Nigah

خیبر پختونخوا کا نیا وزیرِاعلیٰ اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ

خیبر پختونخوا کا نیا وزیرِاعلیٰ اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ
[post-views]

اسلام آباد میں سہیل آفریدی کے خیبر پختونخوا کے نئے وزیرِاعلیٰ کے طور پر انتخاب پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ یہ تشویش محض سیاسی مخالفت نہیں بلکہ اس کے پیچھے ریاستی سلامتی، قومی پالیسی اور انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود ہیں۔
تحریکِ انصاف کی قیادت حالیہ برسوں میں ان تمام عناصر، گروہوں اور حتیٰ کہ ممالک کے ساتھ نرم رویہ رکھتی نظر آئی ہے جو وفاقی حکومت اور پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔ یہی طرزِ عمل اب صوبے میں ایک نئے بحران کی بنیاد بن سکتا ہے۔
سہیل آفریدی کو عمران خان کا انتہائی وفادار ساتھی سمجھا جاتا ہے، اور وہ ان کی سیاسی سوچ کے تسلسل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ عمران خان کی موجودہ پالیسی وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی ہر پالیسی کی مخالفت پر مبنی ہے، اور اندیشہ ہے کہ یہی طرزِ عمل صوبائی سطح پر بھی اپنایا جائے گا۔
ان کے حالیہ خطاب میں یہ جھلک واضح نظر آئی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف وفاقی اقدامات اور افغان پالیسی کے ناقد ہیں۔ اس طرز فکر سے نہ صرف مرکز اور صوبے کے تعلقات متاثر ہوں گے بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی سنگین رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ موجودہ وقت میں خیبر پختونخوا کے حالات نازک ہیں۔ افغانستان سے بڑی تعداد میں دہشت گرد سرحد پار کر کے بنوں، لکی مروت، ڈی آئی خان اور کرک جیسے اضلاع میں داخل ہو چکے ہیں۔
یہ وہ علاقے ہیں جو 2008 سے 2014 تک کے دہشت گردی کے عروج کے زمانے میں بھی نسبتاً محفوظ رہے تھے۔ تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں دہشت گردوں کے لیے نرم رویّے نے ان کے اثر و رسوخ کو بڑھایا اور آج وہ دوبارہ منظم ہو رہے ہیں۔
اگر فوجی آپریشن میں معمولی بھی وقفہ آیا تو خطرہ ہے کہ دہشت گرد پورے صوبے میں پھیل جائیں گے اور افغانستان سے مزید جنگجوؤں کا ریلا داخل ہوگا۔
سہیل آفریدی مذاکرات کے حامی ہیں، مگر یہ پالیسی بارہا ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ 2004 کا شَکئی معاہدہ، 2005 اور 2006 کے شمالی وزیرستان معاہدے، 2008 اور 2009 کے سوات معاہدے اور 2021 میں پی ٹی آئی حکومت کی کوششیں — سب ایک ہی انجام کو پہنچیں۔
ہر بار دہشت گردوں نے مذاکرات کے دوران اپنی شرائط منوائیں، قیدی چھڑوائے اور پھر دوبارہ طاقت حاصل کر کے حملے شروع کیے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امن معاہدہ کبھی پائیدار ثابت نہیں ہوا۔ دہشت گرد امن کو اپنی بقا کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں کیونکہ جیسے ہی جنگ ختم ہوتی ہے، ان کی مالیات، بھتے اور غیر ملکی فنڈنگ کے ذرائع ختم ہو جاتے ہیں۔
تحریکِ انصاف حکومت نے اپنے تین سالہ دور میں ان پالیسیوں کے ذریعے دہشت گردوں کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع دیا۔ 2018 میں جب پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو افواج پاکستان کے مسلسل آپریشنز کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقے پرامن ہو چکے تھے۔

لیکن بعد میں طالبان کے ساتھ مذاکرات اور نرم پالیسی نے فتنہ خوارج کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دیا۔

نتیجتاً ہزاروں جنگجو واپس اپنے زیر اثر علاقوں میں آگئے اور کئی قیدی رہا کیے گئے۔ یہ وہ غلطیاں تھیں جن کے اثرات آج صوبے کے امن پر گہرے نقوش چھوڑ چکے ہیں۔
سہیل آفریدی کی افغان پالیسی پر تنقید بھی حقائق سے خالی نہیں، مگر خطرناک ہے۔ وہ براہِ راست افغان طالبان سے بات چیت کے حامی ہیں حالانکہ پاکستان متعدد مرتبہ کابل حکومت سے ہر سطح پر مذاکرات کر چکا ہے۔
جولائی 2022 میں مفتی تقی عثمانی کی سربراہی میں علما وفد کابل گیا تاکہ طالبان کو قائل کیا جا سکے کہ پاکستان میں حملے بند کیے جائیں۔ اسی طرح 17 رکنی قبائلی جرگہ بھی امن کی اپیل لے کر گیا۔ 22 فروری 2023 کو وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد نے کابل جا کر انسدادِ دہشت گردی پر تعاون کی کوشش کی۔ جولائی 2024 میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اسی مقصد کے لیے کابل گئے۔
یہ تمام سفارتی اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نے مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مگر افغان طالبان نے عملی اقدامات نہیں کیے۔
اب خدشہ یہ ہے کہ سہیل آفریدی اپنی سیاسی وفاداری میں عمران خان کے بیانیے کو ہی صوبائی پالیسی کا حصہ بنائیں گے۔ وفاق سے نفرت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانات دراصل دہشت گردوں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ اگر یہی رویہ جاری رہا تو صوبہ ایک مرتبہ پھر 2010 جیسے حالات کی طرف جا سکتا ہے۔ جب روزانہ بم دھماکے، اغوا برائے تاوان اور سرکاری اہلکاروں پر حملے معمول بن چکے تھے۔
اسلام آباد میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ خیبر پختونخوا کے متعدد وزراء اور اراکینِ اسمبلی دہشت گردوں کو بھتہ دیتے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بعض رہنما غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ ہیں اور سرحدی نگرانی میں کمزوری ان کے مالی مفادات کی وجہ سے ہے۔
ایسے حالات میں اگر صوبائی قیادت دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر دوغلا رویہ اپناتی ہے تو اس کے اثرات پورے ملک کے امن پر پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان نے گذشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف عظیم قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں فوجی، پولیس اہلکار اور شہریوں نے اس جنگ میں جانیں قربان کیں۔ اب اگر صوبائی سطح پر قیادت کمزور یا متنازعہ ہوئی تو یہ قربانیاں ضائع ہو سکتی ہیں۔
ریاست کی پالیسی واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کوئی رعایت نہیں۔ اور نہ ہی کسی گروہ کو بندوق کے زور پر مذاکرات کا حق حاصل ہے۔
اس جنگ میں قومی یکجہتی اور سیاسی بصیرت دونوں ناگزیر ہیں۔ سہیل آفریدی کی قیادت خیبر پختونخوا کے لیے ایک امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر وہ وفاق کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف پالیسی کو جاری رکھتے ہیں تو صوبہ استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اگر انہوں نے عمران خان کے ٹکراؤ والے بیانیے کو اپنایا تو نتیجہ تباہ کن ہو گا۔
یہ وقت سیاسی نعرے بازی کا نہیں بلکہ ریاستی مفاد کے تحفظ کا ہے۔ خیبر پختونخوا صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ پاکستان کی سرحدی ڈھال ہے۔ اس کی سلامتی، دراصل پاکستان کی سلامتی ہے اور یہ ذمہ داری ہر سیاست دان، ہر افسر اور ہر شہری پر عائد ہوتی ہے۔

اعلان دستبرداری
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

Author

  • ڈاکٹر اکرام احمد

    اکرام احمد یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویٹ ہیں۔ باتھ یونیورسٹی میں، جہاں ان کی تحقیق تنازعات کے حل، عالمی حکمرانی، بین الاقوامی سلامتی پر مرکوز ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی پس منظر اور عالمی امور میں گہری دلچسپی کے ساتھ، اکرام نے مختلف تعلیمی فورمز اور پالیسی مباحثوں میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کا کام بین الاقوامی تعلقات کی حرکیات اور عصری جغرافیائی سیاسی مسائل پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔