تقریباً ربع صدی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے نبردآزما پاکستان نے دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ اس جنگ میں اب تک 80 ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہو چکے ہیں جن میں سیکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسر اور جوان بھی شامل ہیں۔ اس جنگ میں پاکستان نے 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان بھی اٹھایا۔
وطن کی مٹی پر قربان ہونے والے ان شہداء کے بدولت خطے میں امن کے قیام کی ٹھوس بنیاد رکھی گئی۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض تنظیمیں بیرونی ایجنڈے کے تحت پاکستان کی قربانیوں کو فراموش کر کے پاکستان کے خلاف زہر افشانی کرتی رہتی ہیں۔ ان میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سر فہرست ہے۔
پی ٹی ایم کا گمراہ کن بیانیہ حقیقت میں دہشت گردوں کے معصوم شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی پردہ پوشی کے سلسلے کی کڑی ہے۔ پاکستان کی قربانیوں کو آج دنیا تسلیم کرتی ہے لیکن پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کے بیانات زمینی حقائق کے خلاف ہیں۔ وہ ریاست مخالف بیانیہ میں دہشت گردوں کو مظلوم اور ریاستی اداروں کو ظالم ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ چاہے وہ میر علی کے ڈرون حملے کا پروپیگنڈا ہو یا کوہاٹ اور وانا کے واقعات، وہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔
منظور پشتین نے بے بنیاد دعویٰ کیا کہ پاک فوج نے میر علی میں ڈرون حملہ کر کے پشتون بچوں کو نشانہ بنایا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گرد اکثر شہری آبادیوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ حقائق منظر عام پر آنے کی صورت میں اپنی بربریت کے خلاف رد عمل کو وہ ریاستی ظلم قرار دینے لگتے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے معصوم شہریوں کو نقصان سے محفوظ رکھنے کے پیش نظر دہشت گردوں کے خلاف ہمیشہ ٹارگٹڈ کارروائیاں کیں۔
منظور پشتین نے ایک اور جھوٹا موقف اختیار کرتے ہوئے کوہاٹ میں چھ نوجوانوں کے قتل اور اقراء سکول وانا جنوبی وزیرستان کے پرنسپل رحمت اللہ کے اغوا کو بھی اداروں کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی جب کہ حقائق سامنے آنے پر اس میں بھی کالعدم ٹی ٹی پی ہی ملوث نکلی۔
پشاور کے سینیئر صحافی میاں فاروق فراق کے برخوردار علی فراق کے قتل پر تعزیت اور خدائی خدمت گار کے زخمی اراکین کے لیے ہمدردی کو بھی ریاست مخالف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف قابل افسوس ہے بلکہ دکھ درد کو بانٹنے کے بجائے اپنی سیاست چمکانا انسانیت اور معاشرتی اقدار کے منافی ہے۔
حالیہ طوفانی بارش اور سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے پورا ملک بلکہ دوست ممالک نے بھی پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور متاثرین کی مدد کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی لیکن منظور پشتین نے سیلاب متاثرین پر بھی منفی سیاست کی روش کو برقرار رکھا اور الزام لگایا کہ حکومت نے سیلاب متاثرین کو نظر انداز کیا۔ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ پاکستان میں جب بھی کوئی قدرتی آفت یا سیلاب آتا ہے تو پاک فوج کے جوان اپنے ہم وطنوں کو بچانے کے لیے سول اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔
حالیہ سیلاب میں بھی پاک فوج نے ہزاروں خاندانوں کو محفوظ مقامات منتقل کیا، انہیں خوراک اور طبی سہولیات کے علاوہ ہر ممکن ریلیف پہنچانے میں سرکاری اداروں کے ساتھ تعاون کیا۔
دیگر تنظیموں نے بھی اپنی بساط کے مطابق متاثرین کی بھرپور مدد کی۔ یہ سوال اٹھتا ہے کہ منظور پشتین اور ان کے ہمنوا متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے آگے کیوں نہیں بڑھے بلکہ اپنے منفی پروپیگنڈے کے ذریعے حکومتی اور فورسز کے عملی اقدامات کو نظر انداز کر کے حوصلہ شکنی کی۔
پختونوں کے نام پر سیاست کرنے والی پی ٹی ایم کا مقصد ملک کے اندر نسلی، لسانی اور قومیت کے نام پر انتشار پیدا کرنا ہے تاکہ پی ٹی ایم کی پشت پر کھڑی قوتوں کے عزائم مکمل کیے جا سکیں۔ عوامی جذبات کو بھڑکا کر اور غلط معلومات پھیلا کر پی ٹی ایم دہشت گرد تنظیموں اور دشمن ایجنڈے کی ترجمان بن چکی ہے۔ پاکستان کے دشمنوں کی خواہش ہے کہ عوام اور فوج کے درمیان بد اعتمادی پیدا ہو اور عراق، لیبیا اور شام جیسے حالات پیدا کیے جا سکیں۔
پاکستان مخالف قوتیں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو فراموش کر کے ہمیشہ سے ڈو مور کا مطالبہ کرتی آ رہی ہیں۔ افغانستان میں بھارتی مالی معاونت سے پنپنے والے دہشت گرد پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کے لیے مصروف ہیں۔ چنانچہ پی ٹی ایم جیسی تنظیموں کا بیانیہ انہیں تقویت دیتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا موقف پوری دنیا پر واضح ہے کہ پاکستان نے خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور قوم کو اپنے اداروں کی قربانیوں کا ادراک ہے۔ اسی عوامی حمایت کے بدولت پاک فوج بھرپور طریقے سے دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہی ہے اور قوم کے باشعور لوگ جانتے ہیں کہ پی ٹی ایم کا گمراہ کن پروپیگنڈا عوام کے جذبات کو بھڑکانا اور اداروں کو بدنام کرنا ہے تاکہ اس بیانیہ کے ذریعے دہشت گردوں اور دشمن قوتوں کی سرگرمیوں کی پردہ پوشی کی جا سکے۔ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور امن کا انحصار قومی اتحاد میں مضمر ہے، اسی کی بدولت پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے۔
اعلان دستبرداری: اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
حسین جان کے علمی مفادات بین الاقوامی سلامتی، جغرافیائی سیاسی حرکیات، اور تنازعات کے حل میں ہیں، خاص طور پر یورپ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے۔ انہوں نے عالمی تزویراتی امور سے متعلق مختلف تحقیقی فورمز اور علمی مباحثوں میں حصہ ڈالا ہے، اور ان کا کام اکثر پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور علاقائی استحکام کو تلاش کرتا ہے۔
View all posts

