Nigah

سندھ حکومت نے حاملہ خواتین کیلیے امداد 30 ہزار سے بڑھا کر 41 ہزار کردی

nigah sindh gov
[post-views]

سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں دوپہر کا وقت ہے۔ صحن میں بیٹھی زینت، جو آٹھویں مہینے کی حاملہ ہے، ہاتھ میں دوپٹہ گھماتے ہوئے سوچوں میں گم ہے۔ گھر کے حالات تنگ ہیں، شوہر کھیتوں میں مزدوری کرتا ہے، اور وہ پریشان ہے کہ بچے کی پیدائش پر اسپتال کے خرچے کہاں سے پورے ہوں گے۔ اسی دوران ریڈیو سے ایک خبر نشر ہوتی ہے کہ سندھ حکومت نے حاملہ خواتین کی امداد 30 ہزار سے بڑھا کر 41 ہزار کر دی ہے۔ زینت کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ وہ فوراً اپنی ساس کو آواز دیتی ہے، "اماں! سنو تو، اب ہمیں گیارہ ہزار روپے اور ملیں گے۔”

یہ خبر گاؤں میں تیزی سے پھیل جاتی ہے۔ ہر گھر کی عورتیں بات کر رہی ہیں کہ اب کچھ سہولت میسر آ سکے گی۔ کوئی کہتی ہے کہ اب وہ اچھی خوراک خرید سکے گی، کوئی کہتی ہے کہ دوا دارو کا انتظام بہتر ہو گا، اور کوئی خوشی سے بتاتی ہے کہ وہ اپنے بچے کے لیے نئے کپڑے ضرور لے گی۔

زچگی کے دنوں میں پیسوں کی کمی ہمیشہ ان خواتین کے لیے بڑی آزمائش رہی ہے۔ اکثر انہیں علاج ادھورا چھوڑنا پڑتا ہے یا قرض لینا پڑتا ہے۔ ایسے میں گیارہ ہزار روپے کا یہ اضافہ چھوٹا نہیں بلکہ ان کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔ ایک بزرگ خاتون کہتی ہیں، "یہ پیسہ صرف روپے نہیں، یہ ہمارے بچوں کی زندگی ہے۔”

شام کے وقت جب مرد کھیتوں سے واپس آتے ہیں تو گھروں میں یہی موضوع چل رہا ہوتا ہے۔ مٹی کے چولہے پر کھانا پکاتے ہوئے عورتیں شوہروں کو بتاتی ہیں، "اب ہسپتال جانا آسان ہو گا، اب دوائی وقت پر ملے گی۔” بچے بھی یہ سب سنتے ہیں اور معصومیت سے خوش ہو جاتے ہیں کہ ان کے آنے والے بہن بھائی کے لیے کچھ خاص ہوگا۔

یہ امداد دراصل ایک سہارا ہے، ایک یقین ہے کہ حکومت ان کے حالات کو سمجھ رہی ہے۔ اگر یہ پیسہ وقت پر اور شفاف طریقے سے خواتین تک پہنچے تو یہ صرف ایک مالی امداد نہیں بلکہ ایک نئے مستقبل کی ضمانت ہے۔ آخر میں گاؤں کے بزرگ کہتے ہیں، "ماں اور بچے کی صحت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ اگر حکومت اس پر دھیان دے رہی ہے تو یہ بہت بڑی بات ہے۔”

 

اوپر تک سکرول کریں۔