پاکستانی ماڈل اور اداکارہ زینب قیوم نے ایک انٹرویو میں اپنی نجی زندگی کے بارے میں کھل کر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ شادی کے بعد انہوں نے رشتے کو سنبھالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ گھر اور کیریئر دونوں کو توازن کے ساتھ چلایا مگر تمام کوششوں اور سمجھوتوں کے باوجود یہ رشتہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ زینب قیوم کے مطابق شادی کے آغاز میں سب کچھ بہتر دکھائی دیتا تھا لیکن وقت کے ساتھ اختلافات بڑھ گئے اور اعتماد کمزور ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ آسان نہیں تھا لیکن ذہنی سکون اور خودداری کے لیے الگ ہونا ضروری تھا۔ دس ماہ بعد ان کی شادی طلاق پر ختم ہو گئی۔
زینب قیوم کا بیان اور ذاتی تجربہ
اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے گھر کو چلانے کی پوری کوشش کی۔ سمجھوتہ کیا اور رشتے کو وقت دیا لیکن جب احترام اور ہم آہنگی برقرار نہ رہ سکی تو والدین اور بڑوں سے مشورہ کر کے علیحدگی اختیار کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی میں دونوں فریقوں کی ذمہ داری برابر ہوتی ہے اور یک طرفہ قربانی دیر تک نتیجہ نہیں دیتی۔ زینب قیوم نے یہ بھی کہا کہ عورت کا کیریئر اور خودی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ گھر کی ذمہ داری۔ اگر رشتے میں عزت نہ رہے تو بہتر ہے کہ باوقار طریقے سے راستے الگ کیے جائیں۔ انہوں نے نوجوان لڑکیوں کو مشورہ دیا کہ فیصلے ہوش مندی سے کریں اور اپنی خودی کو ہمیشہ قائم رکھیں۔
نعمان علی کے 10 شکار لاہور ٹیسٹ میں پاکستان کی تاریخی فتح
سوشل ردعمل اور حاصل ہونے والا سبق
زینب قیوم کی کھری باتوں پر شائقین نے ہمدردی اور حوصلہ افزائی کا اظہار کیا۔ کئی لوگوں نے کہا کہ سچ بولنا اور غلط رشتے سے نکل آنا ہمت کا کام ہے۔ مداحوں نے ان کے لیے بہتر مستقبل کی دعا کی اور امید ظاہر کی کہ وہ اپنے کیریئر میں مزید کامیابیاں حاصل کریں گی۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ رشتہ عزت اور بھروسا مانگتا ہے۔ اگر یہ دونوں نہ ہوں تو سمجھوتے صرف تھکن دیتے ہیں۔ خودداری اور ذہنی سکون کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے کیونکہ مشکل فیصلے وقتی طور پر کڑوے ہوتے ہیں مگر زندگی کو بہتر سمت دیتے ہیں۔