Nigah

رات میں منی بنکاک‘، مشی خان غیر اخلاقی سرگرمیوں پر بول اٹھیں

nigah mansha khan
[post-views]

منی بنکاک کی رنگینیاں یا زوال کی نشانی؟ مشی خان کی صاف گوئی

رات کے اندھیروں میں چھپے کچھ علاقے ایک الگ ہی دنیا کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ تیز روشنیوں، موسیقی اور شور شرابے سے بھرے یہ مقامات بظاہر پرکشش نظر آتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں دراڑ ڈال رہے ہیں۔ لوگ انہیں طنزاً ’’منی بنکاک‘‘ کہتے ہیں، لیکن یہ نام اب مذاق سے زیادہ ایک کڑوا سچ لگنے لگا ہے۔

مشی خان کی کھری رائے

اداکارہ اور ٹی وی ہوسٹ مشی خان نے ان سرگرمیوں پر دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ہماری تہذیب اور اقدار کے خلاف ہے اور نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ وہ سوال اٹھاتی ہیں کہ آخر حکام اس سب کو نظرانداز کیوں کر رہے ہیں؟ اگر بروقت روک تھام نہ ہوئی تو آنے والے وقت میں نقصان ناقابلِ تلافی ہوگا۔

بگاڑ کی حقیقت

یہ سرگرمیاں محض وقتی تفریح تک محدود نہیں رہتیں۔ ان کے اثرات معاشرتی سطح پر ظاہر ہوتے ہیں۔ نوجوان جب ایسے ماحول کا حصہ بنتے ہیں تو ان کی سوچ اور ترجیحات بدلنے لگتی ہیں۔ منشیات کا رجحان، پرتشدد رویے اور بے راہ روی ایسے مراکز کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ یہ زہر آہستہ آہستہ گھروں اور خاندانوں میں سرایت کرتا ہے اور آخرکار پورے معاشرے کی بنیاد کو کمزور کر دیتا ہے۔

عوامی ردِعمل

مشی خان کے بیان نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ بہت سے لوگوں نے ان کی باتوں کی حمایت کی اور کہا کہ یہ مقامات واقعی بند ہونے چاہئیں۔ کچھ نے مؤقف اختیار کیا کہ مسئلے کا حل صرف بیانات میں نہیں بلکہ مؤثر قوانین اور سخت عمل درآمد میں ہے۔ یہ بحث اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عوام بھی اس صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔

بہتر راستے کی تلاش

یہ سوال اہم ہے کہ اگر ان مراکز کو بند کر دیا جائے تو نوجوانوں کو مثبت تفریح کہاں سے ملے؟ حقیقت یہ ہے کہ انہیں ایسے مواقع چاہئیں جہاں وہ اپنی توانائی صحیح سمت میں لگائیں۔ کھیلوں کے مقابلے، ثقافتی اور ادبی تقریبات، تھیٹر اور موسیقی کے پروگرام، یا کمیونٹی سرگرمیاں—یہ سب نوجوانوں کو صحت مند ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر معاشرہ اور حکومت مل کر یہ مواقع پیدا کریں تو ’’منی بنکاک‘‘ جیسے مراکز اپنی کشش کھو دیں گے۔

نتیجہ: لمحہ سوچنے کا

مشی خان کی آواز محض تنقید نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ اپنی آنے والی نسل کو کس سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔ کیا ہم انہیں روشنیوں اور شور شرابے میں کھو دینا چاہتے ہیں یا انہیں تعمیری سرگرمیوں کی طرف لے جانا چاہتے ہیں؟ اگر آج ہم نے قدم نہ اٹھایا تو کل ہمارے پاس صرف افسوس رہ جائے گا۔

اوپر تک سکرول کریں۔