جب ایک شخص امن کی بات کرے، معاشرے کو جوڑنے کی کوشش کرے اور نفرت کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہو تو وہ صرف ایک فرد نہیں رہتا۔ وہ امید، اتحاد اور انسانیت کی علامت بن جاتا ہے۔ مولانا خان زیب ایسی ہی ایک شخصیت تھے۔ ان کا قتل ایک انسان کی جان لینے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ واقعہ امن کے خلاف گولی چلانے کے مترادف ہے ۔ ایک ایسا حملہ جس کا مقصد صرف ایک شخص کی خاموشی نہیں بلکہ معاشرے میں پھیلتی ہوئی یکجہتی اور برداشت کی سوچ کو کچلنا ہے۔
مولانا خان زیب ایک جانی پہچانی اور قابلِ احترام مذہبی شخصیت تھے جنہوں نے ہمیشہ امن، برداشت اور بھائی چارے کی بات کی۔ ان کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو یہ تھا کہ وہ نہ صرف دہشت گردی کے خلاف کھل کر بولتے تھے بلکہ فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کے بھی سخت مخالف تھے۔ وہ ان نایاب علما میں سے تھے جنہوں نے صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے شدت پسندی کو مسترد کیا۔ ان کی قیادت میں ہونے والے امن مارچ اسی کوشش کا حصہ تھے۔ ایک پیغام کہ پاکستان کی سرزمین نفرت، تشدد اور خونریزی کی نہیں بلکہ امن و آشتی کی زمین ہے۔
لیکن افسوس اس قافلے کا علمبردار نامعلوم حملہ آوروں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ ان کے قتل کی خبر صرف دکھ اور غم نہیں لائی بلکہ ایک گہرا سوال بھی چھوڑ گئی۔ کیا اب اس ملک میں امن کی بات کرنا جرم بن چکا ہے؟
قتل کے فوراً بعد ایک اور تشویشناک پہلو سامنے آیا۔ داعش خراسان سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مولانا زیب کے قتل پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ ان پوسٹس میں ان کی شہادت پر نہ صرف خوشی منائی گئی بلکہ اسے ایک کامیابی قرار دیا گیا۔ یہ رویہ صرف نفرت کا عکاس نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شدت پسند گروہ سوشل میڈیا کو اپنا ہتھیار بنا چکے ہیں۔ وہ ان پلیٹ فارمز پر اپنے ناپاک عزائم کو پھیلاتے ہیں، نوجوان ذہنوں کو متاثر کرتے ہیں اور ہر اس آواز کو نشانہ بناتے ہیں جو ان کی سوچ سے اختلاف رکھتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا اب ایک نیا میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ یہاں جنگ بندوق سے نہیں الفاظ سے لڑی جاتی ہے۔ شدت پسند بیانیہ یہاں دھیرے دھیرے زہر کی طرح پھیلتا ہے اور اپنے لیے ہمدرد پیدا کرتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر ان پلیٹ فارمز پر سخت نگرانی اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو یہ مزید جانیں لینے کا باعث بنیں گے۔
مولانا خان زیب کا قتل ایک قومی جھنجھوڑنے والا لمحہ ہونا چاہیے تھا۔ مگر بدقسمتی سے ریاستی اداروں، میڈیا، اور عوام کی طرف سے بھرپور ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ایسی خاموشی خود شدت پسندوں کے لیے حوصلہ افزا پیغام بن جاتی ہے کہ وہ کسی بھی امن پسند شخصیت کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور معاشرہ صرف افسوس تک محدود رہے گا۔
جب معاشرہ ایسے واقعات پر خاموش رہتا ہے تو یہ گویا دہشت گردوں کے لیے لائسنس بن جاتا ہے کہ وہ جو چاہیں کریں، ان کا کوئی محاسبہ نہیں ہوگا۔ اگر آج ہم نے مولانا خان زیب کے قتل پر آواز بلند نہ کی تو کل ایک اور عالم، ایک اور استاد، ایک اور اتحاد کا علمبردار قتل ہو جائے گا اور ہم صرف مذمتی بیانات سے آگے نہ بڑھ پائیں گے۔
مولانا خان زیب کا قتل ایک تلخ حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ اب دہشت گردوں کے سب سے بڑے دشمن وہ لوگ ہیں جو امن، رواداری اور مکالمے کی بات کرتے ہیں۔ جنہوں نے بندوق کی جگہ دلیل کو چُنا اور نفرت کی جگہ محبت کا پیغام دیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو شدت پسندوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں کیونکہ یہ ان کی منافقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔
یہ واقعہ ہمیں اس جانب بھی متوجہ کرتا ہے کہ اب جنگ صرف بم اور بندوقوں سے نہیں لڑی جا رہی، بلکہ نظریات الفاظ اور بیانیوں کی جنگ ہے۔ مولانا زیب کا قتل ایک نظریاتی حملہ تھا وہ نظریہ جس کے مطابق صرف ہماری سوچ درست ہے اور جو اختلاف کرے وہ واجب القتل ہے۔
پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ ہزاروں جانیں اس جنگ میں قربان ہو چکی ہیں۔ لیکن جو بات شاید ہم بھول گئے ہیں وہ یہ کہ اس جنگ میں اصل جیت صرف دہشت گردوں کو مارنے سے نہیں بلکہ ان کے نظریے کو شکست دینے سے ہوگی۔ مولانا خان زیب جیسے علما اس جنگ کے اصل ہیرو تھے۔ ان کے قتل پر خاموشی اس بیانیے کی شکست ہے جس کے مطابق پاکستان امن، اتحاد اور رواداری کا داعی ملک ہے۔
ہمیں بطور ریاست اور بطور قوم یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ شدت پسندی صرف فوجی کارروائی سے ختم نہیں ہو سکتی، جب تک معاشرے میں امن کے داعیوں کو تحفظ نہ دیا جائے۔ جب تک ان کی آوازوں کو سنا اور سراہا نہ جائے تب تک دہشت گردوں کا خوف باقی رہے گا۔
مولانا خان زیب جیسے یکجہتی کے علمبرداروں کو نشانہ بنانا صرف ایک شخص پر حملہ نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک امید، ایک قومی شعور پر حملہ ہے۔ ان کا قتل ایک ایسی قوم کی اجتماعی روح پر وار ہے جو پچھلی دہائیوں کے زخموں سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ دہشت گرد عناصر جانتے ہیں کہ اگر وہ امن کے علمبرداروں کو خاموش کر دیں تو معاشرہ خود بخود تقسیم ہو جائے گا۔ یہی ان کا مقصد ہے۔ نفرت کو پھیلانا، خوف کو معمول بنانا اور محبت کی زبان کو ہمیشہ کے لیے بند کر دینا۔
مولانا خان زیب کی شہادت ہم سب کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔ یہ وقت ہے کہ ہم محض افسوس تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے اداروں سے جواب طلب کریں۔ سوشل میڈیا پر نفرت کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کریں اور ان امن کے سفیروں کے لیے اجتماعی آواز بلند کریں جو ہمارے مستقبل کی ضمانت ہیں۔
یہ گولیاں صرف مولانا خان زیب کے سینے میں نہیں لگیں۔ یہ ہر اُس انسان کی روح کو زخمی کر گئی ہیں جو پاکستان میں امن، یکجہتی اور بھائی چارے کا خواب دیکھتا ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے متحد ہو جائیں کیونکہ اگر ہم خاموش رہے تو اگلی گولی کسی اور امن پسند کے لیے ہو گی اور ہم صرف کفِ افسوس ملتے رہ جائیں گے۔
Author
-
ڈاکٹر محمد منیر ایک معروف اسکالر ہیں جنہیں تحقیق، اکیڈمک مینجمنٹ، اور مختلف معروف تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں میں تدریس کا 26 سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز (DSS) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
View all posts