دنیا اس وقت ایک شدید اور بڑھتے ہوئے "پلاسٹک بحران" میں مبتلا ہے جو انسانی صحت اور ماحولیاتی توازن کے لیے ایک خطرناک اور اکثر نظرانداز کیا جانے والا چیلنج بن چکا ہے۔ معروف طبی جریدے دی لانسیٹ میں شائع ہونے والے ایک جامع جائزے کے مطابق یہ بحران زندگی کے ہر مرحلے بچپن سے بڑھاپے تک بیماریوں اور اموات سے براہِ راست جڑا ہوا ہے اور سالانہ صحت کے شعبے میں تقریباً 1.5 کھرب ڈالر کے نقصانات کا باعث بن رہا ہے۔
بحران کی جڑ: پلاسٹک کی بے تحاشا پیداوار
1950 کے بعد سے پلاسٹک کی پیداوار میں 200 گنا اضافہ ہوا ہے اور اندازہ ہے کہ 2060 تک یہ مزید تین گنا بڑھ کر سالانہ ایک ارب ٹن سے تجاوز کر جائے گی۔ اگرچہ پلاسٹک کئی اہم افادیتیں رکھتا ہے لیکن سب سے تیز رفتار اضافہ سنگل یوز پلاسٹک (جیسے بوتلیں اور فاسٹ فوڈ پیکنگ) میں ہوا ہے، جس نے مسئلہ سنگین بنا دیا ہے۔
آج کرۂ ارض پر تقریباً 8 ارب ٹن پلاسٹک ہر جگہ پھیل چکا ہے ایورسٹ کی چوٹی سے لے کر سمندروں کی گہرائیوں تک۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ اس فضلے کا صرف 10 فیصد ہی ری سائیکل ہو پاتا ہے۔
صحت پر اثرات: زندگی کے ہر مرحلے میں خطرہ
رپورٹ کے مطابق پلاسٹک کی تباہ کاریاں اس کے پورے لائف سائیکل میں انسانی صحت کو متاثر کرتی ہیں:
- فضائی آلودگی: پلاسٹک کی تیاری اور جلانے سے زہریلے مادے فضا میں شامل ہوتے ہیں۔
- کیمیائی زہریلا پن: پلاسٹک میں 16 ہزار سے زائد کیمیکلز شامل ہیں جن میں سے کئی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔
- مائیکرو پلاسٹک کا دخول: یہ ذرات پانی، خوراک اور سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر خون، دماغ، چھاتی کے دودھ، نال، منی اور ہڈیوں تک میں پائے گئے ہیں۔ ان کے دل کے دوروں اور فالج کے خطرے کو بڑھانے کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔
- کمزور طبقات پر اثرات: رحمِ مادر میں موجود بچے، نوزائیدہ اور کم عمر بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے لیے قبل از وقت پیدائش، پیدائشی نقائص، پھیپھڑوں کی کمزور نشوونما، بانجھ پن اور بچپن کے سرطان جیسے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
- بیماریوں کا پھیلاؤ: پھینکا گیا پلاسٹک پانی جمع کر کے مچھروں کی افزائش گاہ بن جاتا ہے، جو وبائی امراض کو بڑھا سکتا ہے۔
معیشت اور ماحولیاتی بحران
رپورٹ کے مطابق صرف تین عام پلاسٹک کیمیکلز (PBDE, BPA اور DEHP) کی وجہ سے 38 ممالک میں سالانہ 1.5 کھرب ڈالر کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔
پلاسٹک کی تیاری 98 فیصد فوسل فیول پر مبنی ہے اور یہ عمل سالانہ تقریباً 2 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں خارج کرتا ہے جو دنیا کے چوتھے بڑے آلودہ کنندہ ملک روس کے اخراج سے بھی زیادہ ہے۔
عالمی معاہدے پر فیصلہ کن وقت
یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا ایک عالمی پلاسٹک معاہدے پر حتمی مذاکرات کی تیاری کر رہی ہے۔ 100 سے زائد ممالک پلاسٹک کی پیداوار پر حد مقرر کرنے کے حامی ہیں، لیکن سعودی عرب جیسے پٹرول ریاستیں اور پلاسٹک انڈسٹری کے بڑے لابیز اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور صرف ری سائیکلنگ پر زور دے رہے ہیں۔
تاہم رپورٹ صاف کہتی ہے کہ دنیا ری سائیکلنگ کے ذریعے اس بحران سے نہیں نکل سکتی کیونکہ پلاسٹک کی کیمیائی ساخت ری سائیکلنگ کو غیر مؤثر بناتی ہے۔
فوری اقدامات کی ضرورت
رپورٹ کے مرکزی مصنف پروفیسر فلپ لینڈریگن کے مطابق:
"ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ پلاسٹک آلودگی انسانی صحت اور ماحول کے لیے کتنی تباہ کن ہے۔”
وہ زور دیتے ہیں کہ آئندہ عالمی معاہدے میں لازمی طور پر ایسے اقدامات شامل ہوں جو خصوصاً کمزور طبقات کے لیے انسانی اور ماحولیاتی صحت کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
نگاہ Pk کے مطابق، یہ بحران دنیا کو فوری اور فیصلہ کن قدم اٹھانے پر مجبور کرتا ہے۔ شفاف پالیسی سازی، عالمی تعاون اور پلاسٹک کی بے قابو پیداوار کے بجائے پائیدار متبادل کی طرف جانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔