جنوبی ایشیا میں تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی و تزویراتی حرکیات کے دوران بنگلہ دیش نے اپنی خارجہ و دفاعی پالیسی میں ایک اہم اور معنی خیز موڑ اختیار کیا ہے۔ ڈھاکا کی قیادت اب ایک ایسی سمت میں گامزن دکھائی دیتی ہے جو اسے بھارتی اثر سے الگ اور حقیقی اسٹریٹیجک خود مختاری کے قریب لے جا رہی ہے۔ اسی تسلسل میں بنگلہ دیش کا ایک اعلیٰ سطحی فوجی وفد پاکستان کے چار روزہ دورے پر آرہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری و سیکیورٹی تعاون کا واضح مظہر ہے۔ یہ وفد میجر جنرل محمد مسعودر رحمان کی قیادت میں 7 نومبر تک پاکستان میں قیام کرے گا، جہاں وہ راولپنڈی میں پاکستانی عسکری قیادت کے ساتھ پہلی مرتبہ ہونے والی سٹاف ٹاکس میں شریک ہوں گے۔ یہ سلسلہ دراصل جنرل ساحر شمشاد مرزا، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، کے حالیہ ڈھاکا دورے کا تسلسل ہے، جو 24 سے 28 اکتوبر کے دوران انجام پایا۔
تعاون کے نئے باب کا آغاز
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان یہ رابطے محض روایتی تعلقات کی بحالی نہیں، بلکہ ایک نئے دفاعی دور کے آغاز کا اشارہ ہیں۔ بنگلہ دیشی وفد میں ایڈجیوٹنٹ جنرل، ایک لیفٹیننٹ کرنل اور دو میجر شامل ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈھاکا کے دفاعی ادارے اس تعلق کو ادارہ جاتی سطح پر مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ رواں سال 11 جنوری کو لیفٹیننٹ جنرل حسن پہلے بنگلہ دیشی افسر تھے جنہوں نے راولپنڈی کا دورہ کیا۔ اس کے بعد سے کم از کم تین پاکستانی عسکری وفود نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا ہے۔ ان مسلسل رابطوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں ممالک ماضی کے سیاسی ابہام سے آگے بڑھ کر عملی اور دوطرفہ مفادات پر مبنی تعلقات کی نئی راہیں کھول رہے ہیں۔
بنگلہ دیشی دفاعی ادارے اب واضح طور پر پاکستان کے ساتھ قریبی عسکری تعاون میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی محض علامتی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی دفاعی پالیسی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی کی علامت ہے۔
چندن نندی، جو جنوبی ایشیائی اسٹریٹیجک امور کے معروف تجزیہ کار ہیں، کے مطابق اس نئے رجحان کے پیچھے آرمڈ فورسز ڈویژن (اے ایف ڈی) کا کلیدی کردار ہے، جو براہِ راست چیف ایڈوائزر کے ماتحت ہے۔ اے ایف ڈی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل کامرالحسن نہ صرف پاکستان کے ساتھ عسکری تعلقات کی بحالی کے مضبوط حامی ہیں بلکہ دفاعی سازوسامان کی براہِ راست خریداری میں بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈھاکا اپنی دفاعی ضرورتوں کے لیے اب نئی راہیں تلاش کر رہا ہے اور اس ضمن میں بھارت پر روایتی انحصار کم کر رہا ہے۔ یہ پیشرفت بھارت کے لیے اسٹریٹیجک جھٹکا ہے۔ نئی دہلی طویل عرصے سے بنگلہ دیش کو اپنے سیکیورٹی بیلٹ کا حصہ سمجھتا رہا ہے اور اس کی خارجہ و دفاعی پالیسی پر اثرانداز رہنے کی کوشش کرتا آیا ہے۔
لیکن اب بنگلہ دیش کی عسکری قیادت کا رجحان پاکستان، چین اور ترکی جیسے ممالک کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
یہ تبدیلی بھارت کی پالیسی کی ناکامی کی علامت ہے جس کا مقصد پاکستان کو خطے میں تنہا اور غیر مؤثر ظاہر کرنا تھا۔ اسی تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بنگلہ دیش خطے میں ایک زیادہ خود مختار، متوازن اور کثیر جہتی سفارت کاری کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کی بنیاد ماضی کے مشترکہ تاریخی و مذہبی ورثے پر ضرور رکھی گئی تھی، لیکن اب دونوں ممالک کا رجحان محض جذباتی وابستگی تک محدود نہیں رہا۔ ڈھاکا اور اسلام آباد اب اس ورثے کو جدید تزویراتی تقاضوں کے مطابق عملی مفادات میں ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں دفاعی تربیت، انٹیلی جنس شیئرنگ، صنعتی تعاون اور امن مشنز میں مشترکہ کردار جیسے موضوعات پر بات چیت متوقع ہے۔ یہ تعلقات اس امر کا بھی اظہار ہیں کہ جنوبی ایشیائی ممالک اب محض کسی ایک طاقت کے تابع نہیں رہنا چاہتے۔ بنگلہ دیش کا یہ قدم اس بڑی تبدیلی کی ایک علامت ہے جس میں خطہ یکطرفہ انحصار کے بجائے باہمی احترام اور توازن کی پالیسی کو ترجیح دے رہا ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ ایک متوازن، پرامن اور تعاون پر مبنی خطے کے قیام کی وکالت کی ہے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات اسی پالیسی کا تسلسل ہیں۔ دفاعی رابطوں میں یہ وسعت نہ صرف دونوں ممالک کی افواج کے درمیان اعتماد سازی کا باعث بنے گی بلکہ خطے میں استحکام اور امن کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ یہ تعلقات جنوبی ایشیا میں ایک نئی صف بندی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں جہاں پاکستان، چین، ایران، ترکیہ اور بنگلہ دیش جیسے ممالک ایک متوازی سفارتی و دفاعی تعاون کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔
بنگلہ دیش کے لیے یہ تبدیلی محض دفاعی نہیں بلکہ خارجہ پالیسی کی سطح پر بھی گہرے اثرات رکھتی ہے۔ ڈھاکہ اب ایک ایسی کثیر الجہتی خارجہ پالیسی پر گامزن ہے جو نہ صرف اس کی خودمختاری کو مضبوط بناتی ہے بلکہ اسے بین الاقوامی تعلقات میں زیادہ آزادانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی دیتی ہے۔
پاکستان کے ساتھ بڑھتا ہوا عسکری تعاون اسی پالیسی کی علامت ہے ایک ایسا رجحان جو توازن، خود اعتمادی اور مساوی شراکت داری کے اصولوں پر استوار ہے۔
میجر جنرل محمد مسعود الرحمن کی قیادت میں بنگلہ دیشی وفد کا راولپنڈی دورہ محض ایک عسکری رسمی کارروائی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کی ایک اہم علامت ہے۔ یہ اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ اب خطہ محض روایتی محوروں پر نہیں بلکہ باہمی اعتماد، خودمختاری اور کثیرالجہتی تعاون کی نئی روح کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی پرامن ہمسائیگی اور علاقائی ہم آہنگی کی پالیسی کو مزید تقویت دے، جب کہ بنگلہ دیش کے لیے یہ راستہ خودمختار شناخت، متوازن تعلقات اور دفاعی خود انحصاری کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
یہی وہ رجحان ہے جو جنوبی ایشیا کے مستقبل کی سمت متعین کرے گا، جہاں تعلقات دباؤ سے نہیں بلکہ شراکت داری، برابری اور اعتماد سے تشکیل پائیں گے۔
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
حسین جان کے علمی مفادات بین الاقوامی سلامتی، جغرافیائی سیاسی حرکیات، اور تنازعات کے حل میں ہیں، خاص طور پر یورپ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے۔ انہوں نے عالمی تزویراتی امور سے متعلق مختلف تحقیقی فورمز اور علمی مباحثوں میں حصہ ڈالا ہے، اور ان کا کام اکثر پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور علاقائی استحکام کو تلاش کرتا ہے۔
View all posts
