Nigah

امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں ایک اور کمی کر دی

امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں ایک اور کمی کر دی
[post-views]

امریکی فیڈرل ریزرو نے سود کی شرحوں میں ایک اور کمی کا اعلان کر دیا ہے، شرحِ سود کو 0.25 فیصد کم کر کے 3.75 سے 4 فیصد کی حد میں لے آیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اُس وقت کیا گیا ہے جب افراطِ زر کے خدشات میں کمی اور روزگار کی کمزور صورتحال کے بڑھتے خطرات سامنے آ رہے ہیں۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن تقریباً ایک ماہ سے جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق لیبر ڈیٹا کی عدم دستیابی نے فیڈ کو ’’اندھیرے میں پرواز‘‘ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

فیڈ کی پالیسی کمیٹی کے دو اراکین نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ اسٹیفن میرن نے 0.5 فیصد پوائنٹ کمی کا مطالبہ کیا جبکہ جیفری شمڈ (کنساس سٹی فیڈرل ریزرو بینک) نے شرح سود برقرار رکھنے کی سفارش کی۔

اس فیصلے کے بعد قرض لینے کی لاگت تین سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کا مقصد روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینا ہے۔ چیئرمین جیروم پاول نے اعتراف کیا کہ امریکی لیبر مارکیٹ ’’پہلے سے کم متحرک اور قدرے سست‘‘ ہو گئی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی یہ کمزوری تیزی سے نہیں بڑھ رہی۔

حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث سرکاری روزگار کے اعدادوشمار جاری نہیں ہو سکے، جس کی وجہ سے فیڈ کو نجی شعبے کے ڈیٹا پر انحصار کرنا پڑا۔ اے ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں 32 ہزار نوکریاں ختم ہوئیں، جو بھرتیوں میں مسلسل سست روی کو ظاہر کرتا ہے۔

افراطِ زر کے تازہ ترین اعدادوشمار میں سالانہ قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو توقع سے کم ہے۔ اس سے فیڈ کو لیبر مارکیٹ پر توجہ دینے کی گنجائش ملی۔ پاول نے کہا کہ ’’اگر تجارتی محصولات کے اثرات کو ہٹا دیا جائے تو مہنگائی ہماری 2 فیصد کی ہدفی سطح سے زیادہ دور نہیں۔‘‘

فیڈ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 1 دسمبر سے اپنے بیلنس شیٹ میں کمی کے پروگرام کو ختم کر دے گا، یعنی وبا اور مالی بحران کے دوران خریدے گئے حکومتی بانڈز اور رہائشی قرضہ جات کے سیکیورٹیز کو مزید کم نہیں کرے گا۔

پاول نے عندیہ دیا کہ دسمبر میں مزید کمی کا فیصلہ یقینی نہیں۔ ان کے مطابق ’’پالیسی سازوں کے درمیان آراء میں واضح اختلاف موجود ہے‘‘ اور موجودہ صورتحال ’’دھند میں گاڑی چلانے‘‘ جیسی ہے، جہاں احتیاط ضروری ہے۔

وال اسٹریٹ نے 2025 میں مزید شرح کمیوں کی توقع کی تھی مگر پاول کے بیانات کے بعد یہ امیدیں کم ہو گئیں۔ آکسفورڈ اکنامکس اور جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ اقدامات کا انحصار روزگار اور افراطِ زر کے تازہ اعدادوشمار یا پھر حکومتی شٹ ڈاؤن کے تسلسل پر ہوگا۔

فیڈرل ریزرو کا یہ فیصلہ اس کی تازہ ترین کوشش ہے کہ وہ کم افراطِ زر، بڑھتی بے روزگاری، اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی دباؤ کے درمیان معاشی توازن برقرار رکھ سکے  جو اب بھی شرح سود میں مزید کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

 

اوپر تک سکرول کریں۔