Nigah

پاکستان موسمیاتی تباہی کے دہانے پر، خطرے کی گھنٹیاں بج گئیں

nigah bad weather Pakistan flood
[post-views]

سیلاب و خشک سالی کے خدشات

پاکستان اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے پر کھڑا ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ کبھی آسمان سے ایسی موسلا دھار بارش برستی ہے کہ بستیاں پانی میں ڈوب جاتی ہیں اور کھیت اجڑ جاتے ہیں، تو کبھی مہینوں تک بارش کا نام و نشان تک نہیں ملتا اور زمین چٹخ کر بنجر ہو جاتی ہے۔ یہ تضاد اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ قدرتی نظام میں گہری تبدیلی آ چکی ہے اور ہم اگر اب بھی لاپرواہی کرتے رہے تو انجام نہایت خوفناک ہوگا۔

گزشتہ چند برسوں کے مناظر ہماری یادوں میں تازہ ہیں۔ ایک طرف دیہی علاقے ہیں جہاں دریاؤں کا پانی سیلابی ریلے کی صورت میں گھروں کو بہا لے گیا۔ بچے، عورتیں اور بوڑھے بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے پناہ ڈھونڈنے پر مجبور ہو گئے۔ کھیتوں میں کھڑی محنت کی کمائی چند گھنٹوں میں ختم ہو گئی۔ دوسری طرف وہ خطے ہیں جہاں برسوں سے بارش نہیں ہوئی۔ وہاں کی زمین اتنی خشک ہو گئی ہے کہ دراڑیں پڑ گئیں۔ پانی کے چند گھونٹ حاصل کرنے کے لیے لوگ میلوں سفر کرتے ہیں۔ یہ دونوں تصویریں ایک ہی ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ایک ہی حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ پاکستان ماحولیاتی بحران کے دہانے پر ہے۔

سب سے زیادہ متاثر کسان ہوتے ہیں۔ وہ صبح سے شام تک محنت کر کے فصلیں اگاتے ہیں، لیکن کبھی بارش کی زیادتی سب کچھ بہا لے جاتی ہے اور کبھی پانی کی کمی ان کی زمین کو اجاڑ دیتی ہے۔ ان کی آنکھوں میں جو خواب ہیں وہ مٹی کے ساتھ دفن ہو جاتے ہیں۔ شہروں کے رہنے والے بھی محفوظ نہیں۔ جب بارش کے بعد سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرتی ہیں، بیماریاں پھیلتی ہیں اور پینے کا صاف پانی کم ہو جاتا ہے تو سب کو احساس ہوتا ہے کہ یہ خطرہ سب کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ خشک سالی کے نتیجے میں خوراک کی قلت اور مہنگائی بھی براہِ راست شہری زندگی کو متاثر کرتی ہے۔

یہ حقیقت بھی بہت کڑوی ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سہہ رہے ہیں، حالانکہ آلودگی پیدا کرنے میں ہمارا حصہ نہایت کم ہے۔ یہ ایک عالمی ناانصافی ہے، لیکن دوسروں کو قصوروار ٹھہرانے سے بات نہیں بنے گی۔ ہمیں اپنی سطح پر فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ درختوں کی شجرکاری، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے، صاف توانائی کے ذرائع اپنانا اور زراعت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ایسے کام ہیں جنہیں اب مزید مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔

عوام میں رفتہ رفتہ بیداری پیدا ہو رہی ہے۔ اسکولوں کے بچے شجرکاری مہم میں حصہ لے رہے ہیں، نوجوان سوشل میڈیا پر ماحولیات کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں، اور کچھ ادارے عملی منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ مگر یہ کوششیں ابھی ناکافی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ایک بڑا قومی ایجنڈا ترتیب دے، جس میں مقامی سطح سے لے کر قومی سطح تک سب شامل ہوں۔ اگر یہ اجتماعی کوشش نہ ہوئی تو آنے والے برسوں میں ہمیں مزید کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سیلاب اور خشک سالی محض اعداد و شمار یا خبروں کی سرخیاں نہیں ہیں۔ یہ حقیقی انسانوں کی زندگیاں ہیں جو اس بحران کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔ بچے بھوک سے بلک رہے ہیں، خاندان اپنے گھروں سے محروم ہو رہے ہیں، اور کسان اپنی زمینوں کو ویران دیکھ کر دل گرفتہ ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے؟ وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے، لیکن اگر ہم آج فیصلہ کر لیں تو امید کی کرن اب بھی باقی ہے۔ زمین ہمیں موقع دے رہی ہے کہ ہم اپنی روش بدلیں، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اسے ضائع کرتے ہیں یا بہتر مستقبل کی طرف بڑھتے ہیں۔

اوپر تک سکرول کریں۔