آزاد کشمیر میں سیاست اور عوامی زندگی کی ایک پرانی حقیقت یہ ہے کہ احتجاج کبھی دباؤ کا ہتھیار بنتا ہے اور کبھی مجبور شہری کی آخری آواز۔ اس وقت بحث کا مرکز یہ ہے کہ حکومتِ آزاد کشمیر کہہ رہی ہے کہ بیشتر مطالبات پر عملی پیش رفت ہو چکی ہے، پھر بھی JAAC کی جانب سے احتجاجی کالز کا سلسلہ ٹوٹ نہیں رہا۔ تو سوال سادہ ہے، جب ادارہ جاتی سطح پر فیصلے ہو رہے ہوں، فائلیں چل رہی ہوں، اور بعض اقدامات سامنے آ چکے ہوں، تو کیا احتجاج اب بھی جائز اور مؤثر رہتا ہے، یا یہ ضد اور طاقت دکھانے کی سیاست بن جاتا ہے؟
حکومت کا موقف اپنی جگہ ایک منطق رکھتا ہے۔ اگر واقعی نرخوں میں کمی، سبسڈی کے فیصلے، یا دیگر بنیادی مطالبات پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے تو پھر عوام کو سکون ملنا چاہیے۔ حکومت یہ بھی کہہ سکتی ہے کہ مذاکرات کا راستہ کھلا ہے، کمیٹیاں بنی ہیں، اور ٹائم لائن طے کی جا رہی ہے۔ ایسی صورت میں بار بار کی ہڑتالیں اور دھرنے عام آدمی کی زندگی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ بازار بند ہوں تو مزدور کا دن ضائع ہوتا ہے۔ سڑکیں بند ہوں تو مریض ہسپتال نہیں پہنچتا۔ تعلیمی ادارے متاثر ہوں تو نقصان واپس نہیں آتا۔ اس لیے حکومت کا سوال اہم ہے کہ اگر کام ہو رہا ہے تو احتجاج کیوں؟
لیکن دوسری طرف عوامی اعتماد کا مسئلہ بھی کم اہم نہیں۔ ہمارے ہاں بہت سے وعدے کاغذ پر ہوتے ہیں اور زمین پر ان کا عکس کم دکھائی دیتا ہے۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ کچھ مطالبات مان لیے جاتے ہیں مگر ان کا طریقہ ایسا رکھا جاتا ہے کہ فائدہ دیر سے ملتا ہے یا ادھورا ملتا ہے۔ اسی لیے احتجاج کرنے والوں کی دلیل یہ ہو سکتی ہے کہ پیش رفت کا مطلب نتیجہ نہیں۔ اگر کوئی فیصلہ ہوا ہے تو اس کی اطلاع واضح ہونی چاہیے، اس کی تاریخ ہونی چاہیے، اور اس پر عمل کی نگرانی بھی ہونی چاہیے۔ جب تک یہ تین باتیں صاف نہ ہوں، تحریکیں ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔
یہاں اصل معاملہ توازن کا ہے۔ حکمرانی کا کام ہے مسئلے حل کرنا اور ریاستی نظام کو چلانا۔ احتجاج کا کام ہے کمزور کی آواز کو طاقت دینا۔ لیکن جب احتجاج مستقل معمول بن جائے تو وہ خود نظام کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے، اور جب حکمرانی صرف بیانات اور کمیٹیوں تک محدود رہ جائے تو احتجاج ناگزیر ہو جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ احتجاج اچھا ہے یا برا۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت اس کی ضرورت اور نسبت کیا ہے، اور اس کے اثرات کس پر پڑ رہے ہیں۔
JAAC کے بارے میں یہ خدشہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ کہیں وہ عوامی مفاد کے بجائے دباؤ کی سیاست کو ترجیح تو نہیں دے رہی۔ یہ الزام تب مضبوط ہوتا ہے جب تنظیم اپنے مطالبات کی فہرست میں ہر نئی پیش رفت کے بعد بھی کوئی واضح معیار نہیں دیتی کہ کس مقام پر احتجاج رکے گا۔ اگر مقصد واقعی عوامی سہولت ہے تو عوام کو بتایا جائے کہ کون سا وعدہ پورا ہوا، کون سا باقی ہے، اور باقی کے لیے حکومت کو کتنی مدت دی جا رہی ہے۔ جب قیادت یہ لکیر نہیں کھینچتی تو عام آدمی کنفیوژ ہوتا ہے، پھر وہ یا تو مکمل طور پر مایوس ہوتا ہے یا جذبات میں آ کر کسی بھی کال پر نکل پڑتا ہے۔ دونوں صورتیں خطرناک ہیں۔
ایک اہم سوال نیت کا نہیں، طریقہ کار کا بھی ہے۔ احتجاج کئی شکلوں میں ہو سکتا ہے۔ مکمل شٹر ڈاؤن اور سڑکوں کی بندش سب سے سخت طریقہ ہے، اور اس کا بوجھ بھی سب سے زیادہ عام شہری اٹھاتا ہے۔ اگر حکومت کے ساتھ بات چیت جاری ہے تو احتجاج کی شدت کم کی جا سکتی ہے۔ پرامن جلسے، ٹوکن دھرنے، میڈیا اور عدالت کے ذریعے فالو اپ، اور شفاف ڈیٹا کے ساتھ عوامی بریفنگ ایسے طریقے ہیں جو دباؤ بھی رکھتے ہیں اور شہری زندگی بھی مفلوج نہیں کرتے۔ اگر JAAC ہر بار آخری درجے کا طریقہ اپنائے گی تو پھر اس کی اخلاقی برتری کمزور ہوگی۔
حکومت کی ذمہ داری بھی دوگنی ہو جاتی ہے۔ اگر وہ واقعی پیش رفت کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے ثبوت کے ساتھ عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔ صرف یہ کہنا کہ کام ہو گیا، کافی نہیں۔ نوٹیفکیشن کہاں ہیں، فنڈ کہاں گیا، کس تاریخ کو کیا قدم اٹھا، اور اگلا قدم کب ہوگا، یہ سب صاف بتایا جائے۔ اور اگر کچھ مطالبات پورے نہیں ہو سکتے تو اس کی بھی وجہ سچائی سے بتائی جائے۔ حکومت اگر سچ بولے، ٹائم لائن دے، اور ہر ہفتے یا ہر پندرہ دن بعد عملدرآمد کی رپورٹ دے، تو احتجاج کا جواز خود بخود کم ہو جاتا ہے۔
اس ساری کشمکش میں اصل امتحان عوام کا ہے۔ عوام کو ریلیف چاہیے، عزت چاہیے، اور یہ یقین چاہیے کہ ان کی بات سنی جا رہی ہے۔ اگر احتجاج کا نتیجہ یہ نکلے کہ حکومت سنجیدہ ہو، تو یہ ایک مثبت نتیجہ ہے۔ لیکن اگر احتجاج کا نتیجہ یہ نکلے کہ معاشی سرگرمی رکے، مریض پھنسیں، اور لوگوں کے اندر مزید تقسیم پیدا ہو، تو پھر تنظیم کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ اسی طرح اگر حکومت صرف وقتی دباؤ کم کرنے کے لیے اعلان کر دے اور پھر فائلوں کو ٹھنڈا کر دے، تو پھر احتجاج دوبارہ بھی آئے گا اور زیادہ سخت شکل میں آئے گا۔
میرے نزدیک احتجاج اس وقت تک جائز ہے جب تک وہ واضح مطالبات، واضح معیار، اور واضح مدت کے ساتھ جڑا ہو۔ جب حکومتی اقدامات دکھائی دیں اور قابلِ پیمائش ہوں تو احتجاج کی شدت کم ہونی چاہیے، اور بات چیت کو مرکز میں آنا چاہیے۔ اگر JAAC واقعی عوامی مفاد کی ترجمان ہے تو اسے دباؤ کے ساتھ ساتھ ذمہ داری بھی دکھانی ہوگی، یعنی احتجاج کو مقصد نہیں، ذریعہ بنانا ہوگا۔ اور اگر حکومت واقعی حکمرانی کرنا چاہتی ہے تو اسے صرف عمل نہیں، اعتماد بھی پیدا کرنا ہوگا۔ اسی اعتماد میں وہ توازن ہے جہاں حکمرانی اور احتجاج ایک دوسرے کے دشمن نہیں رہتے، بلکہ عوام کے مسئلے کے حل کی دو مختلف زبانیں بن جاتے ہیں۔
Author
-
ڈاکٹر مجدد نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ تین ماسٹرز ڈگریوں اور اسٹریٹجک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں۔ وہ پاکستان ایئر فورس میں ۳۳ سال خدمات انجام دینے والے سابق کمیشنڈ آفیسر بھی رہ چکے ہیں۔
View all posts