اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس چیئرمین سید امین الحق کی زیر صدارت منگل کے روز منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری، اسلام آباد آئی ٹی پارک کی پیش رفت، اور پاکستان میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے فروغ سے متعلق حکومتی اقدامات پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
سمندری کیبل خرابی اور نئے منصوبے
اجلاس میں حکام نے بتایا کہ یمن کے قریب موجود سب میرین کیبل میں خرابی کے باعث پورے خطے میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی متاثر ہوئی ہے۔ تاہم، کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اس مسئلے کے حل کے ساتھ ساتھ دو نئے سب میرین کیبل سسٹمز پر بھی کام جاری ہے، جو آئندہ پندرہ ماہ کے اندر پاکستان سے منسلک کر دیے جائیں گے۔
اسلام آباد آئی ٹی پارک: 80 فیصد کام مکمل
وزارتِ آئی ٹی کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد آئی ٹی پارک منصوبے کا تقریباً 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر کے مطابق تعمیراتی رفتار تسلی بخش ہے، اگرچہ 31 اکتوبر کی مقررہ آخری تاریخ گزر چکی ہے۔
وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ نے بتایا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران کورین پروجیکٹ ڈائریکٹرز میں کئی تبدیلیاں ہوئیں، جس کے باوجود منصوبے پر کام جاری ہے۔ ان کے بقول، “یہ منصوبہ کوریائی حکومت کے تعاون اور سرمایہ کاری سے تیار کیا جا رہا ہے، تاہم تعمیراتی مراحل کے دوران کئی تکنیکی اور انتظامی چیلنجز سامنے آئے ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے منصوبے میں تاخیر کے حوالے سے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ شزا فاطمہ کے مطابق حکومت ایک ایسا درمیانی راستہ تلاش کر رہی ہے جس سے منصوبہ جلد مکمل کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ “اگر یہ منصوبہ مزید تنازعات کا شکار ہوا تو دیگر شہروں میں مجوزہ آئی ٹی پارک منصوبے بھی متاثر ہوں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں، لیکن کوشش کی جا رہی ہے کہ کورین کمپنی کے ساتھ شراکت برقرار رہے۔ “اگر وہ پیچھے ہٹ بھی جائیں، تو ہمارے پاس متبادل منصوبہ بندی (Backup Plan) موجود ہے،” انہوں نے اعتماد سے کہا۔
کمزور موبائل اور انٹرنیٹ سروسز پر شدید تنقید
اجلاس کے دوران اراکین اسمبلی نے ملک کے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں ناقص انٹرنیٹ اور موبائل سروس پر سخت تنقید کی۔ رکنِ اسمبلی انجینئر رانا عتیق نے کہا کہ “آئی ٹی انفراسٹرکچر کو صرف کراچی، لاہور اور اسلام آباد تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کے دیگر علاقے بھی مساوی سہولیات کے حقدار ہیں۔”
اسی طرح ایم این اے ذوالفقار بھٹی نے شکایت کی کہ ان کے علاقے میں نہ موبائل سگنل موجود ہیں اور نہ ہی انٹرنیٹ کی سہولت۔ انہوں نے کہا، “ہماری تمام توجہ صرف پانچ چھ شہروں تک محدود ہے۔ باقی پاکستان کا کیا؟ کیا ہمارے بچوں کو بہتر انٹرنیٹ کا حق نہیں؟”
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “حکومتی ادارے عوامی شکایات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، جس سے شہریوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔”
Nigah.pk کے مطابق، اگر حکومت ملک بھر میں ڈیجیٹل رابطوں کو وسعت دینے کے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنا دے تو یہ نہ صرف انٹرنیٹ سروس میں بہتری لائے گا بلکہ پاکستان کے ڈیجیٹل معیشت کے مستقبل کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔
خلاصہ
دو نئی سب میرین کیبل سسٹمز کی شمولیت پاکستان کے انٹرنیٹ نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔ اگر حکومت اس منصوبے کو بروقت مکمل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو Nigah.pk کے مطابق پاکستان خطے میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کا مرکز بننے کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔