Nigah

افغانستان کی منشیات کی کہانی’ افیون سے مصنوعی زہر تک

اً 80 فیصد افغانستان سے آیا۔ اندازاً چھ ہزار دو سو ٹن افیون، دو لاکھ سے زیادہ ہیک

افغانستان کی بات کی جائے تو ایک حقیقت ہمیشہ سے سایہ کیے رہی ہے۔ یہ ملک دنیا کی غیر قانونی منشیات، خاص طور پر افیون، کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے۔ 2022 میں دنیا بھر میں جتنی افیون پیدا ہوئی، اس کا تقریباً 80 فیصد افغانستان سے آیا۔ اندازاً چھ ہزار دو سو ٹن افیون، دو لاکھ سے زیادہ ہیکٹر زمین پر اگائی گئی۔ سوچیں، ایک ایسا ملک جہاں فصلوں سے زیادہ منشیات کی بات ہوتی تھی۔

پھر طالبان نے 2022 میں ایک سخت فیصلہ کیا منشیات پر مکمل پابندی۔ یہ اعلان اچانک نہیں تھا، مگر اس کے اثرات گہرے تھے۔ تین سال کے اندر، یعنی 2025 تک، پوست کی کاشت تقریباً 20 فیصد کم ہو گئی اور افیون کی پیداوار ایک تہائی سے بھی زیادہ گر گئی۔ ظاہری طور پر یہ بڑی کامیابی لگتی ہے، مگر کہانی اتنی سیدھی نہیں۔

جب پیداوار کم ہوئی تو قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔ جو تھوڑا بہت افیون بچا، وہ اسمگلروں اور جرائم پیشہ گروہوں کے لیے سونا بن گیا۔ یعنی کاشت کم ہوئی، مگر منافع بڑھ گیا۔ دیہاتی

کسانوں کے لیے یہ پابندی ایک معاشی جھٹکا تھی۔

وہ جن کے لیے پوست کی فصل زندگی کا سہارا تھی، اب یا تو قرضوں میں ڈوب گئے یا خفیہ طور پر کاشت جاری رکھنے لگے۔

اسی دوران ایک نیا خطرہ ابھرنے لگا، مصنوعی منشیات۔ خاص طور پر میتھ ایمفیٹامین، جسے بنانا افیون کے مقابلے میں کہیں آسان ہے۔ اس کے لیے نہ زمین چاہیے، نہ موسم کی فکر۔ چند کیمیکلز، ایک چھپے ہوئے کمرے میں بننے والی لیبارٹری، اور بس۔ یہی وجہ ہے کہ اب افغانستان کے کچھ حصوں میں پوست کے کھیتوں کی جگہ چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں لے رہی ہیں۔

افغانستان کی منشیات کی کہانی' افیون سے مصنوعی زہر تک

یہ رجحان صرف افغانستان کا مسئلہ نہیں۔ یہ زہر سرحدیں عبور کر کے ایران، پاکستان، وسطی ایشیا اور یورپ تک پہنچ رہا ہے۔ مصنوعی منشیات کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے پکڑنا بہت مشکل ہے۔ کھیت تو نظر آ جاتے ہیں، مگر زیرِ زمین لیبارٹریوں کا پتا لگانا آسان نہیں۔

طالبان کی پابندی نے افیون کو ضرور روکا، لیکن اس کے ساتھ ایک نئی نوعیت کی منشیات کی دنیا سامنے آ گئی۔ اب چیلنج صرف پوست کی کاشت نہیں، بلکہ ایک پوری کیمیائی معیشت ہے جو خاموشی سے پھل پھول رہی ہے۔

افغانستان کے لوگ، خاص طور پر کسان، ایک مشکل دوراہے پر کھڑے ہیں۔ ایک طرف مذہبی اور حکومتی دباؤ ہے، دوسری طرف بھوک اور غربت۔ جب تک انہیں کوئی پائیدار متبادل نہیں ملتا، یہ چکر ختم ہونا مشکل ہے۔ دنیا بھی اس حقیقت کو سمجھنے میں سست ہے۔ صرف پابندیاں لگا دینا کافی نہیں۔

مسئلے کی جڑ معیشت اور روزگار کی کمی میں ہے۔

اگر عالمی برادری واقعی اس خطرے کو روکنا چاہتی ہے تو اسے زمین کی جڑ سے معاملہ حل کرنا ہوگا۔ کسانوں کے لیے نئی فصلیں، روزگار کے مواقع، اور بحالی کے پروگرام .یہی وہ راستہ ہے جو افغانستان کو منشیات کے اس چکر سے نکال سکتا ہے۔ ورنہ افیون کے کھیت ختم ہوں یا نہیں، مصنوعی زہر اپنی راہ خود بنا لے گا۔

اعلان دستبرداری
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

Author

  • ڈاکٹر محمد عبداللہ

    محمد عبداللہ آسٹن یونیورسٹی، برطانیہ میں بین الاقوامی تعلقات میں امیدوار۔ ان کی تحقیقی دلچسپیاں عالمی سلامتی، خارجہ پالیسی کے تجزیہ اور بین الاقوامی سفارت کاری کی ابھرتی ہوئی حرکیات پر مرکوز ہیں۔ وہ علمی گفتگو میں فعال طور پر مصروف ہیں اور جنوبی ایشیائی جغرافیائی سیاست اور کثیر جہتی تعلقات پر خاص زور دینے کے ساتھ علمی پلیٹ فارمز میں حصہ ڈالتے ہیں۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔