہ قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ سرگرمی محفوظ ہے یا نہیں۔ بہرحال، ساحر لودھی کی یہ عادت روحانی دنیا میں ان کی منفرد پہچان کا حصہ بن گئی ہے۔
نتیجہ
ساحر لودھی کا رات کے سنسان وقت قبرستان جانا ایک روحانی عمل اور ذاتی مراقبہ کے لیے کیا جانے والا قدم ہے۔ اگرچہ یہ رویہ عام لوگوں کے لیے سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے، لیکن ان کے مطابق یہ سرگرمی ان کے علم اور روحانی تجربے کا حصہ ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ روحانی علوم میں بعض اوقات عام رویے سے ہٹ کر اقدامات کیے جاتے ہیں، جن کے مقصد اور فوائد صرف ماہرین ہی سمجھ سکتے ہیں۔