صحت وہ نعمت ہے جس کی قدر انسان کو تب ہوتی ہے جب وہ کسی بیماری کی زنجیروں میں جکڑ جاتا ہے۔ آج کے دور میں سب سے زیادہ عام اور خطرناک بیماریوں میں سے ایک ذیابیطس ہے، جو دنیا بھر کے لاکھوں افراد کو متاثر کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسا مرض ہے جو بظاہر خاموش رہتا ہے، مگر اندر ہی اندر جسم کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ سائنس نے ایک بار پھر انسانیت کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں۔ اب ذیابیطس کی تشخیص ہسپتالوں کی لمبی قطاروں اور مہنگے ٹیسٹوں کے بجائے صرف ایک موبائل فون کے ذریعے ممکن بننے جا رہی ہے۔
برطانیہ کے سائنسدانوں نے حال ہی میں ایک حیرت انگیز طریقہ کار متعارف کرایا ہے جسے مستقبل کا طبی انقلاب کہا جا سکتا ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف آسان ہے بلکہ وقت اور پیسے دونوں کی بچت کرتا ہے۔ طریقہ کار کچھ یوں ہے کہ انگلی پر ہلکی سی سوئی لگائی جاتی ہے، خون کا ایک قطرہ لیا جاتا ہے اور اسے ایک خاص پٹی پر ڈالا جاتا ہے۔ پھر موبائل فون کا کیمرہ اس پٹی کو اسکین کرتا ہے اور صرف چند منٹوں میں نتیجہ سامنے آ جاتا ہے۔ یوں انسان اپنے ہاتھ میں موجود فون سے ہی اپنی صحت کے بارے میں فوری جانکاری حاصل کر لیتا ہے۔
یہ ایجاد ابھی برطانیہ کے چند علاقوں میں آزمائشی طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ ماہرین پرامید ہیں کہ کامیاب تجربات کے بعد اسے ملک بھر میں عام کر دیا جائے گا اور پھر دنیا کے دوسرے حصوں تک بھی یہ سہولت پہنچ جائے گی۔ اس ایجاد کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بیماری کو ابتدائی مرحلے پر ہی پکڑ سکتی ہے۔ اگر بروقت تشخیص ہو جائے تو مریض آسانی سے اپنی غذا، ورزش اور علاج کے ذریعے بڑے نقصانات جیسے دل کی بیماری، فالج اور گردوں کی ناکامی سے بچ سکتا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف برطانیہ میں ہر سال ذیابیطس کے علاج پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ یہ نئی ٹیکنالوجی اگر عام ہو گئی تو صحت کے بجٹ پر دباؤ کم ہوگا اور مریضوں کو بھی بڑی سہولت ملے گی۔ یہ ایسا تحفہ ہے جو نہ صرف مریض کو ذہنی سکون دیتا ہے بلکہ خاندان اور پورے معاشرے کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔
تصور کیجیے، ایک عام آدمی جو روزانہ دفتر جاتا ہے یا ایک خاتون جو گھر کی ذمہ داریوں میں مصروف ہے، وہ اپنے موبائل کے ذریعے صرف چند لمحوں میں اپنی صحت کی جانچ کر سکے گی۔ یہ سہولت ان لوگوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں جو ہسپتال جانے یا بار بار مہنگے ٹیسٹ کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کا یہ امتزاج دراصل انسان کی زندگی کو آسان بنانے کی ایک اور کڑی ہے۔ جو کام کبھی گھنٹوں یا دنوں میں ہوتا تھا، وہ اب منٹوں میں ممکن ہے۔ یہ محض ایک طبی ٹیسٹ نہیں، بلکہ امید کی نئی کرن ہے، جو ذیابیطس کے مریضوں کو یقین دلاتی ہے کہ وہ اپنی بیماری پر قابو پا سکتے ہیں اور ایک بہتر، محفوظ اور خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔