Nigah

مکالمہ یا سڑک

[post-views]

سیاسی تاریخ میں ایک سوال بار بار لوٹ کر آتا ہے، کیا مسائل کا مستقل حل میز پر نکلتا ہے یا سڑک پر۔ اس سوال کی اصل آزمائش تب شروع ہوتی ہے جب حکومت مذاکراتی کمیٹیاں بنا دے، مسلسل رابطے کی پیشکش بھی کرے، اور پھر دوسری طرف سے اجلاسوں کا بائیکاٹ ہو۔ ایسے میں بحث صرف مطالبات کی نہیں رہتی، سیاسی سنجیدگی اور سیاسی بلوغت کی بھی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اگر آپ بات چیت کے دروازے پر دستک دیے بغیر ہی اسے بند سمجھ لیں تو پھر آپ خود بھی اسی بندش کے شریک ہو جاتے ہیں جس کی شکایت آپ کرتے ہیں۔

یہ ماننا ہوگا کہ احتجاج جمہوری حق ہے۔ کبھی کبھی یہی حق طاقتور حلقوں کو سننے پر مجبور کرتا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ احتجاج کا مطلب یہ نہیں کہ مکالمہ غیر ضروری ہو گیا۔ احتجاج اور مذاکرات دو الگ دنیائیں نہیں، کئی بار یہ ایک ہی حکمت عملی کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ احتجاج توجہ دلاتا ہے، مذاکرات حل نکالتے ہیں۔ اگر ایک پہلو کو مکمل طور پر چھوڑ دیا جائے تو نتیجہ شور تو ہو سکتا ہے، حل نہیں۔ اسی لیے جب حکومت کمیٹیاں بنا کر رسمی چینل کھولتی ہے تو اس چینل کو آزمانا سیاسی ذمہ داری بن جاتی ہے، خاص طور پر جب مطالبات عوامی مفاد سے جڑے ہوں۔

اب سوال یہ ہے کہ حکومت کی کمیٹی سازی اور رابطے کی پیشکش خود کتنی سنجیدہ ہے۔ پاکستان جیسے نظام میں کمیٹیوں کی کثرت کبھی کبھی تاخیر کا حربہ بھی بن جاتی ہے۔ لوگ یہ تجربہ رکھتے ہیں کہ فائلیں چلتی رہتی ہیں، وعدے دہرائے جاتے ہیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ مسئلے کی شدت کو نارمل بنا دیا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں کسی بھی اتحاد یا تحریک کی بے اعتمادی سمجھ میں آتی ہے۔ مگر بے اعتمادی کا علاج صرف بائیکاٹ نہیں، بہتر علاج یہ ہے کہ آپ میز پر بیٹھیں، بات ریکارڈ پر لائیں، ٹائم لائن مانگیں، اور پھر عوام کے سامنے واضح کریں کہ کون کس مقام پر رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ مذاکرات میں شرکت کا مطلب سرنڈر نہیں ہوتا، یہ اپنے مؤقف کو ادارہ جاتی شکل دینا ہوتا ہے۔

یہاں JAAC کے رویے پر سوال اسی لیے اٹھتا ہے کہ اجلاسوں کا بائیکاٹ ایک تاثر بناتا ہے، کہ شاید تنظیم کا اصل ہدف حل نہیں بلکہ دباؤ برقرار رکھنا ہے۔ دباؤ بھی کبھی کبھی ضروری ہوتا ہے، مگر جب دباؤ مستقل حکمت عملی بن جائے اور مکالمہ ثانوی ہو جائے تو تحریک کی سمت دھندلا جاتی ہے۔ پھر قیادت کے سامنے ایک سخت سوال کھڑا ہوتا ہے، کیا آپ اپنے حامیوں کو نتائج کی طرف لے جا رہے ہیں یا صرف جذبات کی طرف۔ سیاسی بلوغت کا مطلب یہی ہے کہ آپ سڑک کی طاقت کو میز کے فائدے میں بدلنا جانیں۔

مذاکرات کی طاقت یہ ہے کہ وہ مسئلے کو اصول اور معاہدے کی زبان دیتے ہیں۔ جب مطالبات تحریری شکل میں آتے ہیں تو حکومت کے لیے پیچھے ہٹنا آسان نہیں رہتا، اور عوام کے لیے یہ سمجھنا آسان ہوتا ہے کہ اصل تنازع کیا ہے۔ اس کے برعکس، اگر سارا زور احتجاجی دباؤ پر ہو تو معاملہ زیادہ جذباتی ہو جاتا ہے، اور حکومت بھی اسے نظم و ضبط اور امن و امان کے فریم میں ڈال کر سیاسی سوال کو انتظامی مسئلہ بنا دیتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل مطالبہ پیچھے چلا جاتا ہے اور سامنے سڑک بند ہونے، ٹریفک رکنے، یا تصادم کے مناظر آ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال اکثر حکمرانوں کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے، کیونکہ وہ اصل سوال سے بچ نکلتے ہیں۔

اس کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ بائیکاٹ کبھی کبھی ایک پیغام ہوتا ہے کہ پیشکش محض دکھاوا ہے۔ اگر JAAC کے پاس ٹھوس شواہد ہیں کہ کمیٹیاں بے اختیار ہیں، فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں، یا پہلے کیے گئے وعدے توڑے گئے ہیں تو پھر بائیکاٹ ایک دباؤ کی شکل بن سکتا ہے۔ مگر پھر بھی سیاسی حکمت یہ کہتی ہے کہ آپ بائیکاٹ کو آخری قدم رکھیں، پہلا نہیں۔ پہلے آپ شرائط طے کریں، ایجنڈا لکھوائیں، نمائندگی کی سطح واضح کریں، اور یہ بھی طے کریں کہ فیصلے کب اور کیسے ہوں گے۔ اگر حکومت یہ کمٹمنٹ دینے سے انکار کرے تو پھر بائیکاٹ زیادہ وزن رکھتا ہے، کیونکہ آپ نے ثابت کر دیا کہ مسئلہ ضد نہیں، اختیار اور نیت کا ہے۔

اب اصل سوال، کیا مسائل کا پائیدار حل بات چیت سے نکل سکتا ہے یا احتجاجی دباؤ سے۔ جواب سادہ ہے، پائیدار حل بات چیت سے نکلتا ہے، اور بات چیت اکثر دباؤ کے سائے میں ہی ممکن ہوتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ دباؤ کو مقصد نہ بنائیں، اسے راستہ بنائیں۔ جب دباؤ مقصد بن جاتا ہے تو تحریک مسلسل اسٹیج، مسلسل ردعمل، اور مسلسل ٹکراؤ میں پھنستی رہتی ہے۔ جب دباؤ راستہ بنتا ہے تو آپ اسے ایک واضح معاہدے تک پہنچا کر ختم بھی کر سکتے ہیں، اور یہی پائیداری ہے۔

JAAC کا موجودہ رویہ مذاکرات کو مضبوط کر رہا ہے یا کمزور۔ اگر وہ اجلاسوں کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ واضح شرائط، واضح مطالبات، اور واضح ٹائم لائن عوام کے سامنے رکھ رہا ہے تو وہ حکومت پر دباؤ بڑھا کر مذاکرات کی ساکھ بہتر بھی بنا سکتا ہے۔ مگر اگر بائیکاٹ صرف ایک عمومی نعرہ ہے، اور کوئی متبادل میکانزم نہیں دیا جا رہا، تو پھر یہ موقف کمزور ہوتا ہے۔ کیونکہ عوام آخر کار نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں، مستقل احتجاج تھکا دیتا ہے، اور تھکن کے بعد تحریکیں بکھرنے لگتی ہیں۔

اسی لیے سیاسی بلوغت کا تقاضا یہ ہے کہ JAAC احتجاج کو نظم کے ساتھ رکھے، مگر مذاکرات کے دروازے کو اصولوں کے ساتھ کھلا رکھے۔ حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ کمیٹی صرف نام کی نہ ہو، اختیار ہو، وعدہ پورا کرنے کی صلاحیت ہو، اور فیصلہ سازی کی ٹائم لائن ہو۔ اگر دونوں طرف یہ سنجیدگی آ جائے تو سڑک کا شور بھی کم ہوگا، اور میز پر بات بھی آگے بڑھے گی۔ ورنہ نقصان دونوں کا ہے، حکومت کی ساکھ بھی کمزور ہوگی، اور تحریک کی اخلاقی قوت بھی۔

بالآخر سیاست کی پختگی اسی میں ہے کہ آپ اختلاف کو معاہدے میں بدل سکیں۔ سڑک آپ کو طاقت دکھاتی ہے، میز آپ کو راستہ دیتی ہے۔ جو قیادت دونوں کو ایک ساتھ چلانا جانتی ہے، وہی نتیجہ نکالتی ہے، باقی صرف منظر بناتی ہے۔

Author

  • ڈاکٹر حمزہ خان

    ڈاکٹر حمزہ خان نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، اور یورپ سے متعلق عصری مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور لندن، برطانیہ میں مقیم ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔