Nigah

گوگل کو کروم براؤزر فروخت کرنا ہوگا یا نہیں، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

nigah google sale chrome
[post-views]

امریکہ کی عدالت نے گوگل کے خلاف ایک بڑے اینٹی ٹرسٹ کیس میں اہم فیصلہ سنایا ہے جس نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ کئی ماہ سے یہ بحث جاری تھی کہ کیا گوگل کو اپنی مشہور سروسز، جیسے کروم براؤزر یا سرچ انجن، فروخت کرنا پڑیں گی تاکہ دوسرے حریفوں کو مارکیٹ میں جگہ مل سکے۔ ناقدین کا مؤقف تھا کہ گوگل نے اپنی گرفت اتنی مضبوط کر لی ہے کہ چھوٹی کمپنیوں کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہو گیا ہے۔ عدالت نے تاہم یہ فیصلہ دیا کہ فی الحال گوگل کو اپنے یہ کاروباری حصے بیچنے کی ضرورت نہیں، لیکن اس پر گہری نظر رکھی جائے گی تاکہ وہ طاقت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔

یہ فیصلہ بظاہر گوگل کے لیے بڑی جیت ہے کیونکہ اگر کمپنی کو کروم یا سرچ بزنس الگ کرنا پڑتا تو اس کے منافع اور شناخت پر براہِ راست اثر پڑتا۔ مگر یہ ریلیف کے ساتھ ایک وارننگ بھی ہے کہ اگر مستقبل میں گوگل نے اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کیا تو اسے سخت نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ جج نے واضح کیا کہ کمپنی کے تجارتی رویے پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور کسی بھی غیر منصفانہ عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکہ اور یورپ میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر اجارہ داری کے الزامات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ایمازون، ایپل اور میٹا کے ساتھ ساتھ گوگل پر بھی یہ الزام ہے کہ وہ اپنی طاقت کے ذریعے نئے مقابلین کے لیے راستے بند کرتی ہیں اور صارفین کو محدود انتخاب دیتی ہیں۔ خاص طور پر گوگل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا سرچ انجن پہلے ہی دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے اور کروم براؤزر کے ذریعے یہ برتری مزید بڑھتی ہے، کیونکہ براؤزر کھولتے ہی صارفین کو گوگل سرچ ہی سامنے ملتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ وقتی طور پر گوگل کو بچا گیا ہے لیکن مستقبل میں اسے اپنی پالیسیوں میں بہتری لانا ہوگی۔ اگر کمپنی نے کھلے مقابلے کے اصول نہ اپنائے تو عدالت یا حکومت سخت اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ کچھ ماہرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر کروم کو سرچ انجن سے الگ کر دیا جاتا تو صارفین کے پاس زیادہ آپشنز ہوتے اور دیگر کمپنیوں کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا، لیکن موجودہ فیصلے نے یہ امکان فی الحال ختم کر دیا ہے۔

عام صارفین کے لیے اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ وہ گوگل کی سروسز پہلے کی طرح ہی استعمال کر سکیں گے۔ گوگل اپنی سہولت، رفتار اور مفت سہولیات کی وجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہے، اسی لیے زیادہ تر صارفین اس نتیجے سے خوش ہیں کہ فی الحال کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔ البتہ مستقبل میں اگر نئے فیصلے سامنے آتے ہیں تو ان خدمات کے استعمال کا طریقہ بدل سکتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ فیصلہ گوگل کے لیے وقتی کامیابی ہے لیکن کہانی ختم نہیں ہوئی۔ عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ اگر کمپنی نے اپنی طاقت کا ناجائز استعمال جاری رکھا تو سخت کارروائی ہوگی۔ یہ پیغام صرف گوگل ہی کے لیے نہیں بلکہ دنیا کی تمام بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے ہے کہ صارفین اور مارکیٹ کو محدود کرنے کی پالیسی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔

اوپر تک سکرول کریں۔