Nigah

بحران سے استحکام کی جانب پاکستان کا سفر

nigah pak islamabad
[post-views]

گذشتہ چند برسوں میں پاکستان کی معیشت کو جس غیر معمولی دباؤ کا سامنا رہا۔ وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، غیر مستحکم زرمبادلہ کے ذخائر، کمزور برآمدات اور قرضوں کے بوجھ نے ملکی معیشت کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا تھا۔ تاہم 2025 پاکستان کے لیے ایک نئے معاشی باب کی شروعات ثابت ہو رہا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام نے نہ صرف وقتی ریلیف فراہم کیا بلکہ مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت اور پالیسی استحکام کے ذریعے ایک دیرپا بحالی کی بنیاد رکھی ہے۔
آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت پاکستان نے کئی ضروری اصلاحات متعارف کرائیں۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد پائیدار مالی نظم اور موثر بجٹ مینجمنٹ کو یقینی بنانا تھا۔
ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے سے جہاں محصولات میں اضافہ ہوا۔ وہیں سبسڈیز کے خاتمے اور اخراجات میں کمی نے مالیاتی خسارے کو نمایاں طور پر کم کیا۔
یہ وہ اقدامات تھے جنہوں نے عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
2025 کے وسط تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 12 ارب ڈالر کی حد عبور کر چکے ہیں۔ یہ پیش رفت نہ صرف درآمدات اور توانائی کے شعبے کے لیے ایک مضبوط سہارا ہے بلکہ اعتماد کی بحالی کا ثبوت بھی ہے۔
اس استحکام نے روپے کے اتار چڑھاؤ کو کم کیا ہے اور سرمایہ کاری کے رجحان کو فروغ دیا ہے۔
مہنگائی گذشتہ دہائی کا سب سے بڑا چیلنج تھی۔ جس نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو متاثر کیا۔ تاہم مالی نظم و ضبط اور قیمتوں کے کنٹرول کے باعث مہنگائی 4.1 فیصد کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔
اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں استحکام نے عوامی اعتماد کو بڑھایا۔ یہ بہتری اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومتی پالیسیوں کا اثر اب زمینی سطح پر محسوس ہونے لگا ہے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ 2025 میں 35 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی کمیونٹی کا اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔
یہ ترسیلات نہ صرف مالیاتی ذخائر کو سہارا فراہم کرتی ہیں بلکہ معاشی استحکام اور سماجی ترقی میں بھی بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں۔
دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے اور پاکستان بھی اس دوڑ میں شامل ہو چکا ہے۔
2025 کے دوران آئی ٹی برآمدات میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے جو پاکستان کو ڈیجیٹل خدمات کے ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر پیش کرتا ہے۔
فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ای کامرس اور سائبر سکیورٹی جیسے شعبے اب روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

بحران سے استحکام کی جانب پاکستان کا سفر

جی ڈی پی شرح نمو 2.7 فیصد متوقع ہے۔
اگرچہ یہ شرح بظاہر معمولی لگتی ہے، مگر بحالی ایک بڑی کامیابی ہے۔

برآمدات، مستحکم کرنسی اور حکومتی اصلاحات نے صنعتی سرگرمیوں کو متحرک کیا۔
معاشی استحکام نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا ہے۔
توانائی، معدنیات، زراعت، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئی شراکت داریاں ہو رہی ہیں۔
پاکستانی اسٹاک ایکسچینج کی کارکردگی میں بہتری اور بانڈ مارکیٹ میں دلچسپی اس رجحان کا ثبوت ہے۔
ڈیفالٹ کا خطرہ 90 فیصد سے زائد کم ہو چکا ہے۔
اس سے عالمی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور کریڈٹ ریٹنگ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان کو کم شرح سود پر قرض لینے کے قابل بنائے گی۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور قابل تجدید توانائی کی پالیسیاں نے پاکستان کو خودکفالت کی طرف گامزن کیا ہے۔
تھرکول منصوبے، شمسی توانائی کے پارکس اور ہوا سے بجلی کے منصوبے اب قومی گرڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔
یہ اقدامات درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر کے تجارتی خسارے میں کمی لا رہے ہیں۔
برآمدات میں اضافہ خاص طور پر ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل اور آئی ٹی مصنوعات کے شعبوں میں دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اصلاحات کے سفر میں شفافیت اور احتساب کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
ڈیجیٹل ٹیکس سسٹم، خودکار آڈٹ میکانزم اور شفاف رپورٹنگ نے بدعنوانی کے امکانات کم کیے ہیں۔
عوام کو آن لائن سہولیات اور اعداد و شمار تک رسائی حاصل ہے جس سے اعتماد بڑھا ہے۔
آج پاکستان کا معاشی بیانیہ بحرانوں کے بجائے استحکام، شفافیت اور عالمی شراکت داری پر مبنی ہے۔
پاکستان اب امداد کا محتاج نہیں بلکہ عالمی معیشت کا متحرک حصہ بننے کی راہ پر گامزن ہے۔
یہ وہ سمت ہے جو ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دے گی اور پائیدار ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔
آئی ایم ایف اصلاحات، مالی نظم و نسق، برآمدات میں اضافہ اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی ہے۔
اگر پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو پاکستان مستحکم معیشتوں کی صف میں شامل ہو سکتا ہے اور تجارتی مرکز کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اب ضرورت صرف استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے ترقی کو پائیدار بنانا ہے۔

اعلان دستبرداری
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

Author

  • ڈاکٹر ظہیرال خان

    ظہیرال خان ایک مضبوط تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے ساتھ، وہ بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔