جنوبی ایشیا میں بدلتے ہوئے جغرافیائی توازن نے بھارت کی افغان پالیسی کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ بھارت جو کبھی افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کے دعوے کرتا تھا، آج عالمی سطح پر اپنی ہی غلطیوں کے بوجھ تلے دب گیا ہے۔ نئی دہلی کی حالیہ سفارتی حرکت یعنی اقوام متحدہ کی پابندی یافتہ افغان طالبان کو دعوت دینا نہ صرف اس کی پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس کے "علاقائی قیادت” کے خواب کو بھی چکنا چور کر چکی ہے۔
بھارت کی افغان پالیسی گذشتہ دو دہائیوں سے تضادات کا شکار رہی ہے۔ کبھی وہ طالبان مخالف قوتوں کا ساتھ دیتا رہا تو کبھی خفیہ رابطے استوار کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ مگر حال ہی میں بھارت کا طالبان حکومت کے نمائندے امیر خان متقی کو مدعو کرنا اس پالیسی کے مکمل زوال کی علامت بن گیا۔
یہ دعوت صرف ایک ملاقات نہیں تھی بلکہ ایک سفارتی خودکشی تھی۔
دنیا جانتی ہے کہ طالبان حکومت اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے زیرِ اثر ہے جسے اب تک تسلیم نہیں کیا گیا۔ ایسے میں بھارت کا ان سے تعلقات بڑھانا عالمی برادری کے ضابطوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
افغان حکومت نے بھارتی اشاروں پر محتاط اور سرد رویہ اختیار کیا۔ امیر خان متقی کی شرکت کے باوجود کابل کے نمائندوں نے واضح کر دیا کہ وہ کسی ایسے اتحاد یا سفارتی کھیل کا حصہ نہیں بنیں گے جو پاکستان مخالف بیانیے پر مبنی ہو۔
یہی وہ لمحہ تھا جب دہلی کو احساس ہوا کہ اس کی برسوں کی سرمایہ کاری خواہ وہ انفراسٹرکچر کی صورت میں ہو یا تعلیمی امداد کی شکل میں، اب کسی کام کی نہیں رہی۔ افغانستان نے نئی دہلی کے دوغلے کردار کو سمجھ لیا۔ یعنی ایک طرف طالبان کو دہشت گرد قرار دینا، دوسری طرف انہی سے خفیہ روابط رکھنا۔
بھارت ہمیشہ خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر معاشرے کے طور پر پیش کرتا رہا ہے، لیکن طالبان جیسے گروہ کے ساتھ روابط استوار کر کے اس نے اپنے ہی سیکولرازم کو دفن کر دیا۔
دنیا کے کئی بڑے تجزیہ کار اس اقدام کو بھارت کی "عملی مگر اخلاقی طور پر گمراہ” پالیسی قرار دے رہے ہیں۔ طالبان کی خواتین مخالف پالیسی، مذہبی شدت پسندی اور انسانی حقوق کی پامالی کے باوجود نئی دہلی کی قربت عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بنی ہے۔
یہ وہی بھارت ہے جو عالمی فورمز پر انسانی حقوق کے چیمپئن بننے کی کوشش کرتا ہے، مگر اب خود ایک ایسی حکومت سے تعلقات بڑھا رہا ہے جسے اقوام متحدہ نے پابندیوں کی زد میں رکھا ہے۔
بھارت کے اندر اس پالیسی نے عجیب تضادات کو جنم دیا ہے۔ مودی سرکار ایک طرف اپنے ملک میں مسلمانوں کو دبانے، مساجد گرانے اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے تو دوسری طرف طالبان کے ساتھ دوستی کے جھنڈے گاڑ رہی ہے۔
یہ دوغلا پن بھارتی عوام میں بھی زیر بحث ہے۔ بہت سے ماہرین کے نزدیک طالبان سے دوستی انتہا پسندی کی بین الاقوامی قبولیت کے مترادف ہے۔ ایک ایسا رجحان جو خود بھارت کے اندر موجود فرقہ وارانہ تشدد کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔
طالبان سے قربت کا مطلب دراصل انتہا پسندی کی خاموش تائید ہے، جو بھارت کی سیکولر شناخت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اس کے برعکس پاکستان اور چین نے افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو اقتصادی تعاون، ترقی اور امن پر مبنی رکھا ہے۔
چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) اور پاکستان کے سی پیک (CPEC) منصوبے نے خطے میں استحکام اور رابطہ کاری کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔
افغانستان کے ساتھ یہ عملی تعاون بھارت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ علاقائی اثر و رسوخ کا دارومدار عسکری یا سفارتی سازشوں پر نہیں بلکہ معاشی و جغرافیائی شراکت داری پر ہے۔
پاکستان اور چین کی مشترکہ پالیسیوں نے بھارت کو خطے میں ایک غیر متعلقہ کردار میں بدل دیا ہے۔
مودی حکومت کی پاکستان مخالف پالیسیوں نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارت کے سفارتی رشتوں کو کمزور کر دیا ہے۔
امریکا اور یورپی ممالک اب بھارت پر وہ بھروسہ نہیں رکھتے جو چند سال پہلے رکھتے تھے۔ طالبان کو دعوت دینے کے فیصلے نے نئی دہلی کو ایک غیر سنجیدہ اور تضاد پسند ریاست کے طور پر پیش کیا ہے۔
سفارتی سطح پر یہ بھارت کی سب سے بڑی پسپائی ہے جس میں وہ خود اپنی پالیسیوں کا شکار بن گیا ہے۔
عالمی برادری اب بھارت کو نہ تو افغانستان میں قابلِ اعتبار ثالث سمجھتی ہے۔ نہ ہی علاقائی امن میں کوئی مؤثر فریق۔
بھارت کا طالبان کے ساتھ تعلقات بڑھانا دراصل ایک خطرناک جوا ہے۔ طالبان کے اندرونی اختلافات، بین الاقوامی دباؤ اور علاقائی پیچیدگیاں ایسی ہیں کہ کوئی بھی غیر متوازن تعلق بھارت کے لیے الٹا بوجھ بن سکتا ہے۔
یہ تعلق وقتی فائدے تو دے سکتا ہے، مگر طویل المدتی طور پر بھارت کو سفارتی تنہائی اور اخلاقی زوال کی طرف دھکیل رہا ہے۔
دوسری جانب طالبان بھی بھارت کے لیے قابلِ بھروسہ شراکت دار نہیں۔ وہ ماضی میں بھارت کے قونصل خانوں اور سفارت خانوں کے خلاف کارروائیاں کر چکے ہیں۔
اس پس منظر میں بھارت کا یہ قدم نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ خود ساختہ بحران کی علامت ہے۔
بھارت کی افغان چال دراصل اس کے پاکستان مخالف جنون کا تسلسل ہے۔ نئی دہلی سمجھتا ہے کہ کابل کے ذریعے پاکستان پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت، سکیورٹی تعاون اور سرحدی انتظام میں بہتری آرہی ہے جس نے بھارت کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن و استحکام کی حمایت کی ہے، جبکہ بھارت نے وہاں اپنے سیاسی مفادات کے لیے انتشار پھیلانے کی کوشش کی۔
اب حالات نے فیصلہ سنا دیا ہے۔ بھارت کی افغان پالیسی نہ صرف ناکام ہوئی بلکہ اس نے اس کی علاقائی ساکھ کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
آج بھارت خود کو اس مقام پر دیکھ رہا ہے جہاں وہ کبھی اپنے حریفوں کو دیکھتا تھا۔ وہ اب ایک تماشائی ملک بن چکا ہے جو خطے کی تبدیلیوں کو بے بسی سے دیکھ رہا ہے۔
اس کی "علاقائی قیادت” کا خواب اب تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا گیا ہے۔
پاکستان اور چین خطے کی نئی معاشی و جغرافیائی حقیقتوں کو تشکیل دے رہے ہیں جبکہ بھارت ایک سفارتی اور اخلاقی بحران میں مبتلا ہے۔
اقوام متحدہ کی پابندیوں کے سائے میں طالبان کو مدعو کرنا نئی دہلی کے زوال کا ایک اور باب ہے ایک ایسا باب جو اس کی کمزور سفارت کاری، دوغلے کردار اور اخلاقی دیوالیہ پن کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
ڈاکٹر سید حمزہ حسیب شاہ ایک تنقیدی مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتے ہیں، خاص طور پر ایشیا اور جغرافیائی سیاست پر توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اردو میں اور علمی اور پالیسی مباحثوں میں فعال طور پر حصہ ڈالتا ہے۔View all posts
