ہیلسنکی: دنیا کی معروف ٹیلی کام کمپنی نوکیا اوئی جے (NOKIA:HLSE) ایک مرتبہ پھر عالمی مالیاتی منڈیوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، کیونکہ این ویڈیا نے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت این ویڈیا کی جدید اے آئی ٹیکنالوجی نوکیا کے فائیو جی اور آنے والے سکس جی نیٹ ورک انفراسٹرکچر میں شامل کی جائے گی۔ یہ شراکت داری مصنوعی ذہانت اور اگلی نسل کی ٹیلی کمیونیکیشن کے امتزاج میں ایک تاریخی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق این ویڈیا اور نوکیا کا یہ اتحاد نیٹ ورک آپریشنز کے طریقہ کار میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے۔ اس سے نیٹ ورکس میں تیز رفتار کنیکٹیویٹی، ذہین نیٹ ورک مینجمنٹ اور کارکردگی کی بہتر نگرانی ممکن ہو سکے گی۔ اس اعلان کے بعد پچھلے ایک ماہ میں نوکیا کے حصص کی قیمت میں 58.65 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ رواں سال کے آغاز سے اب تک کمپنی کا منافع 46.02 فیصد بڑھ چکا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران کمپنی کے حصص یافتگان کو 47.58 فیصد کا مجموعی منافع حاصل ہوا، جو پچھلے پانچ سالوں میں دوگنا ہو چکا ہے۔ یہ پیش رفت سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اب یہ سوال اہم ہے کہ آیا نوکیا کے حصص کی موجودہ قیمت ابھی بھی کم قدری ہیں یا مصنوعی ذہانت سے جڑی امیدیں پہلے ہی ان میں شامل ہو چکی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نوکیا کے حصص کی موجودہ قیمت 6.31 یورو ہے جو کہ اس کی منصفانہ قیمت 4.53 یورو کے مقابلے میں تقریباً 39.2 فیصد زیادہ ہے، اس لیے اس میں قدرے خطرہ موجود ہے۔
ایک مارکیٹ رپورٹ کے مطابق ’’نوکیا کی حکمتِ عملی میں جدت، محتاط آپریشنز اور دانشورانہ ملکیت سے آمدنی حاصل کرنے کے منصوبے اس کے منافع کو مستحکم بنا رہے ہیں۔ تاہم زرِ مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ اور نیٹ ورک و کلاؤڈ مارکیٹ میں مسابقت کمپنی کے لیے چیلنج بنے رہیں گے۔‘‘
نوکیا کا موجودہ پرائس ٹو ارننگ ریشو (P/E) 40.3 ہے، جو یورپی ٹیلی کام انڈسٹری کے اوسط 43.1 کے مقابلے میں قدرے کم ضرور ہے، لیکن مثالی شرح 31.6 سے کافی زیادہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر مارکیٹ میں جوش و خروش کم ہوا تو حصص کی قدر میں کمی کا امکان موجود ہے۔
یہ معاہدہ این ویڈیا کو بھی عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت پر مبنی کنیکٹیویٹی کے شعبے میں ایک کلیدی کھلاڑی بنا دیتا ہے۔ اس سے کمپنی کو اپنے عالمی نیٹ ورک سسٹمز میں اے آئی کمپیوٹنگ شامل کرنے کے وسیع منصوبے کو تقویت ملے گی۔ نوکیا کے لیے یہ سرمایہ کاری صرف مالی نہیں بلکہ اعتباری حیثیت بھی رکھتی ہے، جو اسے اے آئی سے چلنے والی سکس جی ٹیکنالوجی کے میدان میں صفِ اول پر لے آتی ہے۔
نوکیا حالیہ برسوں میں اپنی مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ سروسز کے دائرہ کار کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ اس کا ’’ڈیٹا کمانڈ سینٹر‘‘ اور نیٹ ورک آٹومیشن ٹولز اب کمپنی کی مرکزی حکمتِ عملی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ این ویڈیا کے ساتھ یہ اشتراک عالمی ٹیلی کام نیٹ ورکس میں اے آئی کے نفاذ کو تیز کرے گا اور نوکیا کو ایرکسن اور ہواوے جیسے حریفوں پر سبقت دلانے میں مدد دے گا۔
اگرچہ سرمایہ کار اس معاہدے سے پرامید ہیں، تاہم تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ مارکیٹ کی بلند توقعات مستقبل میں اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتی ہیں۔ ’’مارکیٹ اس وقت جارحانہ ترقی کی امیدوں پر قیمت طے کر رہی ہے۔ اگر آمدنی میں سست روی آئی یا اے آئی کے منصوبے میں تاخیر ہوئی تو سرمایہ کاروں کا رجحان جلد بدل سکتا ہے۔‘‘
فی الحال، نوکیا اور این ویڈیا کا یہ اتحاد ذہین کنیکٹیویٹی کے مستقبل پر ایک بڑا داؤ ہے، جہاں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اور فائیو جی و سکس جی نیٹ ورک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ٹیلی کمیونیکیشن کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
Author
-
اسلام آباد میں مقیم ایک آزاد محقق اور ان کی دلچسپی کا شعبہ سیکورٹی اور جیو پولیٹکس ہے۔
View all posts