Nigah

سامعہ حجاب کو اغوا کرنے کے بعد حسن نےگھر واپس کیوں چھوڑا؟

nigah سامعہ حجاب
[post-views]

ٹک ٹاکر نے ساری کہانی سنادی
ٹک ٹاک
کی دنیا میں مشہور ہونے والی سامعہ حجاب اچانک اس وقت خبروں میں آگئی جب یہ خبر پھیلی کہ اسے اغوا کر لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر کوئی حیران اور پریشان تھا۔ لوگ پوچھ رہے تھے: “سامعہ کہاں ہے؟ کیا وہ محفوظ ہے؟” یہ سوال ہر زبان پر
تھا۔ لیکن پھر اچانک خبر آئی کہ سامعہ گھر واپس آ گئی ہے۔ اور سب سے زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ جس شخص نے اسے اٹھایا، یعنی حسن، وہی اسے واپس چھوڑ گیا۔

سامعہ نے بعد میں خود پوری کہانی سنائی۔ اس نے کہا کہ جب اسے زبردستی ساتھ لے جایا گیا تو وہ لمحہ اس کے لیے ڈرا دینے والا تھا۔ دل کی دھڑکن تیز، خوف آنکھوں میں اور ذہن میں ایک ہی سوال: “اب میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟” لیکن وقت کے ساتھ ساتھ صورتحال بدلی۔ حسن، جس نے یہ قدم اٹھایا تھا، اسے بھی اندازہ ہوا کہ اس کا فیصلہ غلط تھا۔ شاید اسے ڈر لگا کہ اگر بات بڑھ گئی تو قانون ہاتھ ڈالے گا یا لوگ اس کے پیچھے پڑ جائیں گے۔ یہی خوف اور دباؤ تھا جس نے اسے مجبور کیا کہ وہ سامعہ کو گھر واپس لے جائے۔

سامعہ نے بتایا کہ وہ لمحہ جب وہ واپس گھر پہنچی، اس کے لیے کسی خواب سے کم نہیں تھا۔ جیسے کوئی اندھیری رات کے بعد روشنی لوٹ آئی ہو۔ وہ کہتی ہے: “میں نے سوچا تھا شاید اب کچھ ٹھیک نہ ہو سکے، مگر اللہ نے میری دعا سن لی اور میں دوبارہ اپنے گھر کی دہلیز پر آ گئی۔”

سوشل میڈیا پر یہ خبر پھیلتے ہی طوفان سا آ گیا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ حسن نے آخرکار عقل سے کام لیا اور بڑی غلطی کرنے سے پہلے ہی رک گیا۔ کچھ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ایسی صورتحال کیوں پیدا ہوئی؟ اور پھر کئی لوگوں نے سامعہ کے حوصلے کو سراہا کہ اس نے ڈرنے کے بجائے اپنی بات سب کے سامنے رکھی۔

یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ سوشل میڈیا کی دنیا صرف شہرت نہیں دیتی، اس کے ساتھ خطرات بھی جڑے ہوتے ہیں۔ جب کوئی چہرہ ہزاروں لوگوں کے سامنے آتا ہے تو کچھ لوگ اسے پسند کرتے ہیں اور کچھ اس پر بری نظر بھی رکھتے ہیں۔ سامعہ حجاب کی کہانی یہی بتاتی ہے کہ شہرت کے ساتھ ساتھ محتاط رہنا بھی ضروری ہے۔

آخر میں سامعہ نے اپنے فالوورز کو یہ پیغام دیا کہ ہمیشہ ہوشیار رہیں۔ “یہ واقعہ میرے لیے سبق تھا، اور میں چاہتی ہوں کہ دوسروں کے لیے بھی یہ ایک سبق بنے۔ احتیاط کبھی نقصان نہیں دیتی، بلکہ آپ کو وقت سے پہلے مشکلات سے بچا لیتی ہے۔”

یوں ایک خوفناک واقعہ جس نے سب کو چونکا دیا تھا، اس کا اختتام سامعہ کی محفوظ واپسی پر ہوا۔ لیکن یہ کہانی سب کو سوچنے پر مجبور کر گئی کہ ہمارے معاشرے میں اب بھی ایسی کمزوریاں موجود ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے۔

اوپر تک سکرول کریں۔