عالمی بینک نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان کو ایک رعایتی قرض فراہم کرنے جا رہا ہے تاکہ ملکی معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ پاکستان اس وقت کئی معاشی مشکلات میں گھر چکا ہے، مہنگائی میں تیزی، ڈالر کی کمی اور قرضوں کے دباؤ نے حکومت کے لیے صورتحال مشکل بنا دی ہے۔ ایسے وقت میں یہ پیکیج وقتی سہولت کے طور پر سامنے آیا ہے جو مختصر مدت میں کچھ ریلیف فراہم کر سکتا ہے۔
اس قرضے کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ اس میں شرائط عام قرضوں کی نسبت نرم رکھی جاتی ہیں۔ سود کی شرح کم اور واپسی کے لیے زیادہ وقت دیا جاتا ہے تاکہ ترقی پذیر ملک آسانی سے اپنے مسائل حل کر سکیں۔ پاکستان کو بھی یہ موقع ملے گا کہ وہ اس رقم کو تعلیم، صحت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر استعمال کرے۔ اگر یہ سرمایہ صحیح منصوبہ بندی کے ساتھ لگایا گیا تو براہِ راست عوام کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور ملکی معیشت میں بہتری آ سکتی ہے۔
ماہرین کی رائے میں قرض وقتی سہارا تو دے سکتا ہے لیکن اس پر مکمل انحصار خطرناک ہے۔ اگر یہ رقوم غیر مؤثر منصوبوں یا غلط سمت میں خرچ کر دی گئیں تو مستقبل میں یہ سہولت بوجھ میں بدل سکتی ہے۔ لیکن اگر یہی فنڈز ایسے منصوبوں پر لگائے جائیں جو روزگار پیدا کریں اور معیشت کو مستحکم کریں تو یہ قرض ایک مثبت سرمایہ کاری ثابت ہو گا۔
پاکستان کو اب صرف بیرونی قرضوں کے سہارے نہیں رہنا چاہیے بلکہ اندرونی سطح پر بڑے فیصلے کرنے ہوں گے۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات، برآمدات کو فروغ دینا، مقامی صنعتوں کو سہارا دینا اور سرمایہ کاری کے لیے بہتر ماحول پیدا کرنا وہ اقدامات ہیں جو ملک کو پائیدار ترقی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ عالمی بینک کا یہ قرض ایک موقع فراہم کرتا ہے، لیکن اسے کامیابی میں بدلنے کے لیے حکومت کو شفاف اور مضبوط حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ پیکیج پاکستان کے لیے وقتی ریلیف ضرور فراہم کرے گا، لیکن اس کا اصل فائدہ تب ہی ممکن ہے جب فنڈز دانشمندی سے استعمال کیے جائیں اور پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے۔ بصورت دیگر یہ سہولت بھی ایک اور قرض کے بوجھ میں بدل سکتی ہے۔ اگر حکومت نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا تو یہ قرض مستقبل کے لیے ایک مثبت آغاز بن سکتا ہے۔