Nigah

بھارت سے پاکستان آنے والے دریا کون کون سے ہیں اور کہاں ملتے ہیں

nigah بھارت سے پاکستان آنے والے دریا
[post-views]

پاکستان کے دریاؤں کی کہانی دراصل اس زمین کی زندگی کی کہانی ہے۔ پہاڑوں سے نکلنے والی برف کی سفید دھار جب سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہوتی ہے تو یہ محض پانی نہیں لاتی بلکہ کھیتوں کی ہریالی، شہروں کی رونق اور لوگوں کی روزی روٹی کا سامان لے کر آتی ہے۔ بھارت کی طرف سے پاکستان میں داخل ہونے والے یہ دریا اس خطے کی معیشت اور تہذیب دونوں کو سہارا دیتے ہیں۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں دریائے سندھ کی، جو اپنی وسعت اور طاقت کے باعث سب دریاؤں کا بادشاہ کہلاتا ہے۔ یہ شمالی علاقوں کی بلندیوں سے نکل کر ہزاروں میل کا سفر طے کرتا ہے اور آخر میں سمندر میں جا گرتا ہے۔ سندھ وہ دریا ہے جو باقی تمام دریاؤں کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ پاکستان کی زراعت کا انحصار سب سے زیادہ اسی پر ہے۔ چاہے وہ کپاس کے کھیت، گندم کی سنہری لہریں یا گنے کی سرسبز قطاریں ہوں، سب کی زندگی سندھ کے پانی سے جڑی ہے۔

پھر آتا ہے جہلم، جو وادی کشمیر کی خوبصورت گھاٹیوں سے نکل کر پاکستان کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔ یہ وہ دریا ہے جس پر منگلا ڈیم بنا ہوا ہے۔ منگلا نہ صرف بجلی پیدا کرتا ہے بلکہ پانی ذخیرہ کر کے کھیتوں کو سیراب کرتا ہے۔ جہلم آگے بڑھ کر چناب میں شامل ہو جاتا ہے، لیکن اس کے سفر کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔

چناب کی روانی پنجاب کی زمین کو ایک خاص رنگ دیتی ہے۔ اگر پنجاب کو سرسبز کہا جاتا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہی دریا ہے۔ کپاس، چاول اور گنے کی فصلیں اس کے پانی کے بغیر ادھوری ہیں۔ یہ دریا آگے جا کر سندھ سے ملتا ہے اور یوں زرخیزی کی کہانی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

لاہور کی پہچان سے جڑا ہوا دریا ہے راوی۔ اگرچہ یہ بڑا دریا نہیں، لیکن اس کے کنارے صدیوں پرانی تاریخ اور تہذیب نے جنم لیا ہے۔ لاہور کی ثقافت اور ادب میں راوی کا ذکر ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ یہ بھی آخرکار چناب میں جا ملتا ہے، مگر اپنے سفر کے دوران زمین کو ہریالی ضرور بخشتا ہے۔

پنجاب کے جنوب کی طرف سے آنے والا ایک اور دریا ہے ستلج۔ یہ بھارت سے نکل کر بہاولپور کے قریب پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ ریگستانی علاقوں کے قریب واقع زمینیں اس کے پانی سے زندگی حاصل کرتی ہیں۔ یہ بھی آگے جا کر چناب میں شامل ہو جاتا ہے اور یوں سندھ کے دھارے کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

ایک اور دریا بیاس بھارت ہی میں بہتا ہے اور پاکستان تک نہیں پہنچتا، اس لیے یہ ہمارے دریاؤں کے نظام کا حصہ نہیں بنتا۔

یوں دیکھا جائے تو بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے والے چار بڑے دریا جہلم، چناب، راوی اور ستلج سب مل کر سندھ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان سب کے ملاپ سے ایک ایسا وسیع نظام بنتا ہے جو پاکستان کے لیے خوراک، توانائی اور روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ دریا محض پانی کا بہاؤ نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی تہذیب ہیں، جن کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی ان سے ویسی ہی زندگی حاصل کر سکیں جیسی آج ہم پا رہے ہیں۔

 

اوپر تک سکرول کریں۔