عید میلاد النبی وہ لمحہ ہے جس کا انتظار ہر مسلمان محبت اور عقیدت کے ساتھ کرتا ہے۔ یہ دن صرف ایک تاریخ یا روایت نہیں بلکہ ایمان، روشنی اور امید کی ایک نئی کرن ہے جو دلوں کو سکون اور خوشی سے بھر دیتی ہے۔ اس بار حکومت نے سرکاری اور نجی ملازمین کے لیے تین دن کی چھٹیوں کا اعلان کیا ہے، جس سے عوام کے اندر خوشی کی ایک اور لہر دوڑ گئی ہے۔ مصروفیات بھری زندگی میں ایسے لمحات واقعی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے جب لوگ اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھ کر نہ صرف خوشیاں بانٹ سکیں بلکہ اپنے دین کی یاد کو تازہ کر سکیں۔
پاکستانی معاشرے میں یہ دن ہمیشہ سے ایک خاص رنگ رکھتا ہے۔ جیسے ہی ربیع الاول کا چاند نظر آتا ہے، گلیاں اور محلے روشن ہو جاتے ہیں۔ سبز پرچم، برقی قمقمے اور نعتوں کی گونج ماحول کو ایک الگ سا سکون بخش دیتی ہے۔ لوگ گھروں اور مساجد کو سجاتے ہیں، محافل میلاد کا اہتمام کرتے ہیں، اور بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر کوئی اس دن کو اپنی اپنی محبت کے انداز میں مناتا ہے۔ یہ خوشیاں صرف ظاہری نہیں ہوتیں بلکہ دل کے اندر ایک عجیب سی کیفیت پیدا کرتی ہیں، جیسے ہم سب ایک ہی دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں۔
تین چھٹیوں کا اعلان ملازمین کے لیے واقعی راحت کا باعث ہے۔ روزمرہ کے دباؤ اور تھکن بھرے معمولات کے بعد یہ موقع انہیں سکون دیتا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ مل بیٹھیں۔ کچھ لوگ اپنے آبائی گاؤں کا رخ کریں گے، کچھ شہر ہی میں اپنے قریبیوں کے ساتھ وقت گزاریں گے، اور کئی افراد عبادت، ذکر اور درود و سلام میں یہ لمحات بسر کریں گے۔ یہ وقت صرف چھٹی گزارنے کا نہیں بلکہ اپنے رسول ﷺ کی سیرت پر غور کرنے کا بہترین موقع ہے۔
عید میلاد النبی کی خوشیوں میں سب اپنی استطاعت کے مطابق شریک ہوتے ہیں۔ کوئی اپنے گھر کے باہر سبیل لگاتا ہے، کوئی بچوں میں مٹھائیاں بانٹتا ہے، تو کوئی مسجد میں چراغاں کرتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس دن کی اصل روح دوسروں کو خوشی دینا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کو جو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کی بھاگ دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہی وہ سبق ہے جو نبی کریم ﷺ کی زندگی سے ہمیں ملتا ہے کہ دوسروں کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کرو۔
چھٹیوں کے اس اعلان نے لوگوں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کی دوڑ میں کچھ لمحے رک کر سوچیں کہ کیا ہم واقعی اپنی زندگی کو اس روشنی کے مطابق گزار رہے ہیں جسے نبی کریم ﷺ نے اپنے عمل اور اخلاق سے دکھایا تھا؟ یہ دن ہمیں صرف جشن منانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی اصلاح کرنے اور اپنی راہوں کو درست کرنے کے لیے بھی یاد دلاتا ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے یہ تین دن محض چھٹیاں نہیں بلکہ ایک روحانی سفر ہیں۔ ایک ایسا سفر جس میں ہم اپنے نبی ﷺ کی محبت اور ان کی تعلیمات کو دل میں تازہ کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی یہ سکھاتے ہیں کہ اصل خوشی چراغاں یا محافل میں نہیں بلکہ ان سنتوں کو اپنانے میں ہے جن سے انسانیت سنورتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کی جانب سے دیا گیا یہ فیصلہ صرف آرام اور فرصت کا موقع نہیں بلکہ ایک ایسا پیغام بھی ہے کہ ہم سب مل کر اس دن کو عقیدت، محبت اور فکر کے ساتھ گزاریں۔ عید میلاد النبی ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے کہ اگر ہم نے امن، بھائی چارہ اور محبت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا تو یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔