ایڈمونٹن: کینیڈا کے صوبے البرٹا کے دارالحکومت ایڈمونٹن میں ہفتے کے روز قانون ساز اسمبلی کے سامنے ہزاروں افراد نے "آئی ایم البرٹا” کے عنوان سے منعقد ہونے والی ایک بڑی ریلی میں شرکت کی۔ شرکاء نے وفاقی حکومت سے علیحدگی اور صوبائی خودمختاری کے حق میں بھرپور نعرے لگائے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق ریلی میں تقریباً پانچ ہزار افراد شریک ہوئے، تاہم منتظمین کا کہنا ہے کہ ڈرون فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ شرکاء کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کر گئی۔ البرٹا پراسپرٹی پروجیکٹ (APP) کے جنرل کونسل جیفری ریتھ نے شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے البرٹا پولیس کے کردار کو سراہا جنہوں نے امن و امان برقرار رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف چند مخالف مظاہرین موقع پر موجود تھے۔
ریتھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیرِ اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کی وفاقی حکومت کے ساتھ چھ ماہ کی بات چیت ناکام ہو چکی ہے، لہٰذا اب البرٹا کے عوام کو ’’فریڈم ٹرین‘‘ پر سوار ہونا چاہیے۔ ریلی میں شریک متعدد افراد مختلف علاقوں سے طویل سفر طے کر کے پہنچے، کچھ APP کی بسوں میں اور کچھ اپنی ذاتی گاڑیوں پر۔
ایک شریک خاتون، مائرنا، نے میڈیا سے گفتگو میں تھامس لوکاسزک کی ’’پرو-کینیڈا‘‘ پٹیشن کو ’’گمراہ کن‘‘ قرار دیا اور طنزاً اسے ’’فارایور اسکریوڈ پٹیشن‘‘ کہا۔ ریتھ نے انکشاف کیا کہ لوکاسزک اپنی مہم کی آخری تاریخ سے قبل پچاس ہزار دستخط کم ہونے کی وجہ سے ہدف حاصل نہیں کر سکے، جبکہ APP کو اب تک تین لاکھ سے زائد دستخط موصول ہو چکے ہیں جو البرٹا کی آزادی پر ریفرنڈم کے حق میں ہیں۔
ریلی کا ماحول اور تقاریر
ریلی میں وِسل اسٹاپ کیفے کے مالک کرس اسکاٹ، APP کے سی ای او مِچ سلویسٹری، اور آئینی ماہرین جیفری ریتھ و کیتھ ولسن نے تقاریر کیں، جب کہ جان بولٹن نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
مقررین نے آزادی، خودمختاری اور جمہوریت کے موضوعات پر بات کی۔ ہر بار جب وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی گئی تو مجمع کی جانب سے پرجوش نعروں اور تالیوں کی گونج سنائی دی۔
کیتھ ولسن نے خبردار کیا کہ وفاقی حکومت اگر بل C-9 کو نافذ کرتی ہے تو اس سے اظہارِ رائے کی آزادی محدود ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم صرف چاہتے ہیں کہ اوٹاوا ہمارے گلے سے گھٹن کا ہاتھ ہٹائے۔‘‘ ولسن نے 2026 تک صوبائی سطح پر آزادی کے ریفرنڈم کے انعقاد کا اعلان کیا اور شرکاء سے اپیل کی کہ وہ البرٹا کی خودمختاری پر اپنے اردگرد لوگوں سے بات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادی کی غیر یقینی صورت بھی وفاقی جبر کی یقینی صورتحال سے بہتر ہے۔
کرس اسکاٹ نے کہا کہ متوقع ریفرنڈم البرٹا کے عوام کے سیاسی سفر کا سب سے اہم لمحہ ہو گا، جبکہ سلویسٹری نے ہاکی کے معروف نعرے سے متاثر ہو کر حاضرین کو جوش دلایا: ’’چلو! آگے بڑھو!‘‘
البرٹا کی آزادی کی نئی لہر
ریٹھ نے کہا کہ 25 اکتوبر کو مستقبل میں ’’یومِ آزادی البرٹا‘‘ کے طور پر یاد رکھا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم مارک کارنی کی قیادت میں کینیڈا دنیا کے ’’سب سے زیادہ کرپٹ ممالک‘‘ میں شامل ہو گیا ہے، کیونکہ لبرل پارٹی میں ورلڈ اکنامک فورم کے اثرات نمایاں ہیں۔
انہوں نے اونٹاریو کے وزیرِ اعلیٰ ڈگ فورڈ پر کینیڈا کے آئل روٹس سے لاعلم ہونے اور سابق وزیرِ ماحولیات اسٹیون گِلبولٹ پر پائپ لائن نظام کے بارے میں کم فہمی کا الزام لگایا۔ ریتھ کے مطابق، ان کی ٹیم کو حالیہ امریکی دوروں کے دوران ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ شخصیات کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی (UCP) کے 70 سے 75 فیصد بورڈ ارکان پہلے ہی آزادی کے حامی ہیں اور البرٹا کے عوام کو چاہیے کہ آئندہ پارٹی اجلاس میں اس حمایت کو 100 فیصد تک پہنچائیں۔
آخر میں ریتھ نے کہا، ’’آج البرٹا کی آزادی کی تحریک کے لیے ایک تاریخی دن تھا۔ صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع قانون ساز اسمبلی کی سیڑھیوں پر منعقد ہوا۔ ہمیں امید ہے کہ آج کا پیغام ڈینیئل اسمتھ اور مارک کارنی، دونوں تک پہنچ گیا ہوگا ہم فیصلہ کر چکے ہیں، ہم آزاد ہیں۔‘‘