Nigah

راشد منہاس حوصلے اور قربانی کی ایک وراثت

nigah rashid minhas nishan e haider
[post-views]

ہر قوم کی تاریخ میں کچھ ایسے لوگ جنم لیتے ہیں جو کبھی فراموش نہیں ہوتے۔ ان کے کردار اور قربانیاں وقت کے ساتھ مدھم نہیں پڑتیں بلکہ نسل در نسل یاد رکھی جاتی ہیں۔ پاکستان کے لیے راشد منہاس شہید ایک ایسا ہی روشن ستارہ ہیں، جو بیس برس کی عمر میں قوم کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئے۔

کراچی کے ایک عام سے گھر میں 17 فروری 1951 کو جنم لینے والا یہ لڑکا اپنے بچپن میں دوسروں کی طرح ہی تھا۔ کھیل کود، خواب اور ہنسی مذاق سب کچھ زندگی کا حصہ تھا۔ مگر اس کے دل میں ایک خواہش بہت گہری تھی: پرواز کرنے کی۔ آسمان کی وسعتیں اور جہازوں کی گھن گرج جیسے اس کی روح کو آواز دیتی تھیں۔ یہی شوق بڑھتے بڑھتے ایک خواب میں ڈھلا اور پھر خواب حقیقت میں بدل گیا۔ جب وہ پاک فضائیہ کا حصہ بنا تو دل میں صرف ایک ہی عہد تھا: "اپنے وطن کے لیے کچھ کرنا ہے۔”

پھر وہ لمحہ آیا جس نے ایک نوجوان کو تاریخ میں امر کر دیا۔ اگست 1971 کی ایک عام سی صبح تھی، جب راشد منہاس اپنی تربیتی پرواز پر روانہ ہوئے۔ لیکن چند لمحوں بعد سب کچھ بدل گیا۔ ان کے ساتھ بیٹھے انسٹرکٹر نے طیارہ دشمن کی سرزمین پر لے جانے کی کوشش کی۔ یہ لمحہ کسی کے لیے خوفناک ہو سکتا تھا، لیکن راشد کے لیے نہیں۔ ان کے دل میں ایک ہی آواز گونجی: "میرا پاکستان سب سے پہلے۔”

انہوں نے مزاحمت کی، جدوجہد کی، اور جب یہ جان لیا کہ دشمن کا منصوبہ ناکام کرنے کا واحد راستہ اپنی جان دینا ہے، تو انہوں نے لمحہ بھر کی تاخیر کے بغیر یہ قیمت ادا کر دی۔ طیارہ زمین سے ٹکرا گیا، لیکن وطن کی عزت اور وقار بچ گیا۔ راشد منہاس نے اپنی جان دے کر قوم کو یہ یقین دلایا کہ پاکستان کی حفاظت سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

ان کی قربانی اتنی عظیم تھی کہ قوم نے انہیں نشانِ حیدر سے نوازا وہ اعزاز جو صرف ان لوگوں کو ملتا ہے جو اپنی جان دے کر تاریخ کے دھارے کو موڑ دیتے ہیں۔ وہ پاک فضائیہ کے پہلے اور واحد پائلٹ ہیں جنہیں یہ اعزاز ملا، اور اسی نے ان کا نام ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔

راشد منہاس کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وطن کی محبت عمر سے بڑی طاقت ہے۔ بیس سال کی عمر میں جب زیادہ تر نوجوان اپنے خوابوں کی تعمیر میں مصروف ہوتے ہیں، راشد نے اپنے خواب قربان کر دیے تاکہ قوم کے خواب زندہ رہیں۔

آج جب ان کا ذکر ہوتا ہے تو دل فخر سے بھر جاتا ہے۔ ان کا کردار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک امانت ہے، جسے خون اور قربانی سے سینچا گیا ہے۔ راشد منہاس کی قربانی محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک روشنی ہے جو آنے والی نسلوں کو ہمیشہ حوصلہ دیتی رہے گی۔

وہ چراغ جو بیس برس کی عمر میں بجھ گیا، حقیقت میں ایک ایسی روشنی چھوڑ گیا جو کبھی مدھم نہیں ہوگی۔ یہی روشنی، یہی جذبہ اور یہی قربانی ان کی اصل وراثت ہے، جس پر پوری قوم ہمیشہ ناز کرتی رہے گی۔

اوپر تک سکرول کریں۔