Nigah

جہاد کی اصل تعبیر دینی دیانت بمقابلہ انتہاپسندانہ تحریفات

nigah gold bar

اسلام ایک ایسا دین ہے جو امن، عدل اور انسانیت کی حرمت کا علمبردار ہے۔ اس کے بنیادی تصورات میں سے ایک ’’جہاد‘‘ ہے، جسے بدقسمتی سے کچھ انتہاپسند گروہوں نے سیاسی مفادات اور طاقت کی خواہش کے لیے مسخ کر کے پیش کیا۔ ’’جہاد‘‘ کا مطلب اندھی نفرت یا خونریزی نہیں، بلکہ نیکی، حق، انصاف اور ظلم کے خلاف اخلاقی جدوجہد ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں جہاد ایک مقدس اور منظم فریضہ ہے، جس کے لیے واضح اخلاقی حدود اور قانونی تقاضے مقرر کیے گئے ہیں۔

قرآن مجید میں سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 190 میں ارشاد ہوتا ہے:
“اور اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، لیکن زیادتی نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”

یہ آیت جہاد کے بنیادی فلسفے کو بیان کرتی ہے۔ اسلام میں جنگ کا جواز صرف دفاعی صورت میں ہے، یعنی جب دشمن ظلم و تعدی پر اتر آئے، تب مسلمان اپنی حفاظت اور عدل کے قیام کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ قرآن کے اس حکم سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کسی بھی قسم کی جارحیت، فتنہ انگیزی یا طاقت کے غیر اخلاقی استعمال کی اجازت نہیں دیتا۔

نبی کریم ﷺ نے جہاد کے دوران بھی اخلاقی حدود کی پاسداری کا حکم دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“کسی عورت، بچے، بوڑھے یا غیر جنگجو کو قتل نہ کرو، درخت نہ کاٹو اور کھیتیاں تباہ نہ کرو۔”

یہ ہدایات محض عسکری ضابطے نہیں بلکہ اسلام کے اخلاقی نظام کا مظہر ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جہاد کا مقصد زمینوں پر قبضہ یا مالِ غنیمت کا حصول نہیں تھا بلکہ ظلم کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے جدوجہد تھی۔

اسلامی فقہ میں جہاد کے اعلان کا اختیار کسی فرد یا گروہ کو نہیں بلکہ صرف بااختیار مسلم ریاست کو حاصل ہے۔ امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ اور امام مالکؒ سمیت تمام فقہا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جہاد ایک منظم ریاستی فریضہ ہے جو قانون، نظم اور اجتماعی مشاورت کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ خود ساختہ جہاد یا کسی غیر ریاستی گروہ کی مسلح جدوجہد اسلام کے اصولوں کے سراسر منافی ہے۔

یہی اصول ہمیں خلفائے راشدینؓ کے دور میں بھی نظر آتے ہیں، جہاں ہر جنگ ریاستی فیصلے اور عوامی مشاورت کے ذریعے کی جاتی تھی۔ اس کے برعکس آج کے شدت پسند گروہ خود کو ’’اسلام کے محافظ‘‘ کہہ کر غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث ہیں، جو دراصل اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جدید دور میں القاعدہ، داعش، الشباب اور دیگر گروہوں نے ’’جہاد‘‘ کے نام پر ایسی کارروائیاں کیں جن سے اسلام کی اصل روح کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ یہ تنظیمیں قرآن و سنت کے اصولوں سے ہٹ کر اپنی خودساختہ تشریحات پیش کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک جہاد کسی بھی غیر مسلم یا مخالف ریاست کے خلاف اندھی طاقت کا استعمال ہے، جبکہ اسلامی نقطۂ نظر سے یہ طرزِ عمل ’’فساد فی الارض‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ گروہ دراصل سیاسی عزائم کے لیے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ان کے اعمال سے نہ صرف بے گناہ انسانوں کی جانیں ضائع ہوتی ہیں بلکہ اسلام کا پرامن چہرہ بھی دنیا کے سامنے مسخ ہوتا ہے۔

اسلام میں جہاد کا ایک نہایت اہم پہلو ’’جہاد بالنفس‘‘ ہے، یعنی اپنے اندر کی برائیوں، خواہشات اور نفسِ امارہ کے خلاف جدوجہد۔

نبی کریم ﷺ نے ایک غزوہ کے بعد فرمایا:“ہم ایک چھوٹے جہاد سے لوٹے ہیں، اب بڑے جہاد کی باری ہے۔  نفس کے خلاف جہاد۔”

یہ حدیث جہاد کے روحانی مفہوم کو اجاگر کرتی ہے۔ اصل جہاد وہ ہے جو انسان اپنے اخلاق، کردار اور عمل کی درستگی کے لیے کرتا ہے۔ یہ جدوجہد معاشرتی اصلاح، انسانی خدمت اور باہمی محبت کے فروغ کی بنیاد رکھتی ہے۔

اسلام دفاعی جہاد کی اجازت دیتا ہے، لیکن جارحیت یا دوسروں پر زبردستی اپنی مرضی مسلط کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دفاعی جہاد ظلم کے خلاف مزاحمت ہے، جبکہ جارحیت ظلم کی ایک شکل ہے۔

قرآن میں فرمایا گیا:“اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی مائل ہو جاؤ، اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔”
(الأنفال: 61)

یہ آیت کریمہ اسلام کی امن پسندی کا مظہر ہے۔ جہاد کا مقصد دشمن کو نیست و نابود کرنا نہیں بلکہ ظلم کو ختم کر کے عدل قائم کرنا ہے۔

انتہاپسند تنظیمیں نوجوانوں کو یہ باور کراتی ہیں کہ جہاد کا مطلب ہر اس قوت سے لڑنا ہے جو ان کے نظریات سے اختلاف رکھتی ہو۔ یہ بیانیہ اسلام کی تعلیمات کے برعکس ہے۔ اسلام میں کسی بھی جنگ کی بنیاد ظلم، تعصب یا انتقام پر نہیں بلکہ عدل، دفاع اور امن پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جہاد کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے تو نہ صرف نوجوان گمراہ ہوتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ’’اسلاموفوبیا‘‘ کو بھی ہوا ملتی ہے۔ مغربی معاشرے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے لگتے ہیں اور یوں ایک مذہب جس کا مطلب ہی ’’سلامتی‘‘ ہے، اسے خوف اور تشدد کی علامت بنا دیا جاتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں انسانیت کی حرمت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

قرآنِ مجید میں فرمایا گیا:“جس نے کسی ایک بے گناہ کو قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔”
(المائدہ: 32)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام میں انسانی جان کی قدر کتنی بلند ہے۔ جہاد کی اصل روح ظلم کے خلاف عدل کا قیام اور انسانوں کے درمیان امن و انصاف کا فروغ ہے۔ اگر جہاد سے عدل کے بجائے انتشار پیدا ہو تو وہ اسلام کے فلسفۂ جہاد کی نفی ہے۔

مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ جہاد کے تصور کو اس کے اصل تناظر میں سمجھیں اور پیش کریں۔ علما، دانشوروں اور تعلیمی اداروں کو یہ ذمہ داری ادا کرنی ہوگی کہ وہ نوجوان نسل کو اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔ جہاد کو سیاست یا اقتدار کے لیے استعمال کرنا نہ صرف دینی بددیانتی ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے چہرے پر بدنما داغ بھی ہے۔ دینی دیانت کا تقاضا ہے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں جہاد کو ایک متوازن، اخلاقی اور روحانی جدوجہد کے طور پر پیش کریں، نہ کہ انتقام یا نفرت کے ہتھیار کے طور پر۔

جہاد کا اصل مقصد امن کا قیام، عدل کی بالادستی اور ظلم کا خاتمہ ہے۔ لیکن جب اس مقدس فریضے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ فساد اور تباہی کا باعث بنتا ہے۔ آج امتِ مسلمہ کو ضرورت ہے کہ وہ جہاد کے اصل پیغام یعنی دینی دیانت، عدل، اور نفس کی اصلاح کو دنیا کے سامنے اجاگر کرے۔ انتہاپسندی کے خلاف فکری جہاد ہی وہ راستہ ہے جو اسلام کو دوبارہ امن و رحمت کا دین ثابت کر سکتا ہے۔ جہاد تلوار سے نہیں بلکہ علم، اخلاق، برداشت، اور انسانیت کے احترام سے جیتا جاتا ہے۔

اعلان دستبرداری
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

Author

  • ڈاکٹر محمد عبداللہ

    محمد عبداللہ آسٹن یونیورسٹی، برطانیہ میں بین الاقوامی تعلقات میں امیدوار۔ ان کی تحقیقی دلچسپیاں عالمی سلامتی، خارجہ پالیسی کے تجزیہ اور بین الاقوامی سفارت کاری کی ابھرتی ہوئی حرکیات پر مرکوز ہیں۔ وہ علمی گفتگو میں فعال طور پر مصروف ہیں اور جنوبی ایشیائی جغرافیائی سیاست اور کثیر جہتی تعلقات پر خاص زور دینے کے ساتھ علمی پلیٹ فارمز میں حصہ ڈالتے ہیں۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔