"شائننگ انڈیا” کی عملی تصویر دیکھنی ہو تو دنیا کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے حالات پر نظر ڈالنی چاہیے۔ بھارت نے 7 دہائیوں سے کشمیریوں پر عرصۂ حیات تنگ کر رکھا ہے اور وہاں کے لاکھوں نوجوان بیروزگاری کا شکار ہیں۔ مودی حکومت نے 2019 میں آرٹیکل 370 تنسیخ کرکے کشمیریوں کی نام نہاد خود مختاری کو بھی غصب کیا اور کشمیریوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازش کی گئی۔ کشمیری نوجوانوں کو سہانے خواب دکھائے گئے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ترقی کی راہیں کھل گئی ہیں لیکن ان نام نہاد دعوؤں کی حقیقت کھولنے کے لیے یہ کافی ہے کہ مقبوضہ وادی میں نائب تحصیلدار کی صرف 75 اسامیوں کے لیے ایک لاکھ سے زائد امیدواروں نے درخواستیں دیں اور رجسٹریشن کے نام پر کروڑوں روپے بھی اینٹھ لیے گئے۔
لیکن افسوس عملے کی سیاسی مداخلت، غیر شفافیت کے نام پر بھرتی کا عمل اچانک مؤخر کرنے کے فیصلوں نے کشمیری نوجوانوں کی مایوسی مزید بڑھا دی ہے۔ یہ صورتحال مقبوضہ وادی میں بیروزگاری اور بھارت کے استحصالی طرز حکمرانی، دوہرے معیار اور جعلی ترقیاتی نعروں کو بھی عیاں کرتی ہے۔
ایک لاکھ امیدواروں کا محض 75 اسامیوں کے لیے درخواست دینا ظاہر کرتا ہے کہ مقبوضہ علاقے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریوں کے باوجود مایوسی اور محدود مواقع کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ نے بھرتی کو پیسے بٹورنے کا دھندہ شروع کر رکھا ہے۔ درخواستوں کی تفصیلات پوشیدہ رکھ کر اس ادارے نے شفافیت پر بھی سوالیہ نشان اٹھا دیے ہیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان ایک لاکھ امیدواروں میں ایم فل سند یافتہ نوجوان بھی شامل تھے۔ یہ صورتحال بھارتی حکومت کے اس دعوے کو جھوٹا ثابت کرتی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ بھارتی تسلط میں کشمیر کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں انتظامی عمل میں سیاسی اثر و رسوخ گہرا ہوتا ہے اور نائب تحصیلدار کی بھرتی بھی اس سے مستثنیٰ نہ رہ سکی۔
بھرتی کا عمل موخر ہونے سے امیدوار سخت اضطراب اور غیر یقینی کا شکار ہیں۔ لازمی اردو کی شرط پر مقبوضہ جموں میں انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت کئی حلقوں نے احتجاج بھی کیا۔ سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے تقسیم کرنے والی سیاست کے زیر اثر قرار دیا۔ اس موقف سے نوجوانوں کی مایوسی مزید بڑھ گئی کیونکہ نوجوان عدلیہ کو آخری امید سمجھتے تھے، لیکن جب عدلیہ بھی سیاسی دائرے میں جکڑی جا چکی ہے تو پھر انصاف کہاں سے ملے گا۔ یہ اعتراض حقیقت میں اس بیانیہ کو مضبوط کرتا ہے کہ بی جے پی اردو زبان کو نشانہ بنا کر کشمیری تشخص مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
جموں و کشمیر سلیکشن سروسز بورڈ کے فیصلے نے یہ پیغام بھی دیا کہ اصل مقصد نوجوانوں کو روزگار دینا نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے لیے انہیں بے یقینی میں مبتلا رکھنا ہے۔ کشمیریوں کی نئی نسل یہ حقیقت جان چکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نافذ معاشی استحصالی نظام نوجوانوں کو مایوسی کی دلدل میں دھکیلنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
اس کے اثرات صرف امیدواروں تک محدود نہیں رہیں گے کیونکہ جب ہزاروں خاندانوں کی خون پسینے کی کمائی ضائع ہوگی اور نوجوان نسل مایوسی میں ڈوب جائے گی تو سماج میں بے چینی اور اضطراب کا بڑھنا فطری ہے جو کشمیری عوام میں مزاحمت اور بداعتمادی کو مزید گہرا کریں گے۔
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
ڈاکٹر حمزہ خان نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، اور یورپ سے متعلق عصری مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور لندن، برطانیہ میں مقیم ہے۔
View all posts