Nigah

ایئر انڈیا طیارہ حادثہ؛ تحقیقات میں الزام تراشی جاری

ایئر انڈیا طیارہ حادثہ؛ تحقیقات میں الزام تراشی جاری nigah
[post-views]

ایئر انڈیا کے المناک حادثے کو پانچ ماہ گزر گئے، لیکن تحقیقات الزامات اور اختلافات کی نذر ہو گئی ہیں سپریم کورٹ بھی معاملے میں شامل ہو گئی۔

تقریباً پانچ ماہ قبل بھارت میں ہونے والے ایئر انڈیا فلائٹ 171 کے حادثے میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یہ پرواز 12 جون کو احمد آباد سے لندن کے لیے روانہ ہوئی تھی لیکن محض 32 سیکنڈ بعد ہی ایک عمارت سے ٹکرا گئی۔

جولائی میں جاری ہونے والی عبوری تحقیقاتی رپورٹ میں حادثے کی ذمہ داری طیارے کے پائلٹس پر ڈالی گئی،
لیکن ماہرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ رپورٹ نے طیارے کی ممکنہ فنی خرابی کو نظر انداز کیا ہے۔

گزشتہ روز بھارتی سپریم کورٹ کے ایک جج نے ریمارکس دیے کہ

“کسی کو بھی طیارے کے کیپٹن کو الزام نہیں دینا چاہیے۔”

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو نے ایک ہفتہ قبل ہی کہا تھا کہ

“طیارے میں کسی قسم کی تکنیکی خرابی نہیں تھی۔”


تحقیقات میں تضاد اور ذمہ داری کا سوال

حادثے کے بعد سے تحقیقات کے رخ پر اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔
ایک جانب ایئرلائن انتظامیہ پائلٹس کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے،
جبکہ دوسری جانب متاثرہ خاندان اور آزاد ماہرین طیارے کی مینٹیننس اور حفاظتی نظام پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ تحقیقات کا نیا مرحلہ شروع ہوگا،
تاہم اس وقت تک حادثے کی حقیقی وجہ اب بھی مبہم ہے۔


نتیجہ

پانچ ماہ گزرنے کے باوجود فلائٹ 171 کے حادثے پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے۔
جہاں ایک طرف پائلٹس کا دفاع کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف ایئرلائن کی شفافیت پر سوال کھڑے ہیں۔
بھارتی عوام اب یہ سوال کر رہے ہیں

“کیا انصاف ہوگا، یا یہ بھی ایک اور فائل بن کر بند ہو جائے گی؟”

اوپر تک سکرول کریں۔