واشنگٹن، یکم نومبر 2025 امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنی اہلیہ اوُشا وینس کے مذہب سے متعلق اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے ردِعمل کو "مسیحیت مخالف تعصب” قرار دیا ہے۔ وینس نے کہا کہ ان کا اپنی اہلیہ کے عیسائیت قبول کرنے کی خواہش محض ایک ذاتی احساس ہے، کسی دباؤ کا اظہار نہیں۔
یہ بیان انہوں نے بدھ کے روز یونیورسٹی آف مسیسیپی میں ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے ایک پروگرام میں دیا، جو دائیں بازو کے مقتول کارکن چارلی کرک کی یاد میں منعقد ہوا تھا۔
وینس سے ایک سوال کیا گیا کہ وہ مختلف مذاہب پر مبنی شادی میں بچوں کی دینی تربیت کو کیسے دیکھتے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا:
“کیا میں چاہتا ہوں کہ میری اہلیہ بھی کبھی وہی روحانی جذبہ محسوس کرے جو میں نے چرچ میں کیا؟ ہاں، بالکل چاہتا ہوں۔ لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے، تو خدا نے سب کو اختیارِ ارادہ دیا ہے، اس لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں۔”
جے ڈی وینس نے 2019 میں کیتھولک مذہب اختیار کیا تھا، اور ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید سامنے آئی۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا:
“میری اہلیہ عیسائی نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے تبدیلی مذہب کا کوئی ارادہ ہے، لیکن جیسے اکثر مخلوط مذہبی شادیوں میں ہوتا ہے، میں امید کرتا ہوں کہ ایک دن وہ دنیا کو میری نظر سے دیکھ سکیں گی۔”
اوُشا وینس کی پیدائش سان ڈیاگو میں بھارتی نژاد والدین کے گھر ہوئی۔ وہ پہلے بھی کہہ چکی ہیں کہ ان کا ہندو پس منظر ان کے خاندان کو “بہتر انسان” بننے کی ترغیب دیتا ہے۔
یہ جوڑا ییل لا اسکول میں تعلیم کے دوران ملا اور 2014 میں شادی کی۔ وینس نے اپنی مذہبی وابستگی کو ہمیشہ اپنے قدامت پسند سیاسی نظریات کے ساتھ جوڑا ہے اور اکثر کہتے ہیں کہ مذہب امریکی ثقافتی احیاء کا بنیادی ستون ہے۔
وینس کے اس تازہ بیان نے امریکہ میں مذہب، شادی اور شناخت سے متعلق مباحث کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے، خصوصاً اس وقت جب انہیں 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ اہم امیدواروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔